فروزاں رپورٹ
طویل عرصے تک جاری رہنے والی شدید گرمی کے دوران یورپ اور شمالی امریکا کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی آگ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ بڑھتی ہوئی جنگلات کی آگ موسمیاتی تبدیلی کو کس طرح متاثر کر رہی ہے اور خود موسمیاتی تبدیلی آگ کے خطرے کو کس حد تک بڑھا رہی ہے؟
جنگلات میں لگنے والی آگ کئی ماحولیاتی نظاموں کا قدرتی حصہ ہے۔ تاہم انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی نے بڑی اور شدید آگ کے امکانات میں اضافہ کر دیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجوہات میں فوسل ایندھن کا جلانا شامل ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، بارش کے نظام میں تبدیلی اور ہیٹ ویوز کی بڑھتی ہوئی تعداد پودوں اور مٹی کو خشک کر رہی ہے۔
خشک نباتات اور مٹی آگ کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں۔ اس طرح آگ زیادہ آسانی سے بھڑک سکتی ہے اور تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
جنگلات کی آگ اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تعلق دو طرفہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی آگ لگنے کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ جنگلات کی آگ بھی موسمیاتی تبدیلی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
جنگلات کی آگ کے دوران گرین ہاؤس گیسیں اور دیگر آلودہ ذرات فضا میں خارج ہوتے ہیں۔ نباتات میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اس عمل کو متاثر کرتی ہیں۔
یوں ایک خطرناک فیڈ بیک لوپ تشکیل پاتا ہے۔ گرم حالات آگ لگنے کے امکانات بڑھاتے ہیں، جبکہ آگ سے ہونے والا اخراج مزید گرمی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
جنگلات، پیٹ لینڈز اور دیگر کاربن سے بھرپور ماحولیاتی نظام اپنی نباتات اور مٹی میں بڑی مقدار میں کاربن ذخیرہ کرتے ہیں۔
جب یہ ماحولیاتی نظام آگ کی لپیٹ میں آتے ہیں تو ذخیرہ شدہ کاربن کا کچھ حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین کی صورت میں فضا میں خارج ہو جاتا ہے۔ اس سے موسمیاتی تبدیلی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
جنگلات کی آگ کے موسمیاتی اثرات بڑی حد تک جنگلات میں موجود کاربن کے وسیع ذخیرے سے جڑے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت بڑھنے اور بارش کے نظام میں تبدیلی کے ساتھ جنگلات میں آگ کے واقعات زیادہ بار اور وسیع پیمانے پر ہونے لگے ہیں۔
اس کے نتیجے میں فضا میں خارج ہونے والے کاربن کی مقدار بھی بڑھ سکتی ہے۔
ہر سال جلنے والے زمین کے مجموعی رقبے میں زیادہ حصہ گھاس کے میدانوں میں لگنے والی آگ کا ہوتا ہے۔ تاہم افریقا میں زمین کے استعمال میں تبدیلی کے باعث ہر سال جلنے والے گھاس کے میدانوں کے رقبے میں کمی آ رہی ہے۔
گھاس کے میدانوں میں لگنے والی آگ بھی فضا میں نمایاں مقدار میں کاربن خارج کرتی ہے۔ تاہم اس ماحولیاتی نظام میں موجود کاربن کا بڑا حصہ جڑوں اور مٹی کے اندر محفوظ رہتا ہے۔
جب آگ گھاس کے میدانوں سے گزرتی ہے تو بنیادی طور پر زمین کے اوپر موجود نباتات جلتی ہیں۔
صحت مند ماحولیاتی نظام میں اس کاربن کا بڑا حصہ وقت کے ساتھ دوبارہ جذب ہو سکتا ہے۔ آگ کے بعد نباتات دوبارہ اگتی ہیں اور اگلے موسمِ نمو میں ماحولیاتی نظام بحال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
یہ قدرتی طور پر آگ کے بعد بحالی کے عمل کا حصہ ہے۔
تاہم اگر آگ زیادہ بار لگے، زیادہ شدید ہو یا اس کے بعد زمین کے استعمال میں تبدیلی آ جائے تو ماحولیاتی نظام کی بحالی سست یا نامکمل ہو سکتی ہے۔
ایسی صورت میں زمین میں پہلے سے ذخیرہ شدہ کاربن کئی دہائیوں یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک فضا میں موجود رہ سکتا ہے۔ یوں یہ کاربن موسمیاتی تبدیلی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
جنگلات کی آگ بڑی مقدار میں فضائی ذرات بھی خارج کرتی ہے۔ ان میں بلیک کاربن اہم ہے۔
بلیک کاربن سورج کی روشنی جذب کرتا ہے اور فضا میں قلیل مدتی گرمی بڑھا سکتا ہے۔
