Farozaan

عالمی ہیٹ ایکشن ڈے 2026 پر موسمیاتی محفوظ شہروں کی ضرورت اجاگر

عالمی ہیٹ ایکشن ڈے 2026: ’’شہر گرمی کو شکست دے سکتے ہیں‘‘ محفوظ، سرسبز اور پائیدار شہروں کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت

دنیا اس وقت ایک ایسے موسمیاتی بحران کے درمیان کھڑی ہے جہاں شدید گرمی خاموشی سے انسانی صحت، معیشت اور شہری زندگی کے لیے سب سے بڑے خطرات میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرینِ موسمیات کے مطابق ہیٹ ویوز اب محض موسمی واقعات نہیں رہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی سب سے مہلک علامات میں شمار ہونے لگی ہیں۔

اسی تناظر میں 2 جون کو دنیا بھر میں ’’ہیٹ ایکشن ڈے 2026‘‘ منایا جا رہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی گرمی کے خطرات کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کیا جا سکے اور ایسے عملی اقدامات کو فروغ دیا جا سکے جو انسانی جانوں کو محفوظ بنا سکیں۔

رواں سال ہیٹ ایکشن ڈے کا مرکزی موضوع ’’سِٹیز بیٹ دی ہیٹ‘‘ یعنی ’’شہر گرمی کو شکست دیں‘‘ ہے۔

اس موضوع کے ذریعے دنیا بھر کے شہروں، بلدیاتی اداروں، ماہرین، سماجی تنظیموں اور شہریوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ شدید گرمی کا مقابلہ صرف ایئر کنڈیشنرز یا ہنگامی امداد سے نہیں بلکہ بہتر شہری منصوبہ بندی، سبز انفراسٹرکچر، عوامی آگاہی اور موسمیاتی موافقت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے کئی خطے ایسے درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں جو چند دہائیاں پہلے ناقابلِ تصور تھے۔

گرمی: ایک خاموش قاتل

سیلاب، طوفان اور زلزلے فوری توجہ حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان کی تباہی آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہے، مگر شدید گرمی خاموشی سے جانیں لیتی ہے۔

عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی خطے ایسے درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں جو چند دہائیاں پہلے ناقابلِ تصور تھے۔

شدید گرمی دل، گردوں اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ ہیٹ اسٹروک اور ہیٹ ایگزاسشن جیسی کیفیت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین، بیرونی ماحول میں کام کرنے والے مزدور، رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور، صفائی کارکن اور کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق رات کی گرمی بعض اوقات دن کی گرمی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

شہر زیادہ گرم کیوں ہو رہے ہیں؟

ماہرین اس صورتحال کو ’’اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ‘‘ کہتے ہیں۔

شہروں میں کنکریٹ، اسفالٹ، سیمنٹ اور شیشے کی بلند عمارتیں سورج کی حرارت جذب کرکے طویل وقت تک محفوظ رکھتی ہیں۔ دوسری جانب درختوں، کھلے میدانوں اور سبز علاقوں کی کمی قدرتی ٹھنڈک کو کم کر دیتی ہے۔

اس کے علاوہ گاڑیوں، صنعتوں اور ایئر کنڈیشنرز سے خارج ہونے والی حرارت بھی شہری درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں کا درجہ حرارت اکثر اردگرد کے دیہی علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی شہروں میں رات کا درجہ حرارت بھی کم نہیں ہو پاتا، جس کے باعث انسانی جسم کو آرام اور بحالی کا موقع نہیں ملتا۔ ماہرین کے مطابق رات کی گرمی بعض اوقات دن کی گرمی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

2026 کا اہم نکتہ: گھروں کے اندر کی گرمی

اس سال عالمی ادارے خصوصی طور پر ’’انڈور ہیٹ‘‘ یعنی گھروں، اسکولوں، دفاتر، اسپتالوں، صنعتی اداروں اور دیگر عمارتوں کے اندر موجود گرمی کے خطرات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب لاکھوں لوگ اپنے ہی گھروں میں خطرناک حد تک بلند درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں۔

کچی آبادیوں، غیر معیاری تعمیرات، ٹین کی چھتوں اور محدود وسائل والے علاقوں میں صورتحال زیادہ سنگین ہوتی ہے۔ ایسے گھر دن بھر حرارت جذب کرتے ہیں اور رات کو بھی ٹھنڈے نہیں ہو پاتے۔

توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی کم آمدنی والے طبقات کو کولنگ سہولیات سے محروم کر رہی ہیں۔

پاکستان کے شہر اور بڑھتا ہوا خطرہ

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ چکا ہے۔

کراچی 2015 کی تباہ کن ہیٹ ویو کو آج بھی نہیں بھولا۔ اس سانحے کے بعد ہیٹ ویو مینجمنٹ، ابتدائی وارننگ سسٹم اور عوامی آگاہی کے اقدامات شروع کیے گئے، تاہم ماہرین کے مطابق خطرہ کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔

کراچی، لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں تیزی سے بڑھتی آبادی، سبز علاقوں کی کمی، بے ہنگم تعمیرات اور فضائی آلودگی گرمی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

دنیا کے کامیاب تجربات

دنیا کے مختلف شہر گرمی سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیاں اپنا رہے ہیں۔

بعض شہروں میں عمارتوں کی چھتوں کو سفید رنگ دیا جا رہا ہے تاکہ سورج کی حرارت کم جذب ہو۔ کئی ممالک ’’گرین روفز‘‘ اور ’’ورٹیکل گارڈنز‘‘ کو فروغ دے رہے ہیں۔

بارسلونا، پیرس، ایتھنز اور کیپ ٹاؤن سمیت مختلف شہروں میں ’’کولنگ سینٹرز‘‘ قائم کیے گئے ہیں جہاں شدید گرمی کے دوران شہری عارضی پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔

بعض شہروں نے خصوصی ’’چیف ہیٹ آفیسرز‘‘ بھی مقرر کیے ہیں جو گرمی سے متعلق حکمت عملیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

درخت: سب سے سستا اور مؤثر حل

ماہرین کے مطابق شہری گرمی کم کرنے کا سب سے آسان، قدرتی اور کم خرچ طریقہ شجرکاری ہے۔

ایک بالغ درخت اپنے اردگرد کے ماحول کو کئی ڈگری تک ٹھنڈا رکھ سکتا ہے۔ درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ بخارات کے عمل کے ذریعے فضا کو ٹھنڈا بھی کرتے ہیں۔

اسی لیے دنیا بھر میں شہری جنگلات اور گرین کوریڈورز کے منصوبوں کو موسمیاتی موافقت کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بھی اگر سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں، پارکوں اور رہائشی علاقوں میں مقامی اقسام کے درختوں کی شجرکاری کو ترجیح دی جائے تو شہروں کی گرمی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

گرمی اور معیشت

شدید گرمی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی بحران بھی ہے۔

جب درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے تو تعمیرات، زراعت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ دن کے اوقات میں کام محدود ہونے سے پیداوار کم ہوتی ہے جبکہ بجلی کی طلب میں اضافہ توانائی کے نظام پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔

عالمی سطح پر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر گرمی کی شدت میں اضافہ جاری رہا تو آنے والی دہائیوں میں اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مستقبل کے موسمیاتی محفوظ شہر

ہیٹ ایکشن ڈے 2026 اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مستقبل کے کامیاب شہر وہی ہوں گے جو موسمیاتی تبدیلی کو اپنی منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ بنائیں گے۔

ایسے شہر جہاں درخت ہوں، سبز چھتیں ہوں، بارش کے پانی کو محفوظ کیا جائے، پیدل چلنے والوں کے لیے سایہ دار راستے ہوں، ماحول دوست ٹرانسپورٹ موجود ہو اور عمارتیں مقامی موسمی حالات کے مطابق تعمیر کی جائیں۔

یہ صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ انسانی صحت، سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کی بھی ضمانت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی الرٹ: درجہ حرارت ریکارڈ کے قریب

پلوٹونیم پروگرام، بجلی یا سلامتی کا خطرہ؟

شہر کو ٹھنڈا رکھنے کے دس عملی اقدامات

اجتماعی اقدام کی ضرورت

شدید گرمی کا بحران کسی ایک ملک، شہر یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے، جس کا مقابلہ مشترکہ اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

حکومتوں کو مؤثر پالیسی سازی، شہری اداروں کو بہتر منصوبہ بندی، ماہرین کو تحقیق، میڈیا کو آگاہی اور شہریوں کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانا ہوگا۔

ہیٹ ایکشن ڈے 2026 کا پیغام واضح ہے کہ اگر شہر خود کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھال لیں تو لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

’’شہر گرمی کو شکست دے سکتے ہیں‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ مستقبل کے محفوظ، سرسبز اور پائیدار شہروں کا وژن ہے۔

اور شاید یہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کو ایک ایسے سیارے پر بہتر زندگی دے سکتا ہے جہاں گرمی جان لیوا بحران کے بجائے ایک قابلِ انتظام چیلنج بن جائے۔

admin

Recent Posts

ہیٹ ویو الرٹس: خطرات بڑھ گئے

ہیٹ ویو الرٹس کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان، ماہرین نے فوری عوامی آگاہی…

16 hours ago

عالمی یومِ بحر 2026: سمندروں کا تحفظ، انسانیت کا تحفظ

عالمی یومِ بحر 2026: پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر…

2 days ago

کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کب سے شروع ہوگی؟

کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کا خدشہ، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان، محکمہ موسمیات جلد…

3 days ago

موسمیاتی لچک، ترقی کے لیے ناگزیر

ماہرین نے موسمیاتی لچک پذیری کو قومی منصوبہ بندی اور بجٹ کا حصہ بنانے، جبکہ…

3 days ago

راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد

راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد، پاک ای پی اے…

4 days ago

لاڑکانہ: ماحولیات کانفرنس میں تحفظ پر زور

لاڑکانہ میں ماحولیات کانفرنس، ماہرین کا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر…

4 days ago

This website uses cookies.