Environmental Reports Farozaan

گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے گلگت بلتستان میں پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

Gilgit-Baltistan Decides to Establish Glacier Protection Authority

گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، شجرکاری، ڈیجیٹل اصلاحات اور مقامی کمیونٹی کی شراکت بھی بڑھائی جائے گی

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور گلیشیئرز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گلگت بلتستان میں گلیشیئرز پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی، جو اتھارٹی کے قیام، قانونی و انتظامی ڈھانچے اور متعلقہ سفارشات مرتب کرکے متعلقہ فورم کو پیش کرے گی۔

جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دیگر علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔

محکمہ جنگلات کے کردار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی جانب سے دی جانے والی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان دنیا کے اہم برفانی ذخائر کا حامل خطہ ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دیگر علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے، اس لیے حکومت اس شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

اس لیے ان کے تحفظ کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

گلیشیئرز پاکستان کے آبی وسائل کے لیے ناگزیر ہیں

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے گلیشیئرز نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے پاکستان کے آبی وسائل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے تحفظ کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ گلیشیئرز کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور ماحولیاتی تنظیموں کو بھی متحرک کیا جائے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری، تحقیق اور تکنیکی تعاون میں اضافہ کیا جا سکے۔

مقامی کمیونٹیز کی شراکت داری بڑھانے پر زور

امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ٹرافی ہنٹنگ کے نظام میں مقامی کنزرویشن کمیٹیوں کی شمولیت ایک کامیاب ماڈل ثابت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ مقامی آبادی کو بھی مالی فوائد حاصل ہوئے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اسی ماڈل کو معدنیات سمیت دیگر شعبوں تک بھی توسیع دی جائے تاکہ قدرتی وسائل کے انتظام میں مقامی کمیونٹی کی مؤثر شراکت داری یقینی بنائی جا سکے۔

جنگلات کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات

وزیراعلیٰ نے فاریسٹ ورکنگ پلان پر مکمل شفافیت کے ساتھ عملدرآمد کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات کی محصولات کی وصولی کا نظام ڈیجیٹل بنایا جائے گا تاکہ مالیاتی شفافیت اور احتساب کو فروغ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ گرین اپ اسکیلنگ پاکستان پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم چلائی جائے گی، جبکہ اس کی کامیابی کے لیے طویل المدتی اور پائیدار اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

قدرتی وسائل سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچانے کا منصوبہ

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس، جن میں جڑی بوٹیاں، جنگلی پھل، مشروم، شہد اور دیگر قدرتی مصنوعات شامل ہیں، کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان وسائل سے معاشی فوائد حاصل کرنے اور انہیں عالمی منڈیوں تک رسائی دلانے کے لیے ایک خصوصی کمپنی قائم کی جائے گی، تاکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکیں۔

موسمیاتی تبدیلی گلگت بلتستان کے لیے بڑا چیلنج

گلگت بلتستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس خطے کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، غیر معمولی بارشوں، برفباری کے بدلتے رجحانات اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث قدرتی آفات کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ برسوں میں ہنزہ، غذر، دیامر، گانچھے، شگر، اسکردو اور نگر سمیت مختلف اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلیوں نے سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام، زرعی زمینوں اور رہائشی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مون سون الرٹ: سیلابی خطرات، سندھ حکومت متحرک

جمیکا: موسمیاتی تباہی سے محفوظ مستقبل تک

ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر گلیشیئرز کے تحفظ، جنگلات کے فروغ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور مقامی آبادی کی شمولیت پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو مستقبل میں پانی کی دستیابی، خوراک کی پیداوار، سیاحت اور حیاتیاتی تنوع سمیت متعدد شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیراعلیٰ کی جانب سے گلیشیئرز پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام، شجرکاری کے فروغ، جنگلات کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات اور مقامی کمیونٹیز کی شراکت داری بڑھانے کے اعلانات کو ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک اہم پالیسی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ مؤثر عملدرآمد کی صورت میں یہ اقدامات نہ صرف قدرتی وسائل کے تحفظ بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں