Environmental Reports

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ کو قرضوں میں بدلنے کی تجویز پر خدشات۔

برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کو ریلیف دینے اور کم کاربن ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، ان منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کا ایک حصہ بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت (کلائمیٹ فنانس) کے بجٹ سے منتقل کیے جانے کے امکان نے ماہرین میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

انہوں نے ایڈ ملی بینڈ کو وزیر خارجہ و ترقی اور میاٹا فانبولے کو موسمیاتی و توانائی کی وزیر مقرر کیا۔

نئی کابینہ، موسمیاتی ترجیحات

اینڈی برنہم نے پیر کے روز لیبر پارٹی کے رہنما اور وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔ انہوں نے ایڈ ملی بینڈ کو وزیر خارجہ و ترقی اور میاٹا فانبولے کو موسمیاتی و توانائی کی وزیر مقرر کیا۔ دونوں رہنما ماحول دوست پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

بجلی پر ٹیکس ختم

وزیراعظم نے منگل کو اعلان کیا کہ یکم اکتوبر سے گھریلو صارفین اور بعض چھوٹے کاروباروں کے بجلی کے بلوں پر عائد 5 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) ختم کر دیا جائے گا۔ اس اقدام سے ہر گھرانے کو سالانہ تقریباً 45 پاؤنڈ (60 امریکی ڈالر) کی بچت ہوگی۔

بس کرایوں میں بھی کمی

بدھ کو ایک اور اعلان میں کہا گیا کہ انگلینڈ میں بس کے ایک طرفہ سفر کا زیادہ سے زیادہ کرایہ 3 پاؤنڈ سے کم کرکے 2 پاؤنڈ کر دیا جائے گا۔ یہ نئی پالیسی یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگی۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کو نجی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ترغیب دینا اور کم اخراج والی سفری سہولتوں کو فروغ دینا ہے۔

موسمیاتی فنڈز سے اخراجات پورے کرنے کی تجویز

حکومت کا کہنا ہے کہ بس کرایوں میں کمی کے لیے دی جانے والی سبسڈی کا زیادہ تر حصہ بیرونِ ملک موسمیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کو گرانٹس کے بجائے قرضوں کی صورت میں فراہم کرکے حاصل کیا جائے گا۔

حکومت نے اس منصوبے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ تاہم، برطانیہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اس پالیسی پر ابھی کام جاری ہے۔

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

ماہرین کے خدشات

مجوزہ تبدیلی پر ماہرین اور ترقی پذیر ممالک میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی امداد گرانٹس کے بجائے قرضوں میں تبدیل کی گئی تو غریب ممالک پر مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ اس سے عالمی موسمیاتی انصاف اور ترقیاتی اہداف بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

21 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

موسمیاتی تبدیلی کا نیا چہرہ:کیا جانور خود کو دوبارہ تشکیل دے رہے ہیں؟

موسمیاتی تبدیلی صرف موسم نہیں بدل رہی بلکہ زندگی کی حیاتیاتی شکلیں، عادات اور بقا…

6 days ago

This website uses cookies.