برطانیہ کو ایل نینو سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، رکنِ پارلیمنٹ نے غذائی بحران اور شدید موسم سے خبردار کردیا۔
فروزاں رپورٹ
برطانوی رکنِ پارلیمنٹ نے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ ممکنہ سپر ایل نینو موسمیاتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال عالمی غذائی سپلائی اور معیشتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
نارتھ ایسٹ ہرٹفورڈ شائر سے لیبر رکنِ پارلیمنٹ کرس ہنچ لف نے اینڈی برنہم کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے حکومت سے ’’فوری کارروائی‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی کلائمیٹ اینڈ نیچر سیکیورٹی ٹاسک فورس کی سربراہی کرنے پر بھی زور دیا۔

ایل نینو کیا ہے؟
ایل نینو بحرالکاہل میں رونما ہونے والا ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے۔ تاہم انسانی سرگرمیوں کے باعث بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ مل کر یہ درجہ حرارت میں اضافے اور شدید موسمی حالات کا سبب بن سکتا ہے۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ کلائمیٹ اینڈ نیچر سیکیورٹی ٹاسک فورس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ برطانیہ ایل نینو سمیت موسمیاتی بحران سے پیدا ہونے والے خطرات کے لیے بہتر طور پر تیار ہو۔
ماہرینِ موسمیات رواں سال ایل نینو کی تشکیل اور شدت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ موسمیاتی نظام اپنی ٹھنڈی ہمشیرہ لا نینا کے ساتھ قدرتی اتار چڑھاؤ کے چکر کا حصہ ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے حال ہی میں کہا ہے کہ موجودہ ’’مضبوط‘‘ ایل نینو کے اگست سے اکتوبر کے دوران مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
اس صورتحال سے بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دیگر علاقوں میں شدید بارشوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
2015 میں آنے والے آخری ’’سپر ایل نینو‘‘ کے بعد دنیا نے ریکارڈ پر اپنے 11 گرم ترین سال دیکھے ہیں۔
کرس ہنچ لف نے کہا کہ تمام اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ اس بار ایل نینو کے اثرات ’’غیر معمولی حد تک شدید‘‘ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خط میں کہا کہ نسبتاً کم شدت والے ایل نینو واقعات بھی سپلائی چین پر بڑے اثرات مرتب کر چکے ہیں۔ ان واقعات کے باعث فصلیں متاثر ہوئیں، غذائی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور عالمی معیشت کو سینکڑوں ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
ڈبلیو ایم او کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے کہا کہ حکومتوں اور مقامی برادریوں کے پاس خطرات کا پہلے سے اندازہ لگانے اور اثرات ظاہر ہونے سے قبل اقدامات کرنے کا موقع موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایل نینو دنیا میں سب سے زیادہ نگرانی کیے جانے والے موسمیاتی مظاہر میں شامل ہے۔ تاہم صرف پیش گوئیاں خطرات کو نہیں روکتیں، بلکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت انسانی اقدامات ضروری ہیں۔

برطانیہ میں طوفان اور سیلاب کا خطرہ
اگرچہ برطانیہ ایل نینو کے براہِ راست اثرات کی زد میں نہیں آتا، تاہم یہ بعض اوقات وہاں سردیوں کو زیادہ سرد اور گرمیوں کو زیادہ گرم بنا سکتا ہے۔
نیوکاسل یونیورسٹی میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی ماہر پروفیسر ہیلی فاؤلر نے بھی ہنچ لف کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایل نینو اور برطانیہ میں زیادہ بارشوں والی سردیوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ شمالی بحرِ اوقیانوس میں سمندری سطح کا درجہ حرارت پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔
ہیلی فاؤلر کے مطابق اس صورتحال کے باعث برطانیہ میں رواں سال شدید بارشوں، مسلسل طوفانوں اور سیلاب کا امکان ہے۔
کرس ہنچ لف نے کہا کہ انہوں نے اینڈی برنہم کو خط اس لیے لکھا کیونکہ یہ ملک کو شدید موسمی حالات کے لیے زیادہ مضبوط بنانے کے لیے تیز اور فیصلہ کن اقدامات کا اہم وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان پہلے ہی رواں سال فصلوں پر پڑنے والے اثرات کے باعث ممکنہ غذائی قلت کے حوالے سے خبردار کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق برطانیہ کو موسمیاتی تبدیلی کی نئی حقیقت کے مطابق ڈھلنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
ایل نینو کیا ہے؟گرمی، خشک سالی اور سیلاب کا خطرناک راز
ساحلی روایتی علم: پاکستان کا موسمیاتی پالیسی میں نیا قدم
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غذائی تحفظ کی منصوبہ بندی تیز کی جائے، شدید گرمی کے مقابلے میں بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کا جائزہ لیا جائے، فوری طور پر درخت لگائے جائیں، سیلاب کے خطرات کم کرنے کے لیے آبی دلدلی علاقوں کو بحال کیا جائے اور اسکولوں و اسپتالوں کے لیے گرمی سے نمٹنے کے منصوبے نافذ کیے جائیں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق ٹاسک فورس ایل نینو جیسے موسمیاتی مظاہر سے پیدا ہونے والے مسلسل اور نظام گیر خطرات پر توجہ دے گی۔ ان کے مطابق ان موسمیاتی مظاہر کے اثرات ان علاقوں سے کہیں دور تک محسوس ہوتے ہیں جہاں یہ جنم لیتے ہیں۔

