موسمیاتی بحران پر مؤثر اقدامات کے لیے اسٹاک ہوم میں 10 ہزار افراد نکل آئے، گریٹا تھنبرگ نے پالیسیوں کو ناکافی قرار دے دیا۔
فروزاں رپورٹ
سویڈن میں عام انتخابات سے چند ہفتے قبل تقریباً 10 ہزار افراد نے اتوار کو دارالحکومت اسٹاک ہوم میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر اور فوری اقدامات کے مطالبے کے لیے احتجاجی ریلی نکالی۔
معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی احتجاج میں شریک ہوئیں۔ مظاہرے کے منتظمین نے حکومت پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق پالیسیوں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا اور سیاست دانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سویڈن کے موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے تیز رفتار اقدامات کریں۔
مظاہرین نے انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف احتجاج کیا۔ 21 سالہ طالب علم کلف لنڈبرگ نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اس مسئلے پر جمع ہوتے دیکھ کر انہیں حوصلہ ملا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ اس مسئلے سے فکر مند ہیں۔ اتنی بڑی شرکت مجھے بہت طاقت دیتی ہے اور میرے خیال میں یہ منظر بہت خوبصورت ہے۔‘‘

سویڈن کے موسمیاتی اہداف خطرے میں
بیرون ملک اور سویڈن کے ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کی موسمیاتی پالیسیاں ملک کے اخراج میں کمی کے اہداف کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
سویڈن نے 2030 تک ٹرانسپورٹ کے شعبے سے ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو 2010 کی سطح کے مقابلے میں 70 فیصد کم کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ ملک 2045 تک خالص صفر اخراج حاصل کرنے کا بھی خواہش مند ہے۔
2022 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم الف کرسٹرسن کی دائیں بازو کی حکومت نے پیٹرول پر ٹیکس میں کمی کی۔ حکومت نے ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے اپنے ایندھن میں کم کاربن متبادل شامل کرنے کی لازمی شرائط بھی نرم کر دیں۔
حکومت نے ایک کمیشن کی سفارشات کو بھی مسترد کر دیا۔ ان سفارشات میں 2030 کے ہدف کے حصول کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس بڑھانے اور فوسل فیول کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

گریٹا تھنبرگ کا سخت انتباہ
سویڈن میں 13 ستمبر کو نئے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دائیں بازو کا اتحاد اس وقت پیچھے چل رہا ہے۔
دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ہونے والی اس ریلی کا انعقاد نوجوانوں اور کھیلوں کی تنظیموں، مزدور یونینوں، دیہی انجمنوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے مشترکہ طور پر کیا۔
سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی مظاہرے میں شریک ہوئیں۔
گریٹا تھنبرگ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن میں کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی پالیسی پیش نہیں کر رہی جو موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے سائنس کی سفارشات کے قریب بھی ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ طرز عمل جاری رہا تو دنیا کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تباہی کے آثار پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
انکار سے پروپیگنڈے تک: کریملن کا نیا موسمیاتی ہتھیار
مٹی، کسان اور بیج کا رشتہ تباہی اور بربادی کے دھانے پر
’’موسمیاتی بحران بالکل حقیقی ہے‘‘
سویڈن کے سرکاری نشریاتی ادارے ایس وی ٹی کے لیے ویریان کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 37 فیصد افراد نے موسمیاتی تبدیلی کو انتخابات کے اہم ترین مسائل میں شامل قرار دیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کی مسابقت اور کمپنیوں کے مفادات کو برقرار رکھنے کے لیے فوسل فیول کا مرحلہ وار خاتمہ ضروری ہے۔
تاہم، مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے بغیر سویڈن اپنے موسمیاتی اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔
سویڈش سوسائٹی فار نیچر کنزرویشن کی سربراہ بیٹریس رِنڈیوال نے کہا کہ ’’موسمیاتی بحران بالکل حقیقی ہے اور اب ہمارے سامنے موجود ہے۔‘‘
انہوں نے یورپ میں رواں موسم گرما کے دوران آنے والی تباہ کن گرمی کی لہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی موسمیاتی پالیسیاں نافذ کی جائیں جو فوری طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائیں۔

