پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا موجودہ نظام فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع میں شمار ہوتا ہے۔ جس کے اثرات سب سے زیادہ خواتین اور بچوں پر پڑتے ہیں۔
فرحین العاص (بیورو چیف )
کراچی کے ایک گراؤنڈ میں درجنوں خواتین موٹر سائیکل چلانا سیکھ رہی ہیں۔ کوئی پہلی بار بیلنس بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔کوئی کلچ اور گیئر سمجھ رہی ہے۔ جبکہ کچھ خواتین اعتماد کے ساتھ موٹر سائیکل دوڑا رہی ہیں۔
ان سب کے درمیان زینب صفدر کھڑی ہیں۔ جو گزشتہ آٹھ برسوں سے خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دے رہی ہیں۔
یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ خواتین کی نقل و حرکت کا مسئلہ صرف سماجی رویوں تک محدود نہیں۔
پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا موجودہ نظام فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع میں شمار ہوتا ہے۔ جس کے اثرات سب سے زیادہ خواتین اور بچوں پر پڑتے ہیں۔
زینب صفدر نے 2017 میں “راؤڈی رائیڈرز”کے نام سے خواتین کی موٹر سائیکل ٹریننگ کا آغاز کیا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے خود موٹر سائیکل چلانا شروع کی۔ تو انہیں سماجی مخالفت، ہراسانی اور حادثات سمیت متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کالج اور یونیورسٹی جاتے ہوئے لوگ گھورتے تھے۔ آوازیں کستے تھے۔ بعض اوقات راستے میں رکاوٹیں بھی ڈالی جاتیں۔ کئی بار چوٹیں بھی لگیں۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔
زینب کے مطابق اب تک تقریباً ایک ہزار خواتین ان سے تربیت حاصل کر چکی ہیں۔ جن میں بیوہ خواتین، سنگل مدرز اور کم آمدنی والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل ہیں۔
ان میں سے کئی خواتین اب موٹر سائیکل کے ذریعے روزگار کما رہی ہیں۔

آلودہ ٹرانسپورٹ، خواتین اور صحت کا بحران
پاکستان ہر سال سردیوں میں اسموگ اور فضائی آلودگی کے شدید بحران کا سامنا کرتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدان حسان بن سعادت کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی اور اسموگ کی تقریباً 80 فیصد وجہ ٹرانسپورٹ سیکٹر ہے۔
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (پاکی) کی رپورٹ کے مطابق زہریلی ہوا ایک اوسط پاکستانی کی زندگی سے 3.9 سال کم کر رہی ہے۔ جبکہ ہر سال تقریباً 2 لاکھ 56 ہزار قبل از وقت اموات فضائی آلودگی سے منسلک ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی کا 35 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ جبکہ 28 فیصد صنعتوں سے پیدا ہوتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق فضائی آلودگی بچوں کی صحت کے لیے سب سے بڑے ماحولیاتی خطرات میں سے ایک ہے۔ آلودہ ہوا بچوں میں سانس کی بیماریوں، دمہ، پھیپھڑوں کی کمزور نشوونما اور دل کے امراض کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔
لاہور کی رہائشی ندا عثمان کہتی ہیں کہ 2024 میں اسموگ کئی ہفتوں تک برقرار رہی جس کے باعث بچوں کے اسکول بند رہے اور گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ گلے میں خراش، آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری روزمرہ کا حصہ بن گئی تھی ۔
طبی ماہرین کے مطابق بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور پہلے سے بیمار افراد فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

کیا برقی گاڑیاں حل بن سکتی ہیں؟
پاکستان میں اس وقت 3 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں موجود ہیں۔ جن میں 2 کروڑ 87 لاکھ موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق یہ گاڑیاں فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔
ایسے میں حکومت اور ماہرین برقی گاڑیوں کو ایک ممکنہ حل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
جولائی 2025 میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ جس میں برقی گاڑیوں کے فروغ، چارجنگ انفراسٹرکچر کی توسیع، موٹر سائیکلوں کی ریٹروفٹنگ اور مالی معاونت کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی ) کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم ہے ۔ بلکہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور توانائی کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
فی کس قابلِ تجدید پانی میں7فیصدکمی: آبی بحران کی وارننگ
