کراچی میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ شدید گرمی، پانی کی قلت اور شہری سیلاب بڑے چیلنجز ہیں، جبکہ ماحول کا تحفظ بھی ممکن ہے۔
فروزاں رپورٹ
کراچی کو شدید گرمی، پانی کی قلت، شہری سیلاب، کم ہوتے سبز رقبے اور غیر متوقع مون سون بارشوں سمیت متعدد موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے قومی پالیسیوں کو شہر کے زمینی حقائق، مقامی آبادی کے تجربات اور متعلقہ اداروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
اسی مقصد کے تحت 10 جولائی 2026 کو وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کراچی میں کلائمیٹ ایکشن سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہر کی ماحولیاتی برادری، سول سوسائٹی، میڈیا، موسمیاتی کارکنوں اور دیگر متعلقہ حلقوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
اس پروگرام کا مقصد کراچی کو درپیش موسمیاتی مسائل کو قومی سطح کی پالیسی سازی میں مؤثر انداز سے اجاگر کرنا اور وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانا تھا۔

کلائمیٹ ایکشن سینٹر کا دورہ
کلائمیٹ ایکشن سینٹر پہنچنے پر وفاقی وزیر کا استقبال ادارے کے ڈائریکٹر یاسر حسین، پروگرام مینیجر عریس خان منگی اور دیگر ٹیم ارکان نے کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر کو ادارے کے پانچ بنیادی شعبوں پر بریفنگ دی گئی، جن میں سبز توانائی، برقی گاڑیاں، گرین چیمبر، موسمیاتی بیانیہ اور شدید گرمی سے متعلق اقدامات شامل تھے۔

آلودہ زمین سے شہری جنگل تک
پروگرام کے دوسرے مرحلے میں کلفٹن، دو تلوار کے قریب قائم اربن فاریسٹ کا دورہ کیا گیا۔
ڈاکٹر مصدق ملک اور یاسر حسین نے مقامی نسل کا ایک پودا لگایا اور ماحولیاتی کارکنوں سے گفتگو کی۔
وفاقی وزیر نے غیر استعمال شدہ اور متاثرہ شہری زمین کو سرسبز عوامی مقام میں تبدیل کرنے کے منصوبے کو سراہا۔ انہوں نے اربن فاریسٹ میں صاف شدہ گندے پانی کے استعمال کو ماحول دوست اور قابلِ تقلید اقدام قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے اس بات کی عملی مثال ہیں کہ ضائع ہونے والے وسائل کو دوبارہ استعمال میں لا کر درختوں، حیاتیاتی تنوع اور شہری زندگی کے لیے فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہری جنگلات کاربن جذب کرتے ہیں، آکسیجن پیدا کرتے ہیں، پرندوں اور دیگر جانداروں کو قدرتی مسکن فراہم کرتے ہیں اور گنجان آباد علاقوں میں درجہ حرارت کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے ذریعے وفاقی حکومت مقامی سطح پر جاری شجرکاری کی مہم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔

