ٹرمپ انتظامیہ نے آرکٹک رپورٹ کارڈ کی سرکاری معاونت روک دی، اہم موسمیاتی رپورٹ اب این او اے اے کے بغیر تیار ہوگی۔
فروزاں رپورٹ
ٹرمپ انتظامیہ نے آرکٹک کی صورتحال اور موسمیاتی آلودگی کے باعث خطے میں آنے والی تبدیلیوں سے متعلق اہم سالانہ رپورٹ کے لیے وفاقی حکومت کی معاونت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس معاملے سے واقف دو افراد نے بتایا کہ امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن، یعنی این او اے اے، اب 2026 کی آرکٹک رپورٹ کارڈ کی تیاری میں رابطہ کاری نہیں کرے گی۔

این او اے اے کی معاونت ختم
آرکٹک رپورٹ کارڈ کو گزشتہ دو دہائیوں سے این او اے اے کی حمایت حاصل رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں بھی 2025 کی رپورٹ جاری کی گئی تھی۔
تاہم گزشتہ سال رپورٹ کے نتائج پر سرکاری سطح پر کوئی نیوز ریلیز جاری نہیں کی گئی۔ اس کے باعث حکومتی اداروں کے بجائے دیگر اداروں کو رپورٹ کے نتائج عوام تک پہنچانا پڑے۔
این او اے اے کے ترجمان نے رواں سال رپورٹ میں ادارے کی عدم شمولیت کی تصدیق کردی ہے۔
این او اے اے کی ترجمان کم ڈوسٹر نے سی این این کو بتایا کہ 2026 کی آرکٹک رپورٹ کارڈ کے لیے این او اے اے کی جانب سے رابطہ کاری نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹ کے لیے این او اے اے کی جانب سے ماضی میں فراہم کیا جانے والا تمام ڈیٹا جمع کیا جاتا رہے گا اور عوام کے لیے دستیاب ہوگا۔

سائنسدانوں کو فیصلے سے آگاہ کردیا گیا
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ این او اے اے نے پیر کی سہ پہر رپورٹ سے وابستہ بعض سائنسدانوں کو فیصلے سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ادارے کی تمام معاونت فوری طور پر ختم کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس فیصلے کی خبر سب سے پہلے پولیٹیکو نے دی۔
این او اے اے کا ایک ملازم روایتی طور پر رپورٹ کے رابطہ کار مدیر کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ ادارہ رپورٹ کو آن لائن شائع کرنے اور مرکزی مصنفین کے ساتھ پریس بریفنگ کے انتظامات میں بھی اہم معاونت فراہم کرتا تھا۔
آرکٹک رپورٹ کارڈ عام طور پر این او اے اے کی تکنیکی رپورٹ کے طور پر شائع ہوتی رہی ہے۔ تاہم اس سال یہ رپورٹ این او اے اے کی تکنیکی رپورٹ کے طور پر شائع نہیں ہوگی۔
21واں ایڈیشن زیرِ تیاری
آرکٹک رپورٹ کارڈ ایک سائنسی جائزے سے گزرنے والی رپورٹ ہے۔ یہ ہر سال دسمبر میں آرکٹک کے ماحول کی صورتحال سے متعلق تازہ ترین معلومات پیش کرتی ہے۔
رپورٹ موسمیاتی سائنسدانوں، پالیسی سازوں اور عوام کے لیے آرکٹک سے متعلق اہم سائنسی معلومات کا ذریعہ ہے۔
رپورٹ کا 21واں ایڈیشن پہلے ہی زیرِ تیاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اب اس کے مرکزی مصنفین، مختلف ابواب کے مصنفین اور دیگر متعلقہ ماہرین کو خود یہ طے کرنا ہوگا کہ رپورٹ کو کس طرح جاری رکھا جائے۔

آرکٹک دنیا کے دیگر خطوں سے تین گنا تیزی سے گرم
رپورٹ میں پورے آرکٹک خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
آرکٹک دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں آرکٹک کی سمندری برف کی صورتحال سمیت موسمیاتی سائنس سے متعلق متعدد اہم نتائج شامل ہوتے ہیں۔ تاہم یہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں تک محدود نہیں۔
آرکٹک رپورٹ کارڈ کو خطے سے متعلق بروقت اور جامع معلومات کے مجموعے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس میں پودوں، جانوروں اور وہاں رہنے والے لوگوں کے بدلتے طرزِ زندگی سے متعلق معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔
قومی سلامتی کے لیے بھی اہم رپورٹ
رپورٹ کا استعمال تعلیمی اداروں اور دیگر محققین کے علاوہ قومی سلامتی سے متعلق پالیسی سازی میں بھی کیا جاتا ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق ماضی میں نیٹو بھی اس رپورٹ کے نتائج کا حوالہ دے چکا ہے۔
آرکٹک رپورٹ کی سرکاری معاونت واپس لینے کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے موسمیاتی پروگرامز ختم کرنے، سائنسی معلومات کو محدود کرنے اور عوام کی موسمیاتی تحقیق تک رسائی کم کرنے کے اقدامات کے سلسلے کی ایک نئی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کو ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے لیے تیار رہنے کا مطالبہ
ایل نینو کیا ہے؟گرمی، خشک سالی اور سیلاب کا خطرناک راز
موسمیاتی پروگرامز پر مزید اقدامات
اس سے قبل این او اے اے نے اربوں ڈالر کے نقصانات والی قدرتی آفات سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کرنا اور اس کے ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرنا بھی بند کردیا تھا۔
اسی طرح انتظامیہ نے کانگریس کی ہدایت پر تیار کیے جانے والے نیشنل کلائمیٹ اسیسمنٹ پر کام کرنے والے تمام مصنفین کو بھی فارغ کردیا۔
اس کے بعد نئے مصنفین کے ساتھ رپورٹ کی تیاری کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا۔ ان میں بعض ایسے ماہرین بھی شامل تھے جنہوں نے انسانی سرگرمیوں کے باعث موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ سائنسی نتائج پر سوالات اٹھائے یا انہیں مسترد کیا۔

