بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری اور ہمارے مستقبل کا اہم سوال
ڈاکٹر شہزادہ ارشاد محمد

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مٹی، کسان اور بیج کا رشتہ محض معیشت کا نہیں بلکہ ایک مقدس تہذیبی تعلق کا نام رہا ہے۔ بیج کسان کی مٹھی میں موجود اگلی نسل کی امانت تھا۔ وہ زمین کی کوکھ سے جنم لیتا، اسی مٹی کے مزاج کو اپناتا اور اگلی رت میں نئی زندگی کا پیغام بن کر دوبارہ نمودار ہوتا۔
لیکن اکیسویں صدی کی مادی یلغار نے قدرت کے اس خوبصورت اور فطری نظام میں ایسی جینیاتی مداخلت کی ہے جس نے بیج کے صدیوں پرانے تشخص کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ سائنس کی اصطلاح میں اسے جی ایم او، یعنی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جاندار کہا جاتا ہے۔
آج یہ بحث محض سائنسی تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ بین الاقوامی سیاست، کارپوریٹ اجارہ داری اور تیسری دنیا کی بقا کا ایک نہایت حساس معاملہ بن چکی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک ایک عجیب دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف سبز انقلاب اور بھوک مٹانے کے دلکش نعرے ہیں، جبکہ دوسری جانب معاشی انحصار اور حیاتیاتی خطرات کے گہرے سائے موجود ہیں۔

عالمی تناظر: بائیو ٹیکنالوجی کا عروج اور کارپوریٹ سائے
جینیاتی تبدیلی کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ بیج فصلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچاتے ہیں، جڑی بوٹی مار ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں اور بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات میں زیادہ پیداوار کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسی بنیاد پر امریکا، برازیل اور ارجنٹائن جیسے وسیع زرعی رقبے رکھنے والے ممالک میں جی ایم او سویا بین اور مکئی کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جا رہی ہے۔
لیکن اس سکے کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ ان بیجوں پر چند بڑی کثیر القومی کمپنیوں، جیسے بائر اور کارٹیوا، کا غلبہ ہے۔ پیٹنٹ قوانین کے تحت بعض صورتوں میں کسان اگلے سال کی کاشت کے لیے بیج محفوظ یا دوبارہ استعمال نہیں کر سکتا اور اسے ہر فصل کے لیے کمپنی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
یہ صورتحال تیسری دنیا کے لیے زرعی خودمختاری کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔
عالمی سطح پر اس وقت واضح تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طرف کثیر القومی کمپنیوں کی حمایت کرنے والے ممالک ہیں، جبکہ دوسری طرف یورپی یونین جیسے خطے ہیں، جہاں جی ایم او سے متعلق سخت ضابطے اور پابندیاں نافذ ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کا تدارک: علاقائی بیداری کی مثالیں
تیسری دنیا کے وہ ممالک جو اپنی زرعی خودمختاری اور مقامی بیجوں کے تحفظ کو اہم سمجھتے ہیں، مختلف سطحوں پر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کے استعمال اور کاشت کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ترکیہ
ترکیہ نے بائیو سیفٹی سے متعلق سخت قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔ وہاں انسانی خوراک کے لیے جی ایم او فصلوں کی کاشت اور استعمال پر سخت پابندیاں اور ضابطے موجود ہیں، جبکہ خلاف ورزی پر سزاؤں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
بھارت اور چین
ہمارے پڑوس میں بھارت اور چین نے کپاس جیسی غیر غذائی فصلوں میں کسی حد تک جینیاتی تبدیلی کو قبول کیا ہے۔ تاہم مکئی، چاول اور گندم جیسی بنیادی غذائی فصلوں کے معاملے میں دونوں ممالک محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ان ممالک کے لیے غذائی فصلوں اور قومی زرعی سلامتی کا معاملہ صرف پیداوار تک محدود نہیں بلکہ بیج، خوراک اور طویل المدتی خودمختاری سے بھی جڑا ہوا ہے۔
آسٹریلیا اور دیگر ممالک
آسٹریلیا جیسے زرعی ملک نے بھی مخصوص جینیاتی خصوصیات والی بعض فصلوں کے حوالے سے سخت ریگولیٹری پالیسی اختیار کی ہے۔
ان ممالک کی حکمت عملی کا بنیادی اصول واضح ہے: پیداوار میں اضافہ اپنی جگہ، لیکن ملکی بیج کی خودمختاری، ماحولیاتی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کا جینیاتی تضاد: ظاہر کچھ، باطن کچھ
پاکستان میں اس وقت جی ایم او مکئی کی تجارتی کاشت کی اجازت کے معاملے پر بحث جاری ہے اور نیشنل بائیو سیفٹی کمیٹی سمیت متعلقہ اداروں میں اس حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
لیکن پاکستان کا زرعی منظرنامہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔
ایک طرف مکئی جیسی غذائی فصل کے جی ایم او بیج کی تجارتی کاشت پر بحث اور مخالفت جاری ہے، جبکہ دوسری طرف جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجزا یا ان سے حاصل ہونے والی مصنوعات مختلف شکلوں میں ہماری غذائی اور زرعی زنجیر کا حصہ ہیں۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے عوام کی بڑی تعداد شاید مکمل طور پر آگاہ نہیں۔
ہمارا پولٹری سیکٹر
پاکستان میں برائلر مرغیوں کی خوراک کا ایک بڑا حصہ سویا بین اور دیگر اجزا پر مشتمل ہوتا ہے، جو بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ ان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اقسام بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
ہمارا لائیو اسٹاک اور ڈیری سیکٹر
پاکستان میں بی ٹی کپاس گزشتہ کئی برسوں سے کاشت کی جا رہی ہے۔ کپاس کے بیج سے حاصل ہونے والی کھل گائے اور بھینسوں کے چارے میں استعمال ہوتی ہے۔
ہمارا باورچی خانہ
سویا بین، کینولا اور بنولے سے حاصل ہونے والا تیل پروسیس ہو کر ہمارے گھروں تک کوکنگ آئل اور گھی کی شکل میں پہنچتا ہے۔
یعنی چکن، انڈوں، دودھ، گوشت اور گھی سمیت ہماری غذائی زنجیر مختلف طریقوں سے جینیاتی تبدیلی سے متعلق زرعی اجزا سے منسلک ہو سکتی ہے، جبکہ عوام کو اس بارے میں مکمل معلومات ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتیں۔
اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والی بات یہ ہے کہ پاکستان میں جی ایم او لیبلنگ اور صارف کے حقِ معلومات سے متعلق جامع اور مؤثر نظام کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
بازار میں فروخت ہونے والے ہر گھی کے ڈبے یا چکن کے پیکٹ پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس کی تیاری میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجزا استعمال ہوئے ہیں یا نہیں۔
یوں پاکستانی صارف ایک ایسی معلوماتی کمی کا شکار ہے جہاں اسے پوری طرح معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی غذا کی پیداواری زنجیر میں کون سے اجزا شامل رہے ہیں۔
اداروں کا ٹکراؤ اور معاشی خطرات
مکئی کا معاملہ اس لیے زیادہ حساس ہے کیونکہ یہ ایک ایسی فصل ہے جس میں گردہ افشانی کے ذریعے جینیاتی مواد قریبی فصلوں تک منتقل ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
اگر پاکستان میں جی ایم او مکئی کی تجارتی کاشت کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے ممکنہ اثرات روایتی اور مقامی مکئی کی اقسام پر پڑنے کے خدشات کا تفصیلی سائنسی جائزہ ضروری ہوگا۔
خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ طویل مدت میں مقامی اور نان جی ایم او بیجوں کی شناخت، علیحدگی اور تحفظ مشکل ہو سکتا ہے۔
اس کا معاشی اثر برآمدات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں، بالخصوص یورپی مارکیٹوں میں، جی ایم او اور نان جی ایم او مصنوعات کے لیے الگ الگ ضابطے اور معیارات موجود ہیں۔ پاکستان کی مکئی اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات برآمد کرنے والی کمپنیاں ان معیارات میں تبدیلی یا آلودگی کے خدشات سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
رفہان جیسی بڑی ملکی کمپنیاں مکئی سے تیار ہونے والی مصنوعات برآمد کرتی ہیں۔ اس لیے بیج، پیداوار اور سپلائی چین کے حوالے سے کسی بھی پالیسی فیصلے کے ممکنہ تجارتی اثرات کا جامع جائزہ ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب یہ معاملہ صرف سائنس دانوں تک محدود نہیں رہا۔ بائیو ٹیکنالوجی، زراعت، قومی منصوبہ بندی اور دیگر حساس شعبوں سے وابستہ اداروں کی آرا بھی اس بحث میں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب مقامی کسان روایتی اور ہائبرڈ بیجوں کے ذریعے بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں تو پھر کسی بھی نئے جینیاتی بیج کی منظوری سے پہلے اس کے معاشی، ماحولیاتی اور قومی مفادات کا مکمل اور شفاف جائزہ کیوں نہ لیا جائے؟
تیسری دنیا اور پاکستان کے لیے لائحہ عمل
اس پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے اور غذائی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو جامع، محتاط اور طویل المدتی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔
بیج کی خودمختاری اور مقامی تحقیق
ترقی پذیر ممالک کو کثیر القومی کمپنیوں کے درآمدی بیجوں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنے قومی زرعی تحقیقی اداروں کو فعال اور مستحکم بنانا ہوگا۔
پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ، پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل اور زرعی جامعات کو جدید تحقیق کے لیے مزید وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔
ایسے مقامی ہائبرڈ بیج تیار کیے جائیں جو پاکستان کی مٹی، موسم اور ماحولیاتی حالات کے مطابق ہوں، زیادہ پیداوار دیں اور کسان کو ہر سال کسی غیر ملکی کمپنی پر مکمل انحصار کرنے سے بچائیں۔
لازمی لیبلنگ قوانین کا نفاذ
حکومت کو فوڈ لیبلنگ سے متعلق واضح اور مؤثر قوانین نافذ کرنے چاہئیں۔
درآمدی سویا بین، کینولا یا دیگر اجزا سے تیار ہونے والی مصنوعات کے بارے میں صارف کو مناسب معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔ اگر کسی مصنوعات میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجزا شامل ہوں تو اس سے متعلق شفاف معلومات دستیاب ہونی چاہیے۔
جب صارف کو معلوم ہوگا کہ وہ کیا خرید رہا ہے تو وہ اپنی ترجیحات کے مطابق فیصلہ کر سکے گا۔ اس سے مارکیٹ میں نان جی ایم او مصنوعات کی طلب اور پیداواری نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
کاشت اور درآمد میں واضح فرق
پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی پروسیس شدہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اناج کو تیل نکالنے یا جانوروں کی خوراک کے لیے درآمد کرنا ایک الگ معاملہ ہے، جس کے لیے سخت بائیو سیفٹی جانچ اور نگرانی ضروری ہے۔
اس کے برعکس جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیج کو مقامی مٹی میں تجارتی سطح پر کاشت کرنے کی اجازت دینا ایک بالکل مختلف فیصلہ ہے۔
کاشت کے ممکنہ اثرات پورے زرعی اور ماحولیاتی نظام پر پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے غذائی فصلوں کی تجارتی کاشت سے متعلق ہر فیصلہ مکمل سائنسی تحقیق، بائیو سیفٹی جانچ، عوامی مفاد اور قومی زرعی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
ماحولیاتی اور زرعی زوننگ
اگر کسی ناگزیر سائنسی ضرورت کے تحت آزمائشی بنیادوں پر تجربات کیے جائیں تو ان کے لیے سخت حفاظتی زون اور بائیو کنٹینمنٹ نظام قائم کیا جانا چاہیے۔
اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ممکنہ اثرات ہوا، پانی یا دیگر ذرائع سے مقامی کھیتوں، دیسی بیجوں اور حیاتیاتی تنوع تک نہ پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں
انکار سے پروپیگنڈے تک: کریملن کا نیا موسمیاتی ہتھیار
کراچی پورٹ کوریڈور: ترقی یا ماحولیاتی خطرہ؟
حاصلِ کلام
بیج صرف ایک فصل کا آغاز نہیں ہوتا۔ یہ کسی بھی قوم کی غذائی خودمختاری کا بنیادی ستون ہوتا ہے۔
جو قوم اپنے بیج، مقامی تحقیق اور زرعی نظام کی حفاظت نہیں کر سکتی، اسے مستقبل میں اپنی غذائی آزادی کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے موجودہ وقت فیصلہ کن ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عارضی معاشی مفادات اور کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ سے بالاتر ہو کر ملکی مٹی، مقامی بیج، کسانوں کے حقوق، حیاتیاتی تنوع اور زرعی برآمدات کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔
زراعت میں ترقی کا راستہ اندھی تقلید میں نہیں بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے، مقامی سائنسی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور قومی مفاد کے مطابق متوازن فیصلے کرنے میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان کو یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کہ اس کا مستقبل صرف زیادہ پیداوار کے اعداد و شمار سے طے ہوگا یا ایک ایسے زرعی نظام سے، جہاں کسان آزاد ہو، بیج محفوظ ہو اور قوم کا دسترخوان اپنی مرضی اور خودمختاری کے ساتھ آباد رہے۔

