جمیکا نے ہریکین میلیسا کے بعد موسمیاتی حکمتِ عملی تیز کی، تاکہ مستقبل کے نقصانات کم اور پائیدار ترقی یقینی بنائی جا سکے۔
فروزاں رپورٹ
اکتوبر 2025 میں ہریکین میلیسا نے جمیکا کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا۔ اس طوفان سے تقریباً 8.8 ارب امریکی ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ یہ رقم جمیکا کی 2024 کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 41 فیصد کے برابر تھی۔
نقصانات کے جائزے کے دوران ایک اور اہم حقیقت بھی سامنے آئی۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے طے شدہ موافقتی اقدامات پر آنے والی لاگت تقریباً اتنی ہی تھی۔ صرف ایک طوفان نے بھی تقریباً اتنا ہی نقصان پہنچایا۔
ماہرین کے مطابق اس موازنے نے ایک اہم حقیقت واضح کر دی۔ قدرتی آفات سے پہلے موسمیاتی لچک پر سرمایہ کاری زیادہ مؤثر ہے۔ یہ بعد میں تعمیرِ نو پر اربوں ڈالر خرچ کرنے سے بھی کم لاگت حل ثابت ہوتی ہے۔

2050 کی حکمتِ عملی پر تیزی سے عمل
اسی تجربے نے جمیکا کی طویل المدتی موسمیاتی حکمتِ عملی کو مزید تقویت دی ہے۔ ملک 2050 تک کم اخراج اور موسمیاتی لچک پر مبنی حکمتِ عملی پر تیزی سے عمل کر رہا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا ہے۔ اس کے ساتھ موسمیاتی لچک بڑھانا اور پائیدار قومی ترقی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔
جمیکا کی وزارتِ پانی، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے قائم مقام مرکزی ڈائریکٹر عمر الکاک نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی جامع خاکہ فراہم کرتی ہے۔ یہ موسمیاتی لچک، اخراج میں کمی اور قومی ترقیاتی ترجیحات کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتی ہے۔
ان کے مطابق آج کیے جانے والے اقدامات مستقبل کی نسلوں کے لیے زیادہ محفوظ، مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم کریں گے۔
تمام شعبوں کی مشاورت سے حکمتِ عملی تیار
یہ حکمتِ عملی وسیع مشاورتی عمل کے بعد تیار کی گئی۔ اس میں حکومتی اداروں، جامعات، شہری سماجی تنظیموں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے نے بھرپور حصہ لیا۔
ملک بھر میں مختلف شعبوں سے مشاورت کی گئی۔ ان کی ترجیحات کا تعین کیا گیا۔ تکنیکی تجزیے کو بھی بہتر بنایا گیا۔ اس کے ساتھ یہ یقینی بنایا گیا کہ حکمتِ عملی قومی اہداف کی عکاسی کرے۔ یہ مقامی آبادی اور اہم معاشی شعبوں کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔
جمیکا میں قومی سطح پر طے شدہ شراکت داری کی ملکی سہولت کار تانیک ہیسلوپ نے کہا کہ جمیکا موسمیاتی اقدامات کو الگ تھلگ سرگرمی نہیں سمجھتا۔
انہوں نے کہا کہ ملک پورے معاشرے اور معیشت کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ اس کا مقصد مختلف شعبوں کی آرا کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہے۔
علاقائی تعاون سے عمل درآمد میں مدد
علاقائی اور بین الاقوامی تعاون نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
قومی سطح پر طے شدہ شراکت داری کے موسمیاتی اقدامات کو مؤثر بنانے کے پیکیج کے تحت جمیکا کو تکنیکی مہارت فراہم کی گئی۔ تجزیاتی معاونت بھی دی گئی۔
اسی دوران کیریبین علاقائی اشتراک مرکز نے قومی اداروں کو علاقائی اور عالمی شراکت داروں سے جوڑا۔ معلومات کے تبادلے کو فروغ دیا۔ حکمتِ عملی پر مؤثر عمل درآمد میں بھی معاونت فراہم کی۔
اب توجہ عملی اقدامات پر
جمیکا اب طویل المدتی منصوبوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
ملک عمل درآمد کا جامع منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ معاشی تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کاری کے منصوبے بھی تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد موسمیاتی اہداف کو قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔
ان کوششوں سے ثابت ہو رہا ہے کہ موسمیاتی لچک اور کم کاربن ترقی میں سرمایہ کاری فائدہ مند ہے۔ اس سے مستقبل کے موسمیاتی نقصانات کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی طویل مدت میں نمایاں معاشی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی: 2050 تک لندن کو 15 ارب پاؤنڈ کا نقصان
موسمیاتی تبدیلی کا راز جاننے چین کی 16ویں آرکٹک مہم
دنیا کے لیے قابلِ تقلید مثال
جمیکا کا تجربہ کیریبین سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے لیے قابلِ تقلید مثال بنتا جا رہا ہے۔
جمیکا نے ثابت کیا ہے کہ موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ مضبوط شراکت داری اور طویل المدتی منصوبہ بندی بھی اہم ہے۔ انہی اقدامات سے موسمیاتی عزائم کو عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ کیریبین علاقائی اشتراک مرکز خطے کے دیگر ممالک کی بھی معاونت کر رہا ہے۔ اس کا مقصد طویل المدتی موسمیاتی حکمتِ عملیوں کو عملی شکل دینا ہے۔ اس سے عوام، معیشت اور ماحولیات کو دیرپا فوائد حاصل ہوں گے۔

