توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار کے دوران شرکاء پالیسی امور، توانائی کے مستقبل اور صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ سیٹلمنٹ سسٹم، ایکسپورٹ کریڈٹ اور ٹیرف پالیسی پر بھی ہے،ماہرین
فرحین العاص بیورو چیف اسلام آباد
اسلام آباد میں الٹرنیٹ ڈیولپمنٹ سروسز اور گرین کارپوریٹ الائنس کے اشتراک سے ، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں قومی سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس کا عنوان “توانائی تحفظ اور پائیدار صنعتی ترقی: پروزیومر ریگولیشنز، ٹیرف اسٹراکچر اور جیو پولیٹیکل جھٹکوں کے اثرات” تھا۔
اس موقع پر کی تحقیقی رپورٹ اور پاکستان انرجی سیکیورٹی کوڈیکس2026بھی جاری کی گئی۔ سیمینار میں سرکاری اداروں، توانائی ماہرین، صنعت، جامعات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
2026 تحقیقی رپورٹ کے مطابق نیپرا کے پروزیومر ریگولیشنزکے تحت نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی جانب منتقلی کی گئی۔ جس نے صنعتی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل انڈسٹری میں روف ٹاپ سولر منصوبوں کی مالیاتی افادیت کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اب سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ سیٹلمنٹ سسٹم، ایکسپورٹ کریڈٹ اور ٹیرف پالیسی پر بھی ہے۔
نیپرا کے ڈائریکٹر جنرل (لائسنسنگ) امتیاز حسین بلوچ نے کہا کہ بجلی کا قومی گرڈ توانائی نظام کی بنیاد ہے۔ اس لیے قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی مرحلہ وار اور سائنسی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی پالیسی دباؤ پر نہیں۔ بلکہ تحقیق، لاگت و فائدے کے تجزیے اور زمینی حقائق کی بنیاد پر تشکیل دی جانی چاہیے۔ تاکہ نظام میں استحکام برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں
صاف پانی کے حصول میں سولر کا کلیدی کردار ہے
کراچی میں لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور توانائی بحران شدت اختیار کر گیا
سیمینار کے مختلف سیشنز میں مقررین نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے کچھ اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس میں بجلی کی قیمتوں میں استحکام، قابل تجدید توانائی کے بہتر انضمام، بیٹری اسٹوریج، ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں اور اخراجی عوامل کی مؤثر منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
ماہرین نے متنبہ کیا کہ عالمی منڈیوں میں کم کاربن مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کے پیش نظر توانائی پالیسی براہ راست برآمدات اور صنعتی ترقی پر اثر انداز ہوگی۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کشیدہ ہے۔ اور درآمدی ایندھن پر انحصار پاکستان کی توانائی سلامتی کے لیے بڑے خطرات ہیں۔
مقررین کے مطابق ملک کو شمسی، ہوا، پن بجلی اور دیگر مقامی توانائی ذرائع کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنی چایئے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ تاکہ صنعتی شعبہ عالمی معاشی جھٹکوں سے محفوظ رہ سکے۔
سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے سفارش کی کہ توانائی پالیسی کو سرمایہ کاری دوست، شفاف اور مرحلہ وار بنایا جائے۔ نیٹ بلنگ کے اثرات پر مزید تکنیکی جائزہ لیا جائے۔ بیٹری اسٹوریج، ویسٹ ٹو انرجی، گرڈ اصلاحات اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے واضح حکمت عملی اختیار کی جائے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ یہی اقدامات پاکستان کے توانائی تحفظ، صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
This website uses cookies.