شہریوں کے سوالات اور درختوں کے تحفظ پر گفتگو
پروگرام کے دوران منعقدہ “آسک دی منسٹر” سیشن میں شہریوں اور صحافیوں نے وفاقی وزیر سے براہ راست سوالات کیے۔
شرکا نے درختوں کی کٹائی، عوامی پارکوں کے تجارتی استعمال، کم ہوتے سبز رقبے، شدید گرمی، شہری سیلاب اور مقامی ماحولیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی معاونت جیسے موضوعات پر سوالات اٹھائے۔
درختوں کی کٹائی سے متعلق سوال پر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ کسی بھی درخت کو کاٹنے کے لیے متعلقہ ماحولیاتی تحفظ کے ادارے سے پیشگی اجازت ضروری ہے۔ بغیر اجازت درخت کاٹنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر ناگزیر حالات میں کوئی درخت کاٹا جائے تو اس کے بدلے کئی نئے درخت لگائے جائیں۔
ان کے مطابق وفاقی حکومت اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے تحت صوبائی، ضلعی اور مقامی سطح پر شجرکاری کی سرگرمیوں کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہر خطے کے موسمیاتی خطرات مختلف ہیں
گفتگو کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کو مختلف نوعیت کے موسمیاتی خطرات درپیش ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شمالی علاقوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔
ان کے مطابق حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ابتدائی انتباہی نظام مؤثر انداز میں فعال ہوں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ہنگامی امدادی ادارے بروقت کارروائی کے لیے ہر وقت تیار رہیں۔
کراچی کے لیے حکومتی ترجیحات
وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی، سندھ اور جنوبی پاکستان میں شدید گرمی، پانی کی قلت اور غیر متوقع بارشیں سب سے بڑے موسمیاتی خطرات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مجموعی طور پر مون سون بارشیں کم ہو سکتی ہیں، لیکن اچانک بادل پھٹنے اور غیر معمولی بارشوں کے واقعات فلیش فلڈ اور شہری سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ان خطرات کا سندھ حکومت اور کراچی کی قیادت کے ساتھ مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ موجودہ تیاریوں، خامیوں اور وفاقی معاونت کی ضرورت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، پانی کے دباؤ اور اچانک بارشوں سے نمٹنے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، صوبائی اداروں اور شہری انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے، جبکہ وزیراعظم نے ضروری معاونت جنگی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ساتھ ساتھ
پروگرام میں صنعتوں اور معاشی ترقی کے ماحولیاتی اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا درست نہیں۔
ان کے مطابق دونوں اہداف بیک وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ صنعتیں روزگار بھی فراہم کر سکتی ہیں اور ایسے اقدامات بھی اختیار کر سکتی ہیں جن سے نقصان دہ اخراج میں کمی آئے اور قریبی آبادیوں کی صحت محفوظ رہے۔
شرکا نے عوامی پارکوں کے تحفظ، کمیونٹی کی سطح پر شہری جنگلات کے قیام اور صاف شدہ گندے پانی کے وسیع پیمانے پر استعمال پر بھی زور دیا۔
کراچی میں دس ہزار شہری جنگلات کا منصوبہ
کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے ڈائریکٹر یاسر حسین نے ادارے کے شہری شجرکاری اور شدید گرمی سے متعلق منصوبوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کا ہدف صاف شدہ گندے پانی اور میاواکی طریقہ شجرکاری کے ذریعے کراچی میں دس ہزار شہری جنگلات قائم کرنا ہے۔
ان کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے پاس تقریباً ایک ہزار چھ سو پارکس موجود ہیں، جبکہ اسکولوں، جامعات، نجی اداروں اور کمپنیوں کے پاس بھی مناسب زمین دستیاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر شہر بھر میں ہزاروں چھوٹے اور بڑے سبز مقامات قائم کیے جائیں تو مجموعی طور پر کراچی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے گلگت بلتستان میں پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ
برقی گاڑیاں: صاف فضا، محفوظ صحت اور خواتین کی آزادیِ سفر کی نئی امید
شدید گرمی اور طویل لوڈشیڈنگ
اختتامی گفتگو میں شدید گرمی کے دوران طویل بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔
یاسر حسین نے کہا کہ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے اور کسی علاقے میں 16 گھنٹے تک بجلی نہ ہو تو معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ ایکشن سینٹر نے ایک کولنگ پلان تیار کیا ہے، جسے پی ڈی ایم اے کے منصوبے میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق کولنگ سینٹرز کو صرف ایئر کنڈیشننگ تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں بہتر تعمیر، سایہ، قدرتی ہوا کی آمدورفت اور صاف پینے کے پانی جیسی سہولتوں سے آراستہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے مراکز بزرگوں، بچوں، حاملہ خواتین اور دیگر متاثرہ افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔
یاسر حسین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان پہلے سے موجود ہے، تاہم اب اسے دوبارہ فعال کر کے مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
پروگرام کے اختتام پر کلائمیٹ ایکشن سینٹر نے دن بھر سامنے آنے والی اہم تجاویز اور سفارشات کا خلاصہ پیش کیا، جبکہ وفاقی وزیر کو “دی انڈس بریف” بھی پیش کیا گیا۔
یہ ملاقات اس امر کی عکاس رہی کہ کراچی کے موسمیاتی مسائل کا مؤثر حل صرف پالیسی سازی میں نہیں بلکہ ان پالیسیوں کو مقامی آبادی، شہری اداروں، سائنسی شواہد اور زمینی حقائق سے جوڑنے میں پوشیدہ ہے۔ شہری جنگلات، صاف شدہ گندے پانی کا دوبارہ استعمال، مؤثر ابتدائی انتباہی نظام، کولنگ سینٹرز اور اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری ایسے اقدامات ہیں جو کراچی کو موسمیاتی خطرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

