Environmental Reports • Farozaan

5 اکتوبر عالمی یوم اساتذہ

October 5 – World Teachers’ Day

عالمی یوم اساتذہ، استاد صرف معلم نہیں بلکہ نسلِ نو کے لیے پائیدار ماحولیاتی مستقبل کا اہم حقیقی معمار بھی ہے۔

دنیا کے اکثر ممالک میں ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو باقاعدہ طور پر منانے کا آغاز اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے 5 اکتوبر 1994 کو کیا تھا۔

5 اکتوبر کو عالمی یوم اساتذہ کے لیے مختص کرنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یونیسکو اور عالمی ادارہ محنت کے زیر اہتمام 5 اکتوبر 1966 کو پیرس میں اساتذہ کے حقوق، ذمہ داریوں اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے ایک خصوصی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔

اس کانفرنس میں ’’اساتذہ کی حیثیت سے متعلق سفارشات‘‘ کے نام سے ایک تاریخی دستاویز منظور کی گئی تھی۔ اس تاریخی دستاویز کی منظوری کی یاد کو ہر سال تازہ رکھنے کی غرض سے 5 اکتوبر کو عالمی یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔

دنیا میں پیش آنے والے عالمی حالات کے تناظر میں اساتذہ کو درپیش چیلنجز کے تحت ہر سال ایک خاص خیال یا موضوع مقرر کیا جاتا ہے، جو اس سال کی تقریبات کا موضوع قرار پاتا ہے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں یہ دن مختلف انداز میں منایا جاتا ہے۔

اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو ایوارڈز، تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔

پاکستان میں عالمی یوم اساتذہ

وطن عزیز پاکستان میں عالمی یوم اساتذہ پہلی بار مشرف دور میں 5 اکتوبر 2004 کو ’’سلام ٹیچرز ڈے‘‘ کے نام سے قومی سطح پر نیشنل لائبریری ہال اسلام آباد میں منایا گیا تھا۔

راقم الحروف کو اس اعلیٰ سطحی قومی تقریب میں شریک ہو کر وزیراعظم پاکستان جناب شوکت عزیز سے طلائی تمغہ پانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔

اب ہر سال پاکستان میں قومی سطح کی تقریبات کے علاوہ ملک بھر کے سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات، کانفرنسز اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان میں اساتذہ کے مقام و مرتبے اور حقوق و فرائض پر گفتگو ہوتی ہے۔

اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو ایوارڈز، تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ بچے اپنے اساتذہ کو تحائف پیش کرکے ان سے اپنی محبتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض مدارس میں اس دن خوشی کی ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں۔

تعلیمی نقطہ نظر اور سماجی لحاظ سے یومِ اساتذہ انتہائی اہمیت اور افادیت کا حامل ہے۔

استاد، قوم کا معمار

تعلیمی نقطہ نظر اور سماجی لحاظ سے یومِ اساتذہ انتہائی اہمیت اور افادیت کا حامل ہے۔ یہ دن جہاں اساتذہ کو ان کے مقام و منصب کے تقدس کی یاد دلاتا ہے، وہیں انہیں اپنی عظیم ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔

دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں استاد کو ’’معمارِ قوم‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اس کی انتھک محنت، لگن اور نسلِ نو کی تربیت میں اس کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک واضح دلیل ہے۔

معمارِ قوم کی ذمہ داری صرف اپنی نسلوں کو علم منتقل کرنا یا انہیں معلومات بہم پہنچانا نہیں، بلکہ انہیں ایسی ہمہ جہت تربیت فراہم کرنا بھی ہے جو مستقبل میں ایک صالح اور باکردار معاشرے کے قیام اور صحت مند ماحول کی تشکیل میں مدد دے سکے۔

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ صحت مند روح کے لیے صحت مند جسم ضروری ہے۔ اسی طرح صحت مند جسم کے لیے تمام قدرتی وسائل سے مالا مال صحت مند ماحول بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ معمارِ قوم صحت مند ماحول کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس صورت حال کے باعث آج انسانی اور حیوانی حیات کے علاوہ آبی اور نباتاتی حیات بھی خطرے سے دوچار ہے۔

ماحولیاتی بحران اور نسلِ نو

ماحول انسانی زندگی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے ہر قسم کی آلائشوں اور آلودگیوں سے پاک ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے آج ہمارا ماحول خود ہمارے اپنے ہاتھوں تباہی کے دہانے پر پہنچا ہوا ہے۔

انسانی آبادی میں روز افزوں اضافے کے ساتھ جدید سائنسی اور صنعتی ترقی، درختوں اور جنگلات کی بے ہنگم کٹائی، قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، آلودگی میں بے تحاشا اضافہ اور گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلیوں جیسے عناصر نے ہمارے قدرتی ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اس صورت حال کے باعث آج انسانی اور حیوانی حیات کے علاوہ آبی اور نباتاتی حیات بھی خطرے سے دوچار ہے۔ اگر ہم نے بروقت ان حالات پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی تو مستقبل کے انسان کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لہٰذا آج ہمیں اپنی نسلوں کو ماحول بچانے کا شعور دینے کی اشد ضرورت ہے۔ بچوں میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کی ذمہ داری ہمارے اساتذہ ہی بہتر انداز میں انجام دے سکتے ہیں، جن کے زیرِ سایہ نسلیں تربیت پاتی ہیں۔

ماحولیاتی شعور کی اہمیت

ماحولیاتی شعور سے مراد صرف یہ جاننا نہیں کہ ماحول کیا ہے، بلکہ یہ سمجھنا بھی ہے کہ انسانی سرگرمیاں قدرتی ماحول کو کس طرح متاثر کرتی ہیں اور ایک فرد، خاندان، ادارہ اور معاشرہ ماحول کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔

بچوں میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنے کا بہترین مرحلہ ان کا ابتدائی دور ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب بچے کی عادات، اقدار اور سوچ کے بنیادی ڈھانچے تشکیل پاتے ہیں۔

اگر ایک بچہ اسکول میں اپنے اساتذہ سے پانی بچانے، درخت لگانے، آلودگی روکنے، پلاسٹک کو ٹھکانے لگانے، صفائی اختیار کرنے اور قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کے اصول سیکھتا ہے تو یہ عادات اس کی پوری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

پھر یہی اصول وہ اپنے گھر، خاندان اور معاشرتی حلقوں تک پہنچاتا ہے۔ اس وجہ سے استاد کو ماحولیاتی شعور کا سفیر بھی کہا جاتا ہے۔

ایک کامیاب استاد نہ صرف نئی نسل کو تیار کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے میں ماحول دوست سوچ پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

استاد، ماحولیاتی محافظ

ایک کامیاب استاد نہ صرف نئی نسل کو تیار کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے میں ماحول دوست سوچ پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

تعلیم کا مقصد صرف روزگار کے لیے افراد پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسے ذمہ دار شہری پیدا کرنا بھی ہے جو اپنے معاشرے اور قدرتی ماحول کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔

تعلیمی عمل میں استاد کو ہمیشہ سے قوم کا معمار کہا جاتا رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں استاد معمارِ قوم کے علاوہ ایک ماحولیاتی محافظ کی حیثیت بھی رکھتا ہے، بشرطیکہ وہ ماحول کا علم رکھتا ہو اور خود بھی ماحول دوست ہو۔

ایک ماحول دوست استاد اپنے طلبہ کی سوچ کو اس انداز میں تشکیل دے سکتا ہے کہ وہ ماحول کو صرف ایک موضوع نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ سمجھیں۔

وقت اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی نصاب کے ماہرین نے مختلف درجوں کی اردو، سائنس اور معاشرتی علوم کی کتابوں میں ماحولیاتی موضوعات اور تصورات کو شامل کیا ہے۔

استاد کا فرض ہے کہ وہ نصاب میں موجود ماحولیاتی تصورات کو بچوں کی روزمرہ کی عملی زندگی سے مربوط کرکے پڑھائے۔ استاد کے اس عمل سے بچوں میں ماحول شناسی کی اہمیت واضح ہوجائے گی۔

فطرت اور انسان کا باہمی تعلق

ماحول کے عناصرِ اربعہ میں جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان شامل ہیں، جو قدرت کے ایک لگے بندھے قانون کے تحت ایک دوسرے کی خدمت پر مامور ہیں۔

جمادات، جن میں زمین اور پانی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، نباتات اگانے پر مامور ہیں۔ نباتات حیوانات اور انسانوں کی خدمت کے لیے تخلیق پائے ہیں۔ اسی طرح حیوانات کو انسانوں کی خدمت کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ انسان، جو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے روئے زمین پر خدا کا خلیفہ بھی ہے، ان تمام موجودات کی حفاظت اور نگہداشت پر مامور ہے۔

الٰہی سنت کے اس مجموعے کو فطرت بھی کہا جاتا ہے۔ معلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو دلچسپ مثالوں کے ذریعے نظامِ کائنات کو سمجھائے۔

وہ انہیں باور کرائے کہ خدا نے ہوا، پانی، روشنی، حرارت، جمادات و نباتات، حیوانات اور دیگر گوناگوں نعمتیں ہم انسانوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ اسی نے ہمیں عقل اور علم جیسی نعمتیں بھی عطا فرمائی ہیں، تاکہ ہم ان کی مدد سے ان نعمتوں سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور دوسروں کو بھی ان سے فائدہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں۔

یوں استاد ایسی ہدایات کے ذریعے بچوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ سے محبت اور اس کی نعمتوں سے رغبت رکھنے کا جذبہ پیدا کرسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اور اس کی تخلیقات سے محبت اور لگاؤ کا یہی جذبہ بچے میں معرفتِ خداوندی، فطرت شناسی اور ماحول دوستی پیدا کرسکتا ہے۔

یوں ایک حقیقی معلم کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف اسکول کی چار دیواری تک محدود نہ رکھے، بلکہ وقتاً فوقتاً بچوں کو مدرسے سے باہر لے جاکر مختلف مظاہرِ فطرت کا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرے۔

اس عمل سے بچوں کے قلوب میں فطرت کو سمجھنے اور ماحول شناسی کا جذبہ پیدا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

مچھر کوائل کا خطرناک دھواں، 100 سگریٹ کے برابر؟

مرغانی انسائیکلوپیڈیا، بلوچستان کے 215 پرندوں پر نئی شاہکار کتاب

آج کے بچے، کل کے رہنما

کہا جاتا ہے کہ آج کے بچے کل کے والدین، اساتذہ، رہنما، سائنسدان اور پالیسی ساز ہیں۔

اگر آج ان بچوں کی تربیت میں اس طرح کی ماحولیاتی آگاہی شامل کی جائے تو لامحالہ مستقبل میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جو دنیا میں مادی ترقی کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کے توازن کو بھی برقرار رکھ سکے۔

اس لیے استاد کا کردار صرف تدریس تک محدود نہیں، بلکہ وہ دراصل ایک پائیدار ماحولیاتی مستقبل کا معمار بھی ہے۔ ایک ایسا مستقبل جہاں انسان اور ماحول باہمی احترام اور توازن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے استاد کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کیا خوب کہا ہے:

شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر
جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

اپنا تبصرہ لکھیں