Environmental Reports

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک میں کمی کی بڑی رکاوٹ۔

اقوامِ متحدہ کی پانچ خصوصی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ 2025 میں مسلسل تیسرے سال عالمی سطح پر بھوک کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، توانائی کا بحران اور خوراک کی بڑھتی قیمتیں اس پیش رفت کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ “دی اسٹیٹ آف فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026” (ایس او ایف آئی 2026) کے مطابق بھوک اور غذائی قلت میں کمی کی رفتار اب بھی سست اور غیر یقینی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا اور لاطینی امریکہ میں غذائی تحفظ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ تاہم افریقہ اب بھی سب سے زیادہ متاثرہ براعظم ہے۔

مختلف خطوں میں صورتحال مختلف

رپورٹ کے مطابق ایشیا اور لاطینی امریکہ میں غذائی تحفظ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ تاہم افریقہ اب بھی سب سے زیادہ متاثرہ براعظم ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق افریقہ کی نصف سے زیادہ آبادی درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں خوراک کی کمی شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں عالمی بھوک دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی خطرہ بڑھا رہے ہیں

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں عالمی بھوک دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

اس کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، توانائی اور کھاد کی بڑھتی قیمتیں، اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے شدید موسمی واقعات شامل ہیں۔

عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی خوراک کے عالمی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات کووڈ-19 وبا کے بعد عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑے چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایل نینو کے اثرات خشک سالی، سیلاب اور شدید گرمی میں اضافہ کریں گے۔ اس سے زرعی پیداوار متاثر ہوگی اور خوراک مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق صحت بخش غذا کی بڑھتی قیمت بھی غذائی عدم تحفظ ختم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

صحت بخش غذا عام آدمی کی پہنچ سے دور

رپورٹ کے مطابق صحت بخش غذا کی بڑھتی قیمت بھی غذائی عدم تحفظ ختم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

2025 میں دنیا بھر میں متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ایسی خوراک خریدنے کی استطاعت رکھنے والے افراد کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق افریقہ میں صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت دیگر براعظموں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔

صرف خوراک سستی کرنا کافی نہیں

اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں نے زور دیا کہ صحت بخش غذا کی قیمت کم کرنا ضروری ہے، لیکن صرف یہی اقدام غذائیت کا معیار بہتر بنانے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت، مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی عدم استحکام جیسے بنیادی مسائل کو بھی بیک وقت حل کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

افریقہ، غزہ، افغانستان اور ہیٹی شدید متاثر

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے پہلے ہی غزہ، افغانستان، ہیٹی اور دیگر تنازع زدہ علاقوں میں غذائی عدم تحفظ کی تشویشناک صورتحال سے خبردار کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غذائی قلت سے سب سے زیادہ متاثر براعظم افریقہ ہے۔

جنوری 2026 میں اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ صومالیہ میں سیاسی عدم استحکام، مسلح تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث لاکھوں افراد شدید بھوک اور غذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عالمی خوراک پروگرام کے مطابق نائجیریا میں فنڈز کی کمی کے باعث دس لاکھ سے زائد افراد خوراک کی قلت اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔ جبکہ جبوتی میں بھی مہنگی خوراک اور دیگر معاشی مسائل کے باعث ہنگامی درجے کا غذائی بحران برقرار ہے۔

admin

Recent Posts

پاکستان میں فضائی آلودگی، زندگی کے 3.9 سال کم

پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…

12 hours ago

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…

2 days ago

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…

3 days ago

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…

3 days ago

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…

4 days ago

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

5 days ago

This website uses cookies.