مچھر کوائل کا دھواں، بند کمروں میں کاربن مونو آکسائیڈ اور زہریلے مادے خارج، دمہ، کھانسی اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ
فروزاں رپورٹ
مچھروں کی بھنبھناہٹ سے کون واقف نہیں؟ حبس اور نمی سے بھرپور موسم میں یہ مچھر اپنے مخصوص شور سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔
مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے بیشتر افراد مختلف طریقے آزماتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے دنوں میں جب ڈینگی اور ملیریا جیسے مچھروں سے پھیلنے والے امراض کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہو۔
کبھی سپرے اور کبھی کوائل جلا کر لوگ خود کو اور اپنے خاندان کو مچھروں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ سونے سے پہلے ایک کوائل جلا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے دھوئیں سے نہ صرف مچھر دور رہیں گے بلکہ بیماریوں سے بھی تحفظ ملے گا۔
تاہم ماہرین اس کے ممکنہ خطرناک اثرات سے خبردار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک کوائل کا دھواں درجنوں سگریٹ کے دھوئیں کے برابر ہو سکتا ہے، جو سانس اور گلے کی بیماریوں کے ساتھ دمے کے شدید دورے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
لیکن کیا یہ دھواں صرف مچھروں کے لیے نقصان دہ ہے؟ یا اس کے اثرات انسانوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کی صحت پر بھی پڑ سکتے ہیں؟
کاربن مونو آکسائیڈ سمیت دیگر کیمیکلز سے بھرے اس جلیبی نما کوائل کو آخر کس طرح استعمال کرنا چاہیے؟
یہی وہ سوالات ہیں جن کے جوابات مختلف ماہرین سے بات کرکے حاصل کیے گئے ہیں۔

’بند کمرے میں کوائل کا جلنا زہر سے کم نہیں‘
ڈاکٹر شازلی منظور سینہ، سانس کے امراض اور الرجی کے ماہر ہیں۔ ان کے مطابق کوائل کو بند جگہ پر جلانے سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کوائل صرف ہوا دار مقام پر اور خود سے دو سے چار میٹر کے فاصلے پر رکھ کر استعمال کرنا مناسب ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شازلی نے کہا کہ ’بند کمرے میں کوائل کا جلنا زہر سے کم نہیں۔ کوائل میں موجود کیمیکلز جلنے کے دوران مختلف زہریلے مادے خارج کرتے ہیں، جو بند کمرے میں زہر کی طرح انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔‘
ان سے جب پوچھا گیا کہ کوائل جلا کر مچھروں کو بھگانے والے افراد کے لیے ان کی کیا تجویز ہے تو انہوں نے کہا کہ کوائل ہمیشہ کھلی یا ہوا دار جگہ پر رکھنا چاہیے اور اسے خود سے دو سے چار میٹر دور رکھنا چاہیے۔
ڈاکٹر شازلی نے مزید بتایا کہ بعض لوگ باہر کھانا کھاتے ہوئے یا کسی آؤٹ ڈور سرگرمی کے دوران کوائل اپنے قریب رکھ کر جلا لیتے ہیں۔ اس طرح بھی نقصان دہ کیمیکلز سے متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
ان کے مطابق کوائل کو میز یا کرسی کے عین نیچے رکھ کر جلانا زیادہ مناسب ہے تاکہ دھواں براہ راست سانس کے ذریعے اندر نہ جائے۔

’کوائل جلانے سے ہزاروں دیگر کیمیکلز دھوئیں کی شکل میں اندر جاتے ہیں‘
مچھروں سے نجات پانے کے لیے مچھر کوائل ایک عام اور نسبتاً سستا طریقہ ہے۔ یہ برسوں سے پاکستان سمیت جنوبی ایشیا اور دنیا کے کئی ممالک میں گھروں کا حصہ رہا ہے۔
تاہم ماہرین اس کے دھوئیں کو درجنوں سگریٹ کے دھوئیں کے برابر خطرناک قرار دیتے ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ماہر امراضِ سینہ ڈاکٹر جاوید خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مچھر کوائل کا استعمال مچھروں کو مارنے کے لیے کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے دھوئیں سے صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ان کے مطابق، ’اگر آپ ایک رات مچھر مار کوائل بند کمرے یا بند جگہ پر استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ 60 سے 100 سگریٹ کے برابر دھواں اپنے پھیپھڑوں میں لے جاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مختلف کمپنیوں کے کوائل میں مختلف کیمیکلز ہو سکتے ہیں، تاہم عام طور پر ان میں پائریتھرین، ایریتھرین، کاربن مونو آکسائیڈ اور بینزین وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ کوائل کی تیاری میں مختلف رنگ اور کیمیکلز سے بنی خوشبو بھی استعمال کی جاتی ہے۔
امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن پر شائع ہونے والی ایک سابقہ تحقیق کے مطابق سات سے آٹھ گھنٹے تک دھواں خارج کرنے والی ایک مچھر بھگانے والی کوائل جلانے سے خارج ہونے والے پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار 75 سے 137 سگریٹ جلانے کے برابر ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ایک کوائل جلانے سے خارج ہونے والی فارمل ڈی ہائیڈ کی مقدار 51 سگریٹ جلانے سے پیدا ہونے والی مقدار کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

کوائل کا دھواں انسانی جسم پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
کوائل کے استعمال کے بعد کمرے کے اندر کی فضا میں شامل ہونے والے بعض کیمیکلز انسانی جسم پر مختلف اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
سنہ 2025 میں شائع ہونے والی بی بی سی اردو کی ایک تحریر کے مطابق کاربن مونو آکسائیڈ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نامیاتی مادہ مکمل طور پر نہیں جلتا۔ یہ گیس خون میں ہیموگلوبن کے ساتھ مل کر خون کی آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کم کر دیتی ہے۔
جسم میں کاربن مونو آکسائیڈ کی تھوڑی مقدار بھی سر درد، تھکاوٹ اور متلی کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ بڑی مقدار میں اس گیس کو سانس کے ذریعے اندر لینا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ایسی گیسیں ہیں جو دل، پھیپھڑوں یا سانس کی پہلے سے موجود بیماریوں کو مزید بڑھا سکتی ہیں اور پھیپھڑوں کے قدرتی دفاع کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ذرّاتی آلودگی، یعنی پی ایم 2.5 اور پی ایم 10، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور دیگر فضائی آلودگی پیدا کرنے والے مادے ناک، گلے اور سانس کی نالی کی جھلیوں میں جلن پیدا کر سکتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق مختلف افراد کو مختلف چیزوں سے الرجی ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کو صرف دھوئیں سے مسئلہ ہوتا ہے، جبکہ بعض افراد پائریتھرین سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق دھواں کسی بھی شکل میں ہو، وہ پھیپھڑوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بند کمرے میں اس کے دھوئیں سے سانس کی نالیوں کے اندر موجود دفاعی نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ جسم کا امیون سسٹم تباہ ہو جاتا ہے۔‘
اس کی مثال دیتے ہوئے ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ انسان سگریٹ نکوٹین کی طلب کی وجہ سے پیتا ہے، تاہم سگریٹ کا اصل نقصان دھوئیں میں موجود ہزاروں دیگر کیمیکلز سے ہوتا ہے جو جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ یہی صورت حال مچھر کوائل کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس سے دمہ بڑھ سکتا ہے، سانس کی نالی کی بیماریاں زیادہ ہو سکتی ہیں اور الرجی کے مسائل رکھنے والے بچوں کو رات کے وقت کھانسی کے ساتھ دمے کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے۔

کوائل کے دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ سمیت دیگر نقصان دہ کیمیائی مادے
ماہرین کے مطابق مچھر مار کوائل جلنے کے دوران مختلف کیمیائی مادے اور باریک ذرات فضا میں خارج ہوتے ہیں۔
اگرچہ ان کا مقصد مچھروں کو بھگانا یا ہلاک کرنا ہوتا ہے، لیکن کئی سائنسی مطالعات میں یہ سوال اٹھایا جا چکا ہے کہ بند یا کم ہوادار کمروں میں اس دھوئیں کا مسلسل سامنا انسانی صحت کے لیے کس حد تک محفوظ ہے۔
مچھر مار کوائل کے اثرات کے حوالے سے برطانیہ کے ادارہ صحت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ میں شائع ڈیٹا کے مطابق کوائل کے استعمال کے بعد گھر کے اندر کی فضا میں کئی آلودہ مادے پائے گئے۔
ان میں کاربن مونو آکسائیڈ، ٹی وی او سیز، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور باریک ذرّاتی آلودگی شامل تھی۔
محققین نے یہ بھی دیکھا کہ بڑے کمروں میں کوائل کی مچھروں کو ہلاک کرنے کی صلاحیت معمولی حد تک کم ہو جاتی ہے، جبکہ کم ہوادار کمروں میں اس کا اثر نسبتاً زیادہ پایا گیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ مچھر کوائل جلانے سے خارج ہونے والے تمام ذرات باریک نوعیت کے تھے اور ان کا قطر ایک مائیکرومیٹر سے کم تھا۔
ان میں زیادہ تر ذرات کا حجم 0.01 سے 0.1 مائیکرومیٹر اور 0.2 سے 0.3 مائیکرومیٹر کے درمیان تھا۔
تحقیق میں یہ نتیجہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ کوائل سے پیدا ہونے والی آلودگی کے باعث بیماری کا خطرہ کم تھا، لیکن یہ مچھر کے کاٹنے سے صرف محدود تحفظ فراہم کرتی ہے۔
اسی لیے ملیریا کی روک تھام اور کنٹرول کے طریقے کے طور پر اس کی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔
صحت سے متعلق معیارات اور رہنما اصولوں سے موازنہ کرنے کے بعد محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ مچھر کوائل کے دھوئیں کی زد میں آنے سے قلیل مدتی اور طویل مدتی، دونوں طرح کے صحت کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
محققین نے یہ بھی تجویز کیا کہ ملیریا سے متاثرہ علاقوں میں مچھر مار کوائل کے استعمال کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں
مرغانی انسائیکلوپیڈیا، بلوچستان کے 215 پرندوں پر نئی شاہکار کتاب
روس میں طاعون کا خطرہ ،5 مراکز قرنطینہ، محققہ ہلاک
دمے کے مریضوں کے لیے زیادہ خطرہ
ڈاکٹر شازلی کے مطابق کوائل جلنے کے دوران سگریٹ کی طرح خطرناک کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، جو پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس سے دمے کا شدید دورہ بھی پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق ہوا کی آمدورفت نہ ہونے والی جگہ پر کوائل جلانے سے دمہ، کھانسی، گلے کی سوزش سمیت کئی عارضے پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس سے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں اور دمے کے مریض کو ایمرجنسی تک جانے کی نوبت آ سکتی ہے۔
ڈاکٹر شازلی نے بتایا کہ کوائل کا دھواں صرف الرجی کے مریضوں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ کسی بھی شخص کو ناک، گلے اور سانس کی نالی کی بیماریوں، آنکھوں میں جلن اور پانی آنے، نزلہ اور گلے میں رطوبت گرنے جیسی تکالیف کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مچھروں سے بچاؤ کے لیے مچھر دانی کا استعمال
ڈاکٹر شازلی کے مطابق مچھروں سے محفوظ رہنے کے لیے کمروں میں مچھر بھگانے والا برقی آلہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک مخصوص ٹیبلٹ گرم کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگوانی چاہییں اور مچھر دانی میں سونا چاہیے۔
خاص طور پر بچوں کو کھلے میں نہیں سلانا چاہیے۔ کسی کیمیکل پر مبنی مچھر بھگانے والے سپرے یا کوائل کو بند کمرے میں ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر شازلی نے کہا کہ آلودگی کسی بھی نوعیت کی ہو، اگر کسی شخص کے پھیپھڑے کمزور ہیں یا کوئی خاتون حاملہ ہے تو دھواں اور آلودگی ان کے لیے مضر اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر جاوید خان، جو نوے کی دہائی میں پاکستان میں ڈینگی کی وبا کی رپورٹنگ اور تحقیق کرنے والوں میں شامل رہے ہیں، کے مطابق ڈینگی ایک خطرناک مسئلہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس موسم میں مچھروں سے بچنے کے لیے جالی کا استعمال کیا جائے اور گھروں کے آس پاس پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔
ان کے مطابق مچھر کوائل کے بجائے برقی آلہ یا لوشن کا استعمال بہتر متبادل ہو سکتا ہے۔

