مرغانی انسائیکلوپیڈیا، بلوچی زبان میں بلوچستان کے پرندوں کی زندگی، مقامی ناموں اور فطری کردار پر جامع دستاویز
شبیر رخشانی
بلوچستان: انسانی عمل دخل اور اس کے ہاتھوں شکار بننے والے پرندوں اور جانوروں کی بہت سی نسلیں معدومی کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ ایسے میں فطرت اور اس میں موجود جانداروں کو دستاویزی شکل دینا نہایت اہم ہے۔
سن 1883 میں فطرت کے دیوانے آٹھ افراد نے مل کر ہندوستان میں ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی، جس نے بعد کے برسوں میں پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر برصغیر کی نیچر کو تاریخ کے اوراق میں قلمبند کیا۔ یہ ادارہ ’’بمبئی نیچرل ہسٹری سوسائٹی‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس ادارے کا بنیادی مقصد قدرتی تاریخ سے متعلق مشاہدات اور معلومات کا تبادلہ اور جانوروں کے نمونوں کا مطالعہ تھا۔
ادارے نے تین سال بعد، یعنی 1886 میں، ایک تحقیقی جریدہ شائع کرنا شروع کیا۔ اس تحقیقی جریدے کا نام ’’جرنل آف دی بمبئی نیچرل ہسٹری سوسائٹی‘‘ رکھا گیا۔ جریدے میں نیچر سے متعلق تحقیقی مقالے شائع ہونے لگے۔
یہ ادارہ آج بھی ہندوستان کے شہر ممبئی میں مستقل مزاجی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اگرچہ شہر کا نام بدل گیا، تاہم ادارے کا نام نہیں بدلا۔
2026 تک اس ادارے کے زیر اہتمام شائع ہونے والے جرنلز کی تعداد 122 ہو چکی ہے۔ ان 122 جلدوں میں صرف موجودہ ہندوستان کی نیچر کی تاریخ ہی موجود نہیں، بلکہ ماضی کا ہندوستان، یعنی پاکستان، ہندوستان اور بلوچستان، جو اس وقت برطانیہ کے زیر تسلط تھا، بھی اس کا حصہ ہے۔

بلوچستان کی فطرت پر تاریخی ریکارڈ
انٹرنیٹ پر دستیاب اس تحقیقی جریدے کے مواد کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بلوچستان کی تتلیوں، جانوروں اور پرندوں پر متعدد تحقیقی مقالے ملتے ہیں۔
یہ تحقیقی مقالے زیادہ تر ان برطانوی فوجیوں نے تحریر کیے، جو فطرت پسند تھے۔ انہوں نے اپنی جائے تعیناتی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فطرت کے مختلف رنگوں کا مشاہدہ کیا اور انہیں دستاویزی شکل بھی دی۔
بلوچستان کی تتلیوں پر ایک تحقیقی مقالہ ’’دی بٹرفلائیز آف بلوچستان‘‘ کے عنوان سے بمبئی نیچرل ہسٹری سوسائٹی کے جریدے کی جلد نمبر 66 میں شائع ہوا۔ یہ تحقیقی مقالہ اس وقت کے انگریز فوجی افسر بریگیڈیئر ڈبلیو ایچ ایوانز نے تحریر کیا تھا۔
اس مقالے میں بلوچستان سے ملنے والی 108 اقسام کی تتلیوں کے مشاہدے کا ریکارڈ موجود ہے۔
اسی تحقیقی جریدے میں بلوچستان کے پرندوں کا بھی ریکارڈ موجود ہے۔ سن 1926 میں جریدے کی جلد نمبر 31 میں ’’دی برڈز آف برٹش بلوچستان‘‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ شائع ہوا۔ اس کے مصنف سی بی ٹائس ہرسٹ تھے۔
سو سال بعد بلوچستان کے پرندوں پر ایک نئی کتاب سامنے آئی ہے، جسے اس حوالے سے ایک اہم کاوش قرار دیا جا سکتا ہے۔ کتاب کا نام ’’مرغانی انسائیکلوپیڈیا‘‘ ہے، یعنی پرندوں کا انسائیکلوپیڈیا۔

فوٹوگرافی سے کتاب تک کا سفر
کتاب کے مصنف سلمان بلوچ ہیں۔ سلمان بلوچ بنیادی طور پر ایک فوٹوگرافر ہیں۔ فوٹوگرافی سے ان کی قربت پرندوں تک پہنچی اور اسی قربت کا نتیجہ یہ کتاب ہے۔
فوٹوگرافی سے بڑھ کر وہ نیچر ہے، جو بچپن سے سلمان کی روح کا حصہ رہی ہے۔
سلمان بلوچ ملیر میں پلے بڑھے۔ یہیں انہوں نے ملیر کے باغات دیکھے۔ ان باغات نے انہیں فطرت کے رنگ دکھائے۔
وقت گزرتا گیا اور ملیر کے باغات ختم ہوتے گئے۔ وہ پرندے، جو ان باغات کا حصہ تھے، نقل مکانی کر گئے۔ گاؤں کی جگہ ایک ایسے شہر نے لے لی، جہاں قدرتی ماحول تیزی سے سکڑتا گیا۔
لیکن سلمان آج بھی وہیں کھڑے ہیں، جہاں ان کا بچپن تھا۔
سلمان اس شہر کو تجاوزات سے روک تو نہیں پا رہے، تاہم وہ چند دوستوں کے ساتھ مل کر فوٹوگرافی کے ذریعے اس کے بدلتے ماحول کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔
چونکہ ملیر کراچی کا حصہ ہے، اس لیے یہاں پرندوں کو دستاویزی شکل دینے والے فوٹوگرافرز اور محققین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
سلمان نے بلوچستان کو ایکسپلور کرنے کی ٹھانی۔ پھر سلمان تھا، اس کا کیمرہ تھا اور اس کی فوٹوگرافی تھی۔
بلوچستان کے پرندوں کی تلاش
کتاب کے پیش لفظ میں سلمان بلوچ لکھتے ہیں کہ شوق نے انہیں سن 1994 میں کیمرہ لینے پر مجبور کیا۔ چلتے چلتے دس سال بعد انہوں نے اپنا پہلا ڈیجیٹل کیمرہ خریدا اور اس سے فوٹوگرافی شروع کی۔
لیکن اس چھوٹے سے کیمرے کے ساتھ فوٹوگرافی کا وہ مزہ نہیں آ رہا تھا۔ انہیں ایک بڑے کیمرے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔
سن 2017 میں اسی شوق نے انہیں ایک بڑی قیمت میں شاندار کیمرہ خریدنے پر مجبور کیا۔
سلمان نے بلوچستان کو ایکسپلور کرنا شروع کیا۔ اس ایکسپلوریشن میں صرف پرندے شامل نہیں رہے، بلکہ انہوں نے دیگر جانداروں کو بھی دستاویزی شکل دینا شروع کر دی۔
اگر آپ ’’آئی نیچرلسٹ‘‘ پر بلوچستان ریجن کے آبزرورز کی فہرست دیکھیں تو اس میں سب سے بڑی کنٹری بیوشن سلمان بلوچ ہی کی ملے گی۔
بلوچستان میں فوٹوگرافی کے دوران انہوں نے پرندوں کے مقامی ناموں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔
وہ اپنی کتاب میں سرزمینِ نوشکی سے تعلق رکھنے والے فطرت پسند اور فطرت پر اپنی جان نچھاور کرنے والے نثار جان بادینی کا بھی ذکر کرتے ہیں، جنہوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں تک رسائی میں ان کا ساتھ دیا۔
بلوچستان کے بہت سے علاقوں کا ذکر کتاب میں موجود ہے، جہاں سلمان کو ان کا شوق، بلکہ یوں کہیے کہ جذبہ، لے کر گیا۔
پنجگور، ماشکیل، دشت اور بلیدہ سمیت بعض علاقوں کے زمینی حالات نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا۔ اس کا انہیں افسوس ہے۔
لوگوں کے سوالات نے کتاب کا راستہ دکھایا
ایک فوٹوگرافر کتاب لکھنے کی طرف کیسے آیا؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سلمان بلوچ کہتے ہیں:
’’میں اپنی فوٹوگرافی کو سوشل میڈیا کا حصہ بنا رہا تھا تو اس دوران لوگوں کی طرف سے سوال آنے شروع ہوئے۔ اس پرندے کا نام کیا ہے؟ مقامی طور پر یہ کس نام سے جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات تھے جنہوں نے مجھے ان پرندوں کے بارے میں مطالعہ کرنے اور معلومات حاصل کرنے پر آمادہ کیا۔ پھر معلومات کا جو ذخیرہ تھا، وہ ایک کتاب کو تخلیق کرنے کا ذریعہ بنا۔‘‘
215 پرندوں کی جامع معلومات
کتاب کی زبان بلوچی ہے، جس میں 215 پرندوں کے بارے میں اہم معلومات موجود ہیں۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ پرندے کیا کھاتے ہیں؟ فطرت میں ان کا کنٹری بیوشن کیا ہے؟ کن کن ملکوں میں آباد ہیں؟ نقل مکانی کیوں کرتے ہیں؟ ان کا سائز کیا ہے؟ کتنے انڈے دیتے ہیں؟ سال کے کن مہینوں میں انڈے دیتے ہیں؟ اور اس نوعیت کی دیگر معلومات بھی شامل ہیں۔
کتاب میں پرندوں کے بلوچی ناموں کے ساتھ ساتھ ان کے انگریزی، اردو اور سائنسی نام بھی درج ہیں۔
کتاب میں 52 رنگین صفحات شامل ہیں۔ ان صفحات میں 394 پرندوں کی رنگین تصاویر شامل کی گئی ہیں۔
ان تصاویر میں سے 351 کا ریکارڈ خود سلمان بلوچ کے کیمرے سے کیا گیا ہے، جبکہ 43 تصاویر دیگر ساتھی فوٹوگرافرز کی ہیں، جن کا ذکر انہوں نے کتاب میں کیا ہے۔
فطرت سے محبت کا پیغام
ہمارے ہاں نہ تو بمبئی نیچرل ہسٹری سوسائٹی جیسا ادارہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تحقیقی جریدہ۔ مگر اس زمین اور اس کی فطرت سے محبت کرنے والے دیوانے ضرور موجود ہیں۔
ان میں ایک نام سلمان بلوچ کا بھی ہے۔
سلمان بلوچ کے نزدیک انسانی عمل دخل اور اس کے ہاتھوں شکار بننے والے پرندوں اور جانوروں کی بہت سی نسلیں معدومی تک پہنچ چکی ہیں۔
شکار مخالف اور فطرت سے ان کے دیوانہ وار لگاؤ کا اظہار ان کی کتاب میں درج دو سطروں سے بھی ہوتا ہے: ’’ایک بات جاننا ضروری ہے کہ بلوچ سرزمین کا وارث سرزمین پر پلنے والا اکیلا انسان نہیں، اس سرزمین کے وارث یہاں زندگی بسر کرنے والے دیگر تمام جاندار بھی ہیں۔ انسان اس حق اور وراثت کو تسلیم کرکے انہیں جینے کا حق دے۔