جب بلیک کاربن برف اور برفانی تودوں پر جمع ہوتا ہے تو سطح کا رنگ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سطح زیادہ شمسی توانائی جذب کرتی ہے اور برف تیزی سے پگھلنے لگتی ہے۔
جنگلات کی آگ کے اثرات صرف آگ لگنے والے علاقے تک محدود نہیں رہتے۔ آگ سے خارج ہونے والے ذرات اور گیسیں ہزاروں کلومیٹر دور علاقوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
مثال کے طور پر مشرقی سائبیریا میں لگنے والی جنگلات کی آگ نے آرکٹک خطے میں بلیک کاربن کی سطح بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
اسی طرح ایمیزون کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے دھوئیں کو جنوبی امریکا کے گلیشیئرز کی سطح پر انعکاس پذیری، یعنی البیڈو میں کمی اور برف پگھلنے کی رفتار میں اضافے سے بھی جوڑا گیا ہے۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ جنگلات کی آگ سے خارج ہونے والے ذرات اور گیسیں علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی موسمیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔
جنگلات کی آگ کے اثرات صرف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج تک محدود نہیں ہیں۔
دھوئیں میں موجود ذرات سورج کی روشنی اور بادلوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ اس عمل سے فضا کی کیمیائی ساخت اور موسمی حالات متاثر ہو سکتے ہیں۔
تاہم جنگلات کی آگ کے موسمیاتی اثرات کا درست اندازہ لگانا اب بھی ایک چیلنج ہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اخراج کی مقدار اور ساخت مختلف عوامل کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ان عوامل میں جلنے والی نباتات کی قسم، ایندھن کی حالت، آگ کے پھیلاؤ کا انداز اور موسمی حالات شامل ہیں۔
گرم ہوتی دنیا میں جنگلات کی آگ کے واقعات زیادہ بار اور زیادہ شدت سے رونما ہو رہے ہیں۔ اس لیے ان کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
سائنس دان جنگلات کی آگ سے ہونے والے اخراج کے بہتر اندازے لگانے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آگ کا دھواں فضا کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آگ کے بدلتے ہوئے رجحانات مستقبل کی موسمیاتی تبدیلی کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں۔
ان باہم جڑے عوامل کو سمجھنا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے، بدلتے حالات کے مطابق ڈھلنے اور ماحولیاتی خطرات کے بہتر انتظام کے لیے ضروری ہے۔
جیسے جیسے موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں آگ کے خطرے سے دوچار علاقوں کو متاثر کر رہی ہے، مستقبل میں جنگلات کی آگ کے خطرات کم کرنے کے لیے شواہد پر مبنی حکمت عملی اہم کردار ادا کرے گی۔
اس کے ساتھ ہی معاشروں کی مستقبل کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا بھی ضروری ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی: کارکنوں کی صحت پر بڑھتے خطرات، نئی رپورٹ
شدید گرمی کا قہر: موسمیاتی تبدیلی اور لالچ بے نقاب
این سی اے ایس، یعنی نیشنل سینٹر فار ایٹموسفیرک سائنسز (این سی اے ایس) کی تحقیق جنگلات کی آگ، فضائی کیمسٹری، فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
جدید فضائی پیمائش، زمین کے مشاہدے، ماڈلنگ اور طویل مدتی نگرانی کے ذریعے این سی اے ایس کے سائنس دان جنگلات کی آگ سے ہونے والے اخراج کا جائزہ لیتے ہیں۔
وہ یہ بھی جانچتے ہیں کہ ان اخراجات سے فضا کی ساخت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں جنگلات کی آگ کی سرگرمیوں میں ممکنہ تبدیلیوں کی پیش گوئی کو بہتر بنانے پر بھی کام کیا جاتا ہے۔
یہ شواہد پالیسی سازوں اور ماحولیاتی اداروں کے لیے اہم ہیں۔ ان کی مدد سے موسمیاتی خطرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
اسی بنیاد پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کی حکمت عملیوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی گرم ہوتی دنیا میں موسمیاتی موافقت کی منصوبہ بندی کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسم نے کارکنوں کی صