شجرکاری: گرین سندھ فاؤنڈیشن کی مختلف شہروں میں شجرکاری، آگاہی واک، مفت پودوں کی تقسیم اور ٹری بینک نرسری کا اعلان
ذوالفقار مگسی
لاڑکانہ: گرین سندھ فاؤنڈیشن کی جانب سے “سرسبز سندھ شجرکاری مہم” کا آغاز ڈپٹی کمشنر آفس لاڑکانہ میں گملوں میں انڈور پلانٹس لگا کر کیا گیا۔
اس موقع پر گرین سندھ فاؤنڈیشن کے بانی ذوالفقار مگسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ایک درخت لگائیں، ہزاروں زندگیاں بچائیں۔” انہوں نے کہا کہ درخت لگا کر نہ صرف اپنی بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی احسان کیا جا سکتا ہے۔ اگر دھوپ اور گرمی سے بچنا چاہتے ہیں تو کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ گرین سندھ فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر سندھ کو سرسبز اور خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مختلف اداروں میں شجرکاری
سرسبز سندھ شجرکاری مہم کے سلسلے میں فاؤنڈیشن کے بانی ذوالفقار مگسی اور ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسب لاڑکانہ علی اکبر جاگیرانی نے محتسب آفس کے لان میں بھی پودے لگائے۔
اس موقع پر علی اکبر جاگیرانی نے کہا کہ شجرکاری ماحول کو بہتر بنانے اور درجہ حرارت میں کمی لانے کے لیے ناگزیر ہے۔
ذوالفقار مگسی نے بتایا کہ مہم کے تحت لاڑکانہ کے مختلف علاقوں اور اداروں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئیں، مل کر شجرکاری کریں اور سندھ کو سرسبز و شاداب بنائیں۔

دادو میں میگا شجرکاری آگاہی تقریب
گرین سندھ فاؤنڈیشن نے ہیپینیس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے تعاون سے دادو کے گاؤں ملک میں مہران ویلفیئر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی میزبانی میں میگا شجرکاری آگاہی تقریب کا انعقاد کیا۔
تقریب میں کچے کے علاقوں سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی اور شجرکاری میں حصہ لیا۔
تقریب کے بعد شجرکاری آگاہی واک منعقد کی گئی، جبکہ بچوں اور بڑوں میں مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے تاکہ شجرکاری کی اہمیت کو عام کیا جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے سندھ کی معیشت متاثر
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گرین سندھ فاؤنڈیشن کے بانی ذوالفقار مگسی، صحافی لیاقت علی، گاؤں ملک کے اسکول ہیڈ ماسٹر محمد اسحاق مستوئی، ایڈووکیٹ گلزار علی عالمانی، ماجد مگسی اور دیگر مقررین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی اثرات اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث سندھ کے جنگلات، زراعت، لائیو اسٹاک، پولٹری اور جنگلی حیات شدید متاثر ہوئے ہیں، جس سے صوبے کی معیشت کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ماحولیاتی تنظیموں نے موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان کو بھی شامل کیا ہے، جبکہ سندھ بھی ان اثرات سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں زرعی فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا ہے۔
مقررین نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے شجرکاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس کا پیغام سندھ کے ہر شہر اور ہر گاؤں تک پہنچایا جانا چاہیے۔
تقریب کے اختتام پر شجرکاری کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں میں گرین ہیرو ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔
ٹری بینک فری نرسری کا اعلان
اس موقع پر گرین سندھ فاؤنڈیشن کے بانی ذوالفقار مگسی نے سندھ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مفت پودوں کی فراہمی کے لیے ٹری بینک فری نرسری قائم کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ شجرکاری صرف ایک مہم نہیں بلکہ آنے والی نسلوں سے محبت کا عملی اظہار ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری پارک میں 100 پودے لگائے گئے
گرین سندھ فاؤنڈیشن کی جانب سے آصفہ بھٹو زرداری پارک میں “سندھ دھرتی کے نام شجرکاری مہم” کے تحت 100 پودے بھی لگائے گئے۔
اس موقع پر گرین سندھ فاؤنڈیشن کے بانی ذوالفقار مگسی، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پوسٹل سروسز ثناء اللہ سوہو، میونسپل کمشنر ڈھڑی ٹاؤن محمد بچل مگسی، گارڈننگ سپرنٹنڈنٹ شاہد علی مغیری، القائم سوشل فورم کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری بشیر احمد شیخ، فاریسٹ افسر محمد پناہ چنہ، یو سی نمبر 4 کے وائس چیئرمین غلام الرسول لغاری، ڈاکٹر سکینہ گاد، ڈاکٹر دیالی گل سندھو، ڈاکٹر تنویر گاد اور دیگر نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ گرین سندھ فاؤنڈیشن نے ایک بار پھر ماحول کو سرسبز بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے 100 پودے لگا کر سندھ دھرتی کو سرسبز و شاداب بنانے کی عملی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر لگایا جانے والا پودا نئی زندگی، صاف ہوا اور محفوظ مستقبل کی امید ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی اثرات اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے شجرکاری موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء میں پودے بھی تقسیم کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں
جنوبی کوریا میں ایک صدی بعد گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے
سنگاپور: موسمیاتی خطرات کا پہلا فزیکل رسک تجزیہ شروع
جنگلات، گرین بیلٹس اور اربن فاریسٹ وقت کی ضرورت
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک بھر میں گرین کور بڑھانے کے لیے جنگلات کی بحالی، گرین بیلٹس کے قیام، اربن فاریسٹ کی ترقی اور شہری و دیہی علاقوں میں بھرپور شجرکاری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی اثرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے گا بلکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔

