مون سون الرٹ کے پیش نظر وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس، سیلابی خطرات، ابتدائی وارننگ سسٹم اور تیاریوں پر بریفنگ دی گئی
فروزاں رپورٹ
کراچی: موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور مون سون کے عروج کے قریب پہنچنے کے پیش نظر وزیراعلیٰ ہاؤس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ میں ممکنہ سیلاب، شہری علاقوں میں بارش کے پانی کی نکاسی اور ہیٹ ویوز سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی وارننگ سسٹمز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور ردعمل کے نظام کی مؤثریت پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکام نے شرکت کی۔ شرکاء نے موسمیاتی رجحانات، ممکنہ قدرتی آفات، سیلابی خطرات، متاثرہ علاقوں اور امدادی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔ مون سون سیزن کے دوران انسانی جانوں، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے اداروں کے درمیان رابطے مزید مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا۔

صوبائی اور وفاقی حکام کی شرکت
سندھ حکومت کے وفد میں وزیر آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر گیان چند اسرانی، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری ماحولیات فیصل عقیلی، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سلمان شاہ، سیکریٹری بحالی مصطفیٰ شیخ اور دیگر حکام شامل تھے۔
وفاقی حکومت کے وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کی۔ وفد میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رکن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی محترمہ زارا اور دیگر حکام بھی شریک ہوئے۔

موسمیاتی خطرات میں مسلسل اضافہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ ان خطرات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب بھی شامل ہیں۔ بادل پھٹنے، اچانک اور دریائی سیلاب کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ہیٹ ویوز، شہری علاقوں میں پانی جمع ہونا، سمندری طوفان، خشک سالی اور سمندر کی سطح میں اضافہ بھی بڑے خطرات ہیں۔
حکام نے بتایا کہ 15 جولائی سے 30 اگست 2026 کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے۔ اس عرصے میں شدید گرم اور مرطوب موسم رہے گا۔ مون سون بھی بھرپور انداز میں فعال رہنے کا امکان ہے۔
جدید ابتدائی وارننگ نظام
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے نیشنل ریزیلینس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کوآرڈینیشن فریم ورک پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے ذریعے روایتی ابتدائی وارننگ سسٹم کو پیش گوئی پر مبنی ڈیزاسٹر انٹیلی جنس میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
بریفنگ کے مطابق نیشنل کامن آپریٹنگ پکچر اور گلوبل کامن آپریٹنگ پکچر کو مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس سے موسمیاتی، آبی اور زمینی معلومات کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہو گئی ہے۔ اس نظام کے ذریعے بروقت پیش گوئیاں، ایڈوائزریز اور ابتدائی انتباہات جاری کیے جا سکیں گے۔
سندھ کیوں زیادہ حساس ہے؟
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ دریائے سندھ کے آخری حصے میں واقع ہونے کے باعث سیلاب کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس صوبہ ہے۔ یہاں سیلاب کی شدت، پانی کی مقدار اور دورانیہ عموماً زیادہ ہوتا ہے۔
حکام کے مطابق سندھ میں سیلاب تین بنیادی ذرائع سے آتا ہے۔ ان میں دریائے سندھ، کیرتھر رینج سے آنے والے پہاڑی ریلے اور مون سون کی شدید بارشیں شامل ہیں۔
حساس اضلاع کی نشاندہی
اجلاس میں حساس اضلاع کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دریائی سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں کشمور، گھوٹکی، سکھر، شکارپور اور لاڑکانہ شامل ہیں۔
اچانک سیلاب اور پہاڑی ریلوں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں دادو، جامشورو اور قمبر شہدادکوٹ شامل ہیں۔
جبکہ شہری سیلاب کے خطرات والے اضلاع میں کراچی، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد، بدین، سجاول اور ٹھٹھہ شامل ہیں۔
سیلابی بند اور حفاظتی نظام
محکمہ آبپاشی نے بتایا کہ سندھ میں تقریباً ایک ہزار تین سو پچیس میل طویل حفاظتی بند موجود ہیں۔ ان میں آٹھ سو پچھتر میل فرنٹ لائن بند، تین سو اکتیس میل لوپ بند اور ایک سو انیس میل سیلابی حفاظتی بند شامل ہیں۔
اس کے علاوہ لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) کا نظام بھی فعال ہے۔
اجلاس میں دریائے سندھ کے طاس میں سیلابی پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔ سندھ کے بیراجوں پر سیلاب کی درجہ بندی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس میں معمول، کم درجے، بلند درجے، انتہائی بلند درجے اور سپر فلڈ کی کیٹیگریاں شامل ہیں۔
ادارے الرٹ، رابطہ نظام فعال
حکام نے بتایا کہ سیلابی حفاظتی بندوں کا مسلح افواج کے تعاون سے سروے جاری ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان ریلوے اور دیگر اہم اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے درمیان چوبیس گھنٹے رابطے کا نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد معلومات کی فوری ترسیل اور مربوط کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
ایل نینو سے زرعی شعبے کو خدشات
اجلاس کو بتایا گیا کہ 2026-27 کے دوران متوقع ایل نینو کی صورتحال شدید گرمی اور پانی کی قلت کے باعث خریف کی فصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
چاول، کپاس، مکئی اور گنے کی پیداوار مختلف درجوں تک متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ اس سے غذائی تحفظ اور دیہی روزگار بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
41 ہزار سے زائد تربیت یافتہ رضاکار دستیاب
حکام کے مطابق سندھ بھر میں اکتالیس ہزار چھ سو سے زائد تربیت یافتہ رضاکار ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
ان میں سول ڈیفنس، ریسکیو اسکاؤٹس، پاکستان ریڈ کریسنٹ، الخدمت، اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز، ہیلپنگ ہینڈز اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے رضاکار شامل ہیں۔
افواہوں کی روک تھام پر بھی زور
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہنگامی صورتحال میں بروقت انتباہات جاری کیے جائیں گے۔ افواہوں کی روک تھام کے لیے مقامی میڈیا، کمیونٹی ریڈیو نیٹ ورکس، ٹیلی کام انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل فوکل پرسنز کا کردار مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ اس سے درست معلومات بروقت عوام تک پہنچ سکیں گی۔
طویل المدتی موسمیاتی منصوبہ بندی
اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے متعدد طویل المدتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
ان میں ٹھنڈی سڑکیں، حرارت منعکس کرنے والی شاہراہیں، ہیٹ اسٹروک مراکز، جدید پارکس، ساحلی علاقوں کی منظم منتقلی، مینگرووز کی شجرکاری، شہری درختوں کی راہداریاں، گرین روفز، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ شہری منصوبہ بندی شامل ہیں۔
محکمہ ماحولیات نے متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔ ان میں سندھ کلائمیٹ انفارمیشن سسٹم، مربوط ڈیجیٹل ابتدائی وارننگ پلیٹ فارم، ضلعی موسمیاتی ڈیش بورڈز، موسمیاتی حساسیت کی نقشہ سازی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، بارش کے پانی کے انتظام، شہری سیلاب کی ماڈلنگ اور ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقتی پروگرام شامل ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں مینگرووز کی بحالی پر کام کر رہی ہے۔ اسپنج سٹی منصوبہ بندی اور ہیٹ ویو و سیلاب ایکشن پلانز کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور قومی موسمیاتی اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
جمیکا: موسمیاتی تباہی سے محفوظ مستقبل تک
موسمیاتی تبدیلی: 2050 تک لندن کو 15 ارب پاؤنڈ کا نقصان
موسمیاتی تبدیلی کا راز جاننے چین کی 16ویں آرکٹک مہم
حکام کے اہم بیانات
وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ سندھ نے مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطوں، سیلابی حفاظتی ڈھانچے کی مضبوطی اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کے ذریعے مون سون سیزن کی تیاریوں میں نمایاں بہتری لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکموں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور انسانی جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل نہیں بلکہ موجودہ دور کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی وارننگ سسٹمز، مقامی سطح پر مزاحمتی صلاحیت اور عوامی آگاہی کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ ملک ٹیکنالوجی، پیش گوئی پر مبنی تجزیاتی نظام اور حقیقی وقت کی معلومات پر مبنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیش گوئی پر مبنی ڈیزاسٹر انٹیلی جنس سے خطرات کا بروقت اندازہ لگانے اور مؤثر فیصلے کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ نے اپنی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ وفاقی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ، ایمرجنسی سروسز اور متعلقہ محکموں کو ہر وقت چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وفد کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر تمام محکموں کو پورے مون سون سیزن کے دوران اعلیٰ سطح کی تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ مؤثر رابطے، بروقت مواصلاتی نظام اور فوری ردعمل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کے دوران کمزور اور حساس آبادیوں کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔

