Environmental Reports Farozaan

پلوٹونیم پروگرام، بجلی یا سلامتی کا خطرہ؟

Plutonium Program: Power Solution or Security Risk?

پلوٹونیم پروگرام: امریکا اسلحہ ساز جوہری مواد سے بجلی بنانے کے منصوبے پر گامزن، سلامتی سے متعلق سوالات اٹھ گئے

کئی برسوں سے امریکی وفاقی حکومت سرد جنگ کے دور کے پرانے اور غیر استعمال شدہ جوہری ہتھیاروں میں موجود پلوٹونیم کو نئی نسل کے جوہری بجلی گھروں کے ایندھن میں تبدیل کرنے پر کام کر رہی ہے۔

اب زیرِ غور ایک اہم معاہدہ پہلی بار پانچ نجی کمپنیوں کو اسلحہ ساز درجے کے پلوٹونیم تک رسائی دے سکتا ہے، جسے بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

امریکی محکمۂ توانائی نے منگل کو اعلان کیا کہ جدید جوہری توانائی کمپنی “اوکلو اِنکارپوریٹڈ” سمیت چار دیگر کمپنیوں کو سرپلس پلوٹونیم یوٹیلائزیشن پروگرام تک رسائی کے لیے “اعلیٰ سطحی مذاکرات” کے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔

محکمۂ توانائی کے دفتر برائے جوہری توانائی کے ترجمان کے مطابق یہ مذاکرات ابھی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوئے۔

محکمۂ توانائی کے جوہری توانائی امور کے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری مائیک گوف نے ایک بیان میں کہا کہ یہ پروگرام کمپنیوں کو نجی سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کر سکتا ہے

مقامی جوہری ایندھن کی فراہمی بڑھا سکتا ہے، امریکی ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز میں جدت لا سکتا ہے اور ملک میں جوہری توانائی کے نئے دور کو فروغ دے سکتا ہے۔

یہ کمپنیاں اپنے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے لیے ایندھن حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

جدید جوہری صنعت کے لیے اہم پیش رفت

اگر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پلوٹونیم سے متعلق یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ کمپنیاں اپنے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے لیے ایندھن حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

تاہم اس منصوبے سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے دیگر ممالک کو بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی ترغیب مل سکتی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے باغی ریاستوں یا دہشت گرد تنظیموں تک حساس مواد کی رسائی کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

جوہری پھیلاؤ کے خدشات

ستمبر میں میساچوسٹس کے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈ مارکی، ورجینیا کے رکنِ کانگریس ڈان بیئر اور کیلیفورنیا کے رکنِ کانگریس جان گارامینڈی نے ایک خط میں خبردار کیا تھا کہ ہتھیار بنانے کے قابل پلوٹونیم نجی صنعت کے حوالے کرنے سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے باغی ریاستوں یا دہشت گرد تنظیموں تک حساس مواد کی رسائی کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

خط میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ خود پلوٹونیم کو سول مقاصد کے لیے استعمال کرے گا تو وہ دیگر ممالک کو ایسا کرنے سے مؤثر طور پر نہیں روک سکے گا۔

تاہم اس وقت ان کمپنیوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ایندھن کی دستیابی ہے۔

چھوٹے جوہری ری ایکٹرز کی بڑھتی اہمیت

چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز کو روایتی جوہری بجلی گھروں کے مقابلے میں کم جگہ اور کم دیکھ بھال درکار ہوتی ہے۔

کئی جدید جوہری کمپنیوں کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے باعث امریکہ میں بجلی کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

تاہم اس وقت ان کمپنیوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ایندھن کی دستیابی ہے۔

جدید جوہری ری ایکٹرز کو روایتی ری ایکٹرز کے مقابلے میں زیادہ توانائی والے اور زیادہ افزودہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے۔

2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز سے قبل روس امریکہ کو افزودہ یورینیم فراہم کرنے والا ایک اہم ملک تھا۔

اسی دوران ملک میں یورینیم افزودگی کی مقامی صلاحیتوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

پلوٹونیم ذخائر سے امیدیں وابستہ

اوکلو جیسی کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے پلوٹونیم ذخائر نئی نسل کے ری ایکٹرز کو جلد ایندھن فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسی دوران ملک میں یورینیم افزودگی کی مقامی صلاحیتوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

اوکلو امریکی محکمۂ توانائی کی لاس ایلاموس نیشنل لیبارٹری کے ساتھ مل کر اپنی ری ایکٹر ٹیکنالوجی کے تجربات کر رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخی مین ہیٹن منصوبے کا آغاز ہوا تھا۔

اوکلو کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جیکب ڈی وِٹ نے کہا کہ ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ جدید جوہری ری ایکٹرز کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمۂ توانائی کا یہ پروگرام اضافی پلوٹونیم کو عبوری ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کا راستہ ہموار کر سکتا ہے، جس سے مزید ری ایکٹرز جلد فعال کیے جا سکیں گے۔

مزید کمپنیوں کی شمولیت

اوکلو کے علاوہ محکمۂ توانائی نے ایکسوڈِس انرجی، شائن، اسٹینڈرڈ نیوکلیئر اور فلائب انرجی کو بھی پ

لوٹونیم پروگرام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے منتخب کیا ہے۔

نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کی تنصیبات میں سائنس دان جدید ری ایکٹرز کے لیے ایندھن تیار کر رہے ہیں۔

بائیڈن اور ٹرمپ ادوار کی پالیسی

پرانے پلوٹونیم کو جوہری ایندھن میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے سے قبل بائیڈن انتظامیہ کا محکمۂ توانائی اور نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن پلوٹونیم کو کمزور بنا کر نیو میکسیکو میں زمین کی گہرائی میں دفن کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

تاہم بائیڈن اور ٹرمپ دونوں ادوار میں سائنس دان اور توانائی حکام امریکی جوہری ذخائر کے مختلف حصوں کو توانائی میں تبدیل کرنے کے طریقے تلاش کرتے رہے ہیں۔

نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کی تنصیبات میں سائنس دان جدید ری ایکٹرز کے لیے ایندھن تیار کر رہے ہیں۔

اس عمل میں اسلحہ ساز درجے کے یورینیم اور کم افزودہ یورینیم کو تقریباً ڈھائی ہزار ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت پر ایک بڑے دھاتی برتن میں پگھلا کر ملایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ورلڈ اربن فورم 2026 اور محفوظ، پائیدار شہروں کا عالمی خواب

امریکا میں جنگلاتی آگ کا بحران مزید خطرناک ہونے والا ہے؟

موسمیاتی بحران کے خلاف عالمی اتحاد

ایندھن کی تلاش ایک بڑا چیلنج

اس وفاقی پروگرام کے علاوہ امریکہ کی مختلف نجی کمپنیاں یورینیم افزودگی کی مقامی صلاحیتوں کی بحالی پر بھی کام کر رہی ہیں۔

2024 میں میڈیا رپورٹس کے مطابق مائیک گوف نے جدید جوہری ری ایکٹرز کے لیے موزوں ایندھن کی تلاش کو ایک مشکل مشق قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ محکمۂ توانائی ہر ممکن ذریعہ تلاش کر رہا ہے تاکہ کمپنیوں کو جلد از جلد ایندھن فراہم کیا جا سکے۔

محکمۂ توانائی کی جانب سے منتخب کمپنی شائن کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر گریگ پائیفر نے کہا کہ جدید ری ایکٹرز کی صنعت کو اس وقت ایندھن تک رسائی کے سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے، جو صرف پالیسی نہیں بلکہ کیمیا اور بنیادی ڈھانچے کا بھی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ برسوں سے ذخیرہ کیے گئے اضافی جوہری مواد کو نئی نسل کے ری ایکٹرز کے ایندھن میں تبدیل کرنا دراصل وہی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے شائن کمپنی قائم کی گئی تھی

اپنا تبصرہ لکھیں