فروزاں رپورٹ
نیوزی لینڈ کے کلائمیٹ چینج کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ملک 2050 کے موسمیاتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔
رپورٹ رواں ماہ جاری کی گئی تھی، تاہم بدھ کو اسے وسیع پیمانے پر توجہ ملی۔ رپورٹ کے مطابق ویلنگٹن کی دائیں بازو کی حکومت نے 2025 میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق کمیشن کی اہم سفارشات پر عمل نہیں کیا۔
کمیشن نے سفارش کی تھی کہ حیاتیاتی میتھین کے اخراج میں مزید کمی کی جائے۔ اس کے ساتھ دیگر تمام گرین ہاؤس گیسوں کے لیے نیٹ منفی اخراج کا ہدف مقرر کیا جائے، یعنی ماحول سے خارج ہونے والی مقدار سے زیادہ گیسوں کو ختم کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے کلائمیٹ چینج ریسپانس ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے 2050 تک حیاتیاتی میتھین میں مطلوبہ کمی کو کم کر دیا، جبکہ دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے لیے نیٹ زیرو ہدف برقرار رکھا۔
کمیشن نے خبردار کیا کہ “درست سمت اختیار کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔”
رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کو اخراج کی قیمت کے نظام سے مستثنیٰ رکھنا، صاف گاڑیوں سے متعلق قوانین میں تبدیلی، کاروباری اداروں کے لیے رپورٹنگ کی شرائط نرم کرنا اور مائع قدرتی گیس کے درآمدی ٹرمینل کی منصوبہ بندی جیسے اقدامات مجموعی اخراج میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
کمیشن کے مطابق ان اقدامات سے دیگر شعبوں میں ہونے والی اخراج کی کمی کا فائدہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔
کلائمیٹ چینج کمیشن کی چیف ایگزیکٹو جو ہینڈی نے رپورٹ کو “واضح انتباہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اخراج میں بتدریج کمی آ رہی ہے، لیکن 2024 میں یہ پیش رفت رک گئی۔ موجودہ پالیسیاں مطلوبہ رفتار سے نتائج نہیں دے رہیں۔
ان کے مطابق آئندہ 12 سے 24 ماہ میں حکومت کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا نیوزی لینڈ دوبارہ اپنے موسمیاتی اہداف کی راہ پر گامزن ہو سکے گا یا نہیں۔
رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے کچھ ایسی پالیسیاں بھی متعارف کرائی ہیں جو اخراج میں کمی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ان کے مثبت اثرات دوسری ایسی پالیسیوں سے زائل ہو سکتے ہیں جو اخراج میں اضافہ کریں گی۔
کمیشن نے ماحولیات کی وزارت کو ختم کر کے اسے شہروں، ماحولیات، خطوں اور ٹرانسپورٹ کے نئے محکمے میں ضم کرنے کے حکومتی فیصلے کو بھی ایک خطرہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں
ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس
اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ
رواں سال نیوزی لینڈ کی حکومت کے خلاف موسمیاتی پالیسیوں پر عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیا گیا۔ لاائرز فار کلائمیٹ ایکشن اور انوائرمنٹل لا انیشی ایٹو نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔
اس مقدمے کا فیصلہ آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…
برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…
خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…
بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…
This website uses cookies.