جھمپیر نیچر بچاؤ مہم کے تحت مقامی افراد 18 برس سے جنگلات، پرندوں، تتلیوں اور جنگلی حیات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔
شبیر رخشانی

“ہم پہلے شکاری تھے۔ ہماری میزبانی میں بڑے بڑے شکاری یہاں، خاص طور پر تیتر کے شکار کے لیے آیا کرتے تھے۔ پھر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نمائندے جہانگیر درانی آئے، مگر شکار کے لیے نہیں بلکہ ہمیں یہ سمجھانے کہ فطرت کو نقصان نہیں پہنچانا، بلکہ اس کی حفاظت کرنی ہے۔”
یہ بات گوٹھ نبی بخش پالاری، جھمپیر کے رہائشی کمال پالاری اپنی بیٹھک کے سامنے نیم کے گھنے درخت کے سائے تلے بتا رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں، “ہمیں اس راستے پر لانے میں انہیں کافی وقت لگا۔ انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ آخرکار ایک دن ایسا آیا جب ہم شکاری سے نیچر کے محافظ بن گئے۔”
کمال پالاری اور ان کی ٹیم گزشتہ 18 برس سے فطرت کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ ان کا اوطاق قدرتی حسن کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ ہر طرف درخت، پھولوں کی خوشبو اور پرندوں کی چہچہاہٹ ماحول کو دلکش بنا دیتی ہے۔

تتلیوں کے مسکن کی تعمیر
میرا جھمپیر آنے کا بنیادی مقصد کمیونٹی ریزرو زون میں قائم کیے گئے تتلیوں کے مسکن کا جائزہ لینا تھا۔
پاکستان بٹرفلائی سوسائٹی نے 2023 میں یہاں کام کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کی نگرانی ظفیر شیخ کر رہے ہیں۔
ان کی قیادت میں میں، ملیر کے نیچر دوست ساتھی اور فوٹوگرافر سلمان بلوچ اور واجہ صادق جھمپیر پہنچے۔
ظفیر شیخ کراچی سے مختلف پھولدار پودے اور کنکریوں کا ایک تھیلا بھی ساتھ لائے تھے۔
واجہ صادق نے مسکراتے ہوئے کہا، “کراچی میں ہر چیز بکتی ہے، یہاں تک کہ یہ کنکریاں بھی۔”
ظفیر نے ان کی بات کی تصدیق کی تو مجھے اپنے گاؤں کی ندی یاد آگئی، جہاں رنگ برنگے پتھر اور کنکریاں مون سون کی بارشوں کے بعد مزید خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔
اسی لمحے مجھے اداکار عرفان خان کی ایک بات یاد آئی۔
“ہم بچپن میں جب پتھر اٹھا کر پھینکتے تھے تو ہماری والدہ کہتی تھیں، انہیں مت پھینکو، ان میں بھی جان ہوتی ہے۔”
یہ جملہ آج بھی فطرت سے تعلق کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔

مقامی نرسری اور قدرتی مسکن
کمیونٹی ریزرو زون کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں ایک چھوٹی نرسری بھی قائم کی گئی ہے۔
اس میں مقامی اقسام کے پودے اگائے جا رہے ہیں۔
ظفیر شیخ نے بتایا کہ اب وہ کراچی سے صرف موسمی پھول لاتے ہیں، باقی ضرورت یہی نرسری پوری کرتی ہے۔
یہاں ایک چھوٹا تالاب بھی بنایا گیا ہے، جو کچھوؤں اور مینڈکوں کا قدرتی مسکن بن چکا ہے۔
اس روز بادل چھائے ہوئے تھے، اس لیے تتلیاں بہت کم دکھائی دیں۔ مقامی افراد کے مطابق تتلیاں سورج کی روشنی میں زیادہ سرگرم ہوتی ہیں۔

جنگل کی سیر اور قدرتی علم
چائے کے بعد سلمان بلوچ، ظفیر شیخ اور واجہ صادق جنگل کی جانب روانہ ہوئے۔
ہمارے ساتھ ہارون پالاری بھی شامل ہوگئے۔
ہارون پالاری کو جنگلی پودوں، جڑی بوٹیوں اور درختوں کے بارے میں غیر معمولی معلومات حاصل تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ساون کے موسم میں یہ جنگل رنگ برنگے پھولوں سے بھر جاتا ہے۔ اس کی تصدیق کے لیے انہوں نے اسی موسم کی تصاویر بھی دکھائیں۔
ہم نے مختلف جنگلی پودوں کے بیج جمع کیے اور موبائل فون کے ذریعے ان کی تصاویر آئی نیچرلسٹ پر محفوظ کرتے رہے۔
سانپ کی محفوظ واپسی
بعد ازاں ہم کھینجر جھیل کی طرف روانہ ہوئے۔
ظفیر شیخ اپنے ساتھ ایک سانپ بھی لائے تھے، جسے سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ نے ریسکیو کیا تھا۔
انہوں نے رضاکارانہ طور پر اسے مناسب قدرتی ماحول میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ سانپ سے متعلق خوف میرے دل میں بھی موجود تھا، لیکن پہلی بار میں نے ایک سانپ کو انسانی ہاتھوں سے محفوظ طریقے سے قدرتی ماحول میں واپس جاتے دیکھا۔
سانپ کو امیر پیر کے جنگل میں چھوڑنے کے بعد ہم شام تقریباً پانچ بجے کمال پالاری کے اوطاق واپس پہنچے، جہاں نیم کے درخت کے نیچے دوپہر کا کھانا کھایا۔

رات کا جنگل اور قدرت کے راز
میرا خیال تھا کہ اب دن ختم ہو چکا ہے، مگر سلمان بلوچ اور واجہ صادق نے کہا کہ اصل کہانی ابھی باقی ہے۔
رات ہوتے ہی ہم دوبارہ جنگل کی طرف روانہ ہوئے۔
آدو والی پہاڑی پر پہنچ کر پورا جھمپیر دکھائی دے رہا تھا۔
ہر طرف ونڈ ملز کی سرخ وارننگ لائٹس چمک رہی تھیں۔
دن کے وقت یہی پنکھے تیز ہوا میں گھومتے ہیں، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ بجلی پیدا کرنے والی اس سرزمین کے کئی مکین اب بھی بنیادی بجلی کی سہولت سے محروم دکھائی دیے۔
ان تاریک بستیوں کو دیکھ کر دل اداس ہوا، لیکن اگلے ہی لمحے جنگل کی خاموشی اور آزاد فضا نے اس احساس کو بدل دیا۔
بلوچستان کے حالات ذہن میں آئے تو محسوس ہوا کہ جھمپیر کے لوگوں کو قدرت کے ساتھ آزاد لمحے گزارنے کی کتنی بڑی نعمت حاصل ہے۔
ہمارے ہاتھوں میں ٹارچیں تھیں اور کیمرے تیار تھے۔
رات بھر کی تلاش میں ہمیں کئی بچھو، مختلف اقسام کی چھپکلیاں اور دوسرے چھوٹے جاندار دیکھنے کو ملے۔
واقعی، قدرت نے اس کائنات میں بے شمار پراسرار راز سمو رکھے ہیں، جنہیں وہی سمجھ سکتا ہے جو فطرت کو قریب سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
گرین سندھ فاؤنڈیشن: شجرکاری سے سرسبز سندھ کا عزم
جنوبی کوریا میں ایک صدی بعد گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے
واپسی کا سفر
واپسی پر دوست پروانوں کی عکس بندی کرنا چاہتے تھے۔
اس مقصد کے لیے روشنی کے گرد سفید چادر لگائی گئی، مگر بڑھئی چیونٹیوں نے اس پر قبضہ جما لیا اور پروانوں کے لیے جگہ کم رہ گئی۔
رات بھر کی تھکن کے بعد چارپائی پر لیٹتے ہی نیند آ گئی۔
صبح سویرے سلمان بلوچ نے سب کو جگایا۔
اس وقت پورا جھمپیر سو رہا تھا۔
روانگی سے پہلے ظفیر شیخ نے ایک آخری کام کیا۔
انہوں نے ڈبے میں محفوظ مچھلیوں کو سوڑھ ندی میں آزاد کیا اور یوں یہ یادگار سفر فطرت کے نام ایک اور خوبصورت عمل کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