صاف پانی کے حصول میں سولر کا کلیدی کردار ہے
پاکستان میں برقی گاڑیاں: چیلنجز کے باوجود روشن مستقبل
عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام یو این ای پی اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی بھی ٹرانسپورٹ سیکٹر کو کاربن اخراج کے بڑے ذرائع میں شمار کرتے ہیں۔ اور برقی گاڑیوں کو کم کاربن معیشت کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہیں۔
پاکستان میں پہلی الیکٹرک بائیک بنانے والی ٹیم کے رکن اور کمپنی ای وی ای ای الیکٹرک کے جنرل منیجر نعمان احمد علوی کہتے ہیں کہ پاکستان میں برقی موٹر سائیکلوں کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ لیکن معیار، محفوظ بیٹری سسٹمز اور مناسب کنورژن اسٹینگاڑیوں کا ہدف رکھتی ہے
سو فیصد ای وی گاڑیوں کا ہدف
کراچی کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے الیکٹرک وہیکل پروگرام منیجر حسین رضوی کے مطابق پاکستان میں 60 سے زائد کمپنیاں الیکٹرک گاڑیوں کی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ کے لیے رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ حکومت 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں 60 فیصد جبکہ 2050 تک 100 فیصد برقی گاڑیوں کا ہدف رکھتی ہے،۔ تاہم اس کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر اور مکینکس کی تربیت پر مزید سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔
خواتین کے لیے ای ویز کیوں مختلف ہیں؟
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے مطابق محفوظ اور قابل رسائی ٹرانسپورٹ خواتین کی معاشی شمولیت کے لیے بنیادی شرط ہے۔ پاکستان میں لاکھوں خواتین سفری مشکلات کی وجہ سے تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع سے محروم رہتی ہیں۔
زینب صفدر کہتی ہیں کہ ان کے پاس آنے والی زیادہ تر خواتین بیوہ یا سنگل مدرز ہوتی ہیں۔
“اگر خواتین کے لیے سستی الیکٹرک بائیکس، آسان قرضے اور محفوظ سڑکیں ہوں تو ہزاروں خواتین گھر بیٹھنے کے بجائے روزگار حاصل کر سکتی ہیں۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی نے جولائی 2025 میں چارجنگ انفراسٹرکچر، موٹر سائیکل ریٹروفٹنگ اور مالی معاونت کے ذریعے برقی گاڑیوں کے فروغ پر کام تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔
معیشت اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ
ایس ڈی پی آئی کی گول میز کانفرنس میں پیش کیے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 24 ملین دو پہیوں والی گاڑیاں درآمد شدہ تیل استعمال کرتی ہیں۔
سال 24-2023میں پاکستان کا ایندھن درآمدی بل 16.8 ارب ڈالر رہا ۔ جبکہ ماہرین کا اندازہ ہے۔ کہ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی سے اس میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اسی طرح ناقص فضائی معیار کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 22 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جو ملکی جی ڈی پی کے تقریباً 6 فیصد کے برابر ہے۔
عالمی بینک بھی خبردار کر چکا ہے۔ کہ فضائی آلودگی صحت کے اخراجات، بیماریوں اور پیداواری صلاحیت میں کمی کے ذریعے معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔
ای وی، خواتین اور مستقبل کی سمت
پاکستان میں اسموگ، فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسائل نہیں رہے ۔ بلکہ یہ صحت، معیشت اور سماجی ترقی کے مسائل بن چکے ہیں۔
زینب صفدر جیسی خواتین ثابت کر رہی ہیں۔ کہ جب خواتین کو نقل و حرکت کی آزادی ملتی ہے ۔ تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتی ہیں۔ بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومت خواتین کے لیے خصوصی فنانسنگ، کم لاگت برقی موٹر سائیکلوں، محفوظ چارجنگ انفراسٹرکچر اور تربیتی پروگراموں پر سرمایہ کاری کرے ۔ تو برقی گاڑیاں صرف آلودگی کم کرنے کا ذریعہ نہیں۔ بلکہ خواتین کی معاشی خودمختاری اور بچوں کے لیے صاف اور صحت مند مستقبل کی ضمانت بھی بن سکتی ہیں۔
اہم اعداد و شمار
پاکستان میں ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں: 3.7 کروڑ سے زائد۔
موٹر سائیکلیں: 2.87 کروڑ سے زائد ۔
دو پہیوں والی گاڑیاں: 24 ملین۔
فضائی آلودگی سے معاشی نقصان: 22 ارب ڈالر سالانہ۔
قبل از وقت اموات: 2.56 لاکھ سالانہ۔
اوسط عمر میں کمی: 3.9 سال۔
2030 تک EV فروخت کا ہدف: 60 فیصد
2050 تک EV فروخت کا ہدف: 100 فیص

