Environmental Reports Farozaan

ماحولیاتی تبدیلی کی صحافت مضبوط بنانے کے لیے پی آئی ڈی کی تربیتی ورکشاپ

PID Training Workshop to Strengthen Climate Change Journalism

ماحولیاتی تبدیلی: ماہرین کی جانب سے موسمیاتی سائنس، کلائمیٹ فنانس، آفات سے بچاؤ اور شہری منصوبہ بندی پر صحافیوں کو تربیت

اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ماتحت پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) نے انفارمیشن سروسز اکیڈمی (آئی ایس اے) اسلام آباد میں ’’ماحولیاتی تبدیلی کی صحافت کو مضبوط بنانے‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ استعدادِ کار بڑھانے کی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔

ورکشاپ کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو جدید معلومات، عملی مہارتوں اور ماہرین کی آراء سے آگاہ کرنا تھا۔ اس کا مقصد پاکستان میں موسمیاتی رپورٹنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانا بھی تھا۔

تربیتی پروگرام میں ملک بھر سے اخبارات، ٹی وی چینلز، ڈیجیٹل میڈیا اور دیگر میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مختلف اہم موضوعات پر سیشنز دیے۔

ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق مختلف موضوعات پر سیشنز

ورکشاپ کے دوران ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مختلف اہم موضوعات پر سیشنز دیے۔

آل پاکستان جیو سائنٹسٹس ایسوسی ایشن (اے پی جی ایس اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عادل نذیر نے کمیونٹی کی سطح پر آفات سے بچاؤ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (جی سی سی آئی ایس سی) کے سینئر سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر شوکت علی نے موسمیاتی سائنس میں حالیہ پیش رفت پر گفتگو کی۔ انہوں نے سائنسی معلومات کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی۔

ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (اے آئی ای آر ڈی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شکیل رامے نے شہری نظم و نسق اور پائیدار شہری منصوبہ بندی پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر اظہارِ خیال کیا۔

پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (پی سی سی اے) کے رکن برائے کلائمیٹ فنانس ڈاکٹر ایم رفیق نے موسمیاتی مالیاتی نظام اور موسمیاتی مزاحمت بڑھانے میں اس کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ورکشاپ کا اختتام میڈیا اینڈ سکیورٹی ریسرچ آرگنائزیشن (ماسرو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غیاث اکرم کی جانب سے موسمیاتی رپورٹنگ کی عملی مشقوں کے سیشن سے ہوا۔

مہمانانِ خصوصی نے تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

اختتامی تقریب اور اسناد کی تقسیم

اختتامی تقریب میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر رائسہ عادل نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

تقریب میں انفارمیشن سروسز اکیڈمی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ثمینہ فرزین اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر جنرل عائشہ تصدق بھی موجود تھیں۔

مہمانانِ خصوصی نے تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

مہمانانِ خصوصی نے تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

حقائق پر مبنی صحافت انسانی جانیں بچا سکتی ہے، رائسہ عادل

اختتامی خطاب میں رائسہ عادل نے کہا کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی صحافت کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام تک بروقت، درست اور مستند معلومات پہنچائیں۔

رائسہ عادل کے مطابق حقائق پر مبنی اور ذمہ دارانہ صحافت موسمیاتی آفات کے دوران انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لیے میڈیا، حکومتی اداروں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے درمیان مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جھمپیر نیچر بچاؤ مہم: شکاریوں سے فطرت کے محافظ بننے کی منفرد داستان

گرین سندھ فاؤنڈیشن: شجرکاری سے سرسبز سندھ کا عزم

ان کا کہنا تھا کہ باہمی تعاون سے عوامی آگاہی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی کوششوں کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

ورکشاپ کا اختتام ملک میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق معیاری صحافت کے فروغ کے عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔

اپنا تبصرہ لکھیں