انکار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کریملن نے موسمیاتی تبدیلی کو یورپی یونین مخالف پروپیگنڈے اور روسی مفادات کا نیا ہتھیار بنا لیا۔
فروزاں رپورٹ
موسمیاتی تبدیلی کبھی کریملن کے پروپیگنڈے کا اہم موضوع نہیں تھی۔ اس کا شاذونادر ہی ذکر کیا جاتا تھا اور جب ہوتا بھی تھا تو اکثر مضحکہ خیز دعووں یا کھلے انکار کے ساتھ۔
تاہم، جیسے جیسے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا گیا، جن میں خود روس کے اندر ہونے والے اثرات بھی شامل ہیں، کریملن نواز ذرائع ابلاغ نے بڑی حد تک اس کے وجود سے انکار کرنا چھوڑ دیا۔
اب کریملن نے موسمیاتی تبدیلی کو اپنے غلط معلومات کے پورے نظام کا حصہ بنا لیا ہے۔ یعنی مسئلے کے وجود سے انکار کرنے کے بجائے اب اس کے حل کے لیے تجویز کردہ اقدامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کریملن کی جانب سے پھیلائے جانے والے تازہ موسمیاتی بیانیوں میں ماحولیاتی تبدیلی کو پرانے اور مانوس پروپیگنڈا بیانیوں کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ان میں یورپی یونین کی مبینہ آمریت اور منافقت، روس پر پابندیوں کے باعث یورپ کی مبینہ خود ساختہ معاشی تباہی، اور یہ دعویٰ شامل ہے کہ یورپ کے پاس سستے تیل اور گیس کے فراہم کنندہ کے طور پر روس سے تعلقات بحال کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

یورپی یونین کی ’’گرین آمریت‘‘
روس کی جانب سے بیرونی معلوماتی ہیرا پھیری اور مداخلت، جسے ایف آئی ایم آئی کہا جاتا ہے، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق غلط معلومات پھیلانے کا ایک نمایاں ذریعہ بن چکی ہے۔
ماسکو سے منسلک نیٹ ورکس سوشل میڈیا کے ذریعے توانائی اور موسمیاتی پالیسیوں سے متعلق گمراہ کن بیانیوں کو فروغ دیتے ہیں۔
ان کا مقصد یورپی یونین مخالف پیغام رسانی کو تقویت دینا اور یورپی اداروں اور ان کی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔
کریملن نواز اطلاعاتی نیٹ ورکس کا ایک خطرناک طریقہ یہ ہے کہ موسمیاتی پالیسیوں کو خفیہ کنٹرول کے ہتھیار کے طور پر پیش کیا جائے۔
یورپی یونین کی مبینہ ’’مطلق العنان فطرت‘‘ کریملن کے مستقل اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والے بیانیوں میں شامل ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے منظور کیے جانے والے نئے قوانین اور ضوابط کو اکثر آمریت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ موسمیاتی اور توانائی سے متعلق پالیسیاں بھی اسی بیانیے میں شامل کر دی گئی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور توانائی کی بچت کے اقدامات کو نگرانی، انفرادی آزادیوں پر حملے اور نجی ملکیت کے خلاف اقدامات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر بجلی کی طلب کو منظم کرنے والی اسمارٹ ٹیکنالوجی کو ریاستی کنٹرول کا ایسا آلہ قرار دیا جاتا ہے جسے برسلز عام شہریوں کی بجلی محدود کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
اس پروپیگنڈے کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے ہر نئی ضابطہ سازی آمریت کی جانب ایک قدم ہے، جس سے جمہوری اداروں پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔

روس کے نیچے چھپا خطرناک موسمیاتی بم
روس خود ایک ایسے موسمیاتی بم پر بیٹھا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔
نصف سے زیادہ روسی رقبے پر پرمافراسٹ موجود ہے، یعنی ایسی زمین جو طویل عرصے تک منجمد رہتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ زمین پگھل رہی ہے، جس سے عمارتوں، ریلوے لائنوں اور گیس پائپ لائنوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پرمافراسٹ کے پگھلنے سے بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں، جو عالمی حدت کو مزید تیز کرتی ہیں۔
اندازوں کے مطابق، پگھلتی ہوئی پرمافراسٹ سے 240 گیگاٹن تک کاربن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین کی صورت میں فضا میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس سے عالمی حدت میں اضافے کا ایک خودکار اور مسلسل سلسلہ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔
روسی حکام بظاہر اس خطرے سے آگاہ ہیں، خاص طور پر پرمافراسٹ کی بالائی تہوں کے پگھلنے سے ہونے والے بھاری معاشی نقصانات سے۔
زمین کی بنیادوں میں تبدیلی نئی سڑکوں کی تعمیر کو مشکل بنا رہی ہے اور موجودہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
روس کی اہم تیل اور گیس کی صنعتیں بھی اس خطرے سے خاص طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔
چند سال قبل نورلسک کے قریب پگھلتی ہوئی پرمافراسٹ نے ایک ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینک کی بنیاد کو کمزور کر دیا تھا۔
اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ایندھن پھیل گیا اور قریبی آبی گزرگاہیں آلودہ ہوئیں۔
یہ اس قسم کی تکنیکی اور ماحولیاتی تباہیوں کی ایک مثال تھی جن کا روس کو مستقبل میں بڑھتی ہوئی تعداد میں سامنا ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود روسی حکومت ملک کی آمدنی کے بنیادی ذریعہ کے طور پر فوسل فیول کی پیداوار پر انحصار برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب کریملن نواز ذرائع ابلاغ یورپ کی جانب سے توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوششوں کو معاشی خودکشی قرار دیتے ہیں۔
یورپی یونین کے موسمیاتی ایجنڈے کو بھی اکثر ’’معاشی خودکشی‘‘ قرار دے کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یورپ سبز نظریات کی خاطر اپنی خوشحالی قربان کر رہا ہے اور معاشی جمود کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یورپ کے لیے قیامت، روس کے لیے موقع؟
دوسری جانب کریملن موسمیاتی تبدیلی کو خوف پھیلانے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔
ان بیانیوں میں موسمیاتی دباؤ اور اس کے ممکنہ نتائج کو انتہائی تباہ کن انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
پینے کے پانی پر جنگوں، خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافے اور آرکٹک گلیشیئرز کے پگھلنے کے بعد یورپی ساحلوں پر عجیب و غریب بیکٹیریا کے پھیلاؤ جیسے خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس موسمیاتی تبدیلی کو روس کے لیے ایک موقع کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔
کریملن نواز ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ پگھلتی ہوئی پرمافراسٹ سائبیریا کو ’’مستقبل کی سرزمین‘‘ بنا دے گی اور اسے ایک خوشحال خطے میں تبدیل کر دے گی۔
اس بیانیے میں عالمی حدت باقی دنیا کے لیے خطرہ ہے، جبکہ روس کو مستقبل کی ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
روس کو ایک ایسی ریاست کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو ان لوگوں کے لیے خوشحالی کا وعدہ کرتی ہے جو اس کی اقدار سے اتفاق رکھتے ہیں۔
یورپ روسی توانائی کے بغیر نہیں چل سکتا؟
ان تباہ کن پیش گوئیوں کے ساتھ ایک اور پرانا کریملن نواز دعویٰ بھی مسلسل دہرایا جاتا ہے کہ یورپ سستی روسی توانائی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
جب سے یورپی یونین نے روسی توانائی کی درآمدات مرحلہ وار ختم کرنا شروع کیں، روس کے توانائی کے شعبے پر پابندیاں عائد کیں اور اس کے مبینہ شیڈو فلیٹ کو نشانہ بنایا، اس بیانیے کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے۔
روسی سرکاری میڈیا اور کریملن نواز ذرائع اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ گیس کے کم ذخائر کے باعث یورپ کو ایسی سردیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب گھروں کو گرم رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
یہ بیانیہ یورپی یونین میں توانائی کے تحفظ سے متعلق جاری بحث کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔
ایسی غلط معلومات ان ممالک کو بھی نشانہ بناتی ہیں جو یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتے ہیں۔
مثال کے طور پر آرمینیا میں کریملن نواز ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یورپی انضمام کے نتیجے میں روسی گیس کی ترجیحی قیمتیں ختم ہو جائیں گی اور گھریلو توانائی کے اخراجات میں 350 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
حالیہ ہیٹ ویو کے دوران ایف آئی ایم آئی ذرائع نے یورپ میں ایئر کنڈیشننگ کی کمی کو ’’بقا کے خلاف بیوروکریسی‘‘ قرار دیا۔
روسی حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یورپی یونین اور برطانیہ کے پاس ایئر کنڈیشنرز چلانے کے لیے توانائی نہیں، کیونکہ انہوں نے روسی توانائی کی فراہمی کو مسترد کر دیا ہے۔
پروپیگنڈا اور روس، دونوں کا ایندھن ختم ہونے لگا
تاہم، کریملن کی پروپیگنڈا مشین اب خود کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
روس کا اپنا ایندھن بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
یوکرینی حملوں کے نتیجے میں تیل صاف کرنے والی تنصیبات اور بحری ایندھن کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد روسی حکام نے اندرون ملک ایندھن کی فراہمی کو مستحکم کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی۔
ایندھن کی کمی کے باعث کئی پیٹرول پمپس بند ہو چکے ہیں، جبکہ جو کھلے ہیں وہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
اس بحران کے اثرات اسپتالوں اور فائر بریگیڈ جیسی ضروری خدمات تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
یہ ایک تلخ ستم ظریفی ہے کہ جو ملک طویل عرصے سے سستی روسی توانائی سے محرومی کے باعث یورپ کی معیشت کے جلد تباہ ہونے کی پیش گوئی کرتا رہا، اب خود اسی قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور سپلائی میں رکاوٹیں اب روس کی اپنی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
اس نئی حقیقت میں کریملن کے بیانیے ایک طرح کی ’’پروجیکشن‘‘ دکھائی دیتے ہیں، یعنی روس اپنے مسائل کو یورپ کے مسائل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
تاہم، یہ بحران روس کے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے اور اس کے حل کے لیے مضمون کے مطابق سب سے واضح راستہ یوکرین کے خلاف جنگ کا خاتمہ ہے۔

