فروزاں رپورٹ
جنیوا، سوئٹزرلینڈ (ڈبلیو ایم او) : عالمی موسمیاتی تنظیم کی نئی رپورٹ کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں عالمی اوسط درجہ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب یا اس سے زیادہ رہ سکتا ہے۔
رپورٹ برطانیہ کے محکمہ موسمیات “میٹ آفس” نے تیار کی ہے۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ آرکٹک خطے میں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔
“گلوبل اینول ٹو ڈیکیڈل اپڈیٹ” رپورٹ میں گزشتہ پانچ برسوں کے موسمی رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی آئندہ پانچ برسوں کے لیے درجہ حرارت اور بارش سے متعلق علاقائی پیش گوئیاں بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2026 سے 2030 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی دور (1850–1900) کے مقابلے میں 1.3 سے 1.9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
اس بات کا 86 فیصد امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس عرصے میں کم از کم ایک سال 2024 کو پیچھے چھوڑ کر ریکارڈ کا گرم ترین سال بنے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 91 فیصد امکان ہے کہ 2026 سے 2030 کے دوران کم از کم ایک سال کے لیے عالمی درجہ حرارت عارضی طور پر 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرے گا۔
واضح رہے کہ 2024 میں بھی یہ حد عارضی طور پر عبور ہوئی تھی، جب درجہ حرارت تقریباً 1.55 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید یہ کہ 75 فیصد امکان ہے کہ پانچ سالہ اوسط بھی 1.5 ڈگری سے زیادہ ہوگا، تاہم کسی ایک سال میں 2 ڈگری سے تجاوز کا امکان ایک فیصد سے بھی کم بتایا گیا ہے۔
مرکزی استوائی بحرالکاہل (نینو 3.4) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2027 اور 2028 میں ایل نینو کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر لیون ہرمنسن کے مطابق 2026 کے آخر میں ایل نینو بننے کا امکان ہے، جو 2027 کو مزید گرم سال بنا سکتا ہے۔
یہ رپورٹ 13 عالمی اداروں کی پیش گوئیوں کو یکجا کر کے تیار کی گئی ہے۔ ان میں بارسلونا سپرکمپیوٹر سینٹر، کینیڈین کلائمٹ ماڈلنگ سینٹر، ڈوئچر ویٹر ڈینسٹ اور میٹ آفس شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی درجہ حرارت کی سالانہ پیش گوئیاں قابلِ اعتماد ہیں، کیونکہ ماضی کے ڈیٹا سے ان کی درستگی ثابت ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پیرس معاہدے میں طے کردہ 1.5 اور 2 ڈگری کی حدیں طویل المدتی بنیادوں پر دیکھی جاتی ہیں، جو عموماً 20 سالہ اوسط پر مبنی ہوتی ہیں۔
کسی ایک سال میں اس حد کا عبور ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ عالمی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے، تاہم ایسے واقعات میں اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ پانچ سردیوں میں آرکٹک کا درجہ حرارت 1991–2020 کے اوسط سے تقریباً 2.8 ڈگری زیادہ رہ سکتا ہے۔
یہ اضافہ عالمی اوسط سے تقریباً ساڑھے تین گنا زیادہ ہے، جو خطے میں تیزی سے بدلتے موسمی نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید برآں، بارینٹس، بیرنگ اور اوخوتسک سمندروں میں سمندری برف میں کمی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی نصف کرے کے بلند عرض البلد علاقوں میں آئندہ سردیوں کے دوران معمول سے زیادہ بارش متوقع ہے۔
گرم موسم کے باعث استوائی اور بلند عرض البلد علاقوں میں بارشوں میں اضافہ ہوگا، جبکہ نیم استوائی خطوں خصوصاً جنوبی نصف کرے میں کمی کا رجحان برقرار رہے گا۔
مئی سے ستمبر 2026 تا 2030 کے دوران شمالی یورپ، الاسکا اور سائبیریا میں زیادہ بارش جبکہ ایمیزون میں خشک حالات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مختلف خطوں کے لیے الگ الگ پیش گوئیاں بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر جنوب مشرقی یورپ میں سردیوں کے دوران بارشوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے۔
سن2026 سے 2030 کے دوران اس خطے میں اوسط سے زیادہ بارش کا امکان ہے، تاہم اس پیش گوئی پر اعتماد نسبتاً کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پلوٹونیم پروگرام، بجلی یا سلامتی کا خطرہ؟
شہر کو ٹھنڈا رکھنے کے دس عملی اقدامات
ورلڈ اربن فورم 2026 اور محفوظ، پائیدار شہروں کا عالمی خواب
یہ موسمیاتی پیش گوئیاں علاقائی موسمیاتی مراکز اور قومی اداروں کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق مختلف خطوں اور موسموں کے لحاظ سے ان موسمیاتی پیش گوئیوں کی درستگی میں فرق ہو سکتا ہے۔
ہیٹ ویو الرٹس کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان، ماہرین نے فوری عوامی آگاہی…
عالمی یومِ بحر 2026: پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر…
کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کا خدشہ، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان، محکمہ موسمیات جلد…
ماہرین نے موسمیاتی لچک پذیری کو قومی منصوبہ بندی اور بجٹ کا حصہ بنانے، جبکہ…
راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد، پاک ای پی اے…
لاڑکانہ میں ماحولیات کانفرنس، ماہرین کا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر…
This website uses cookies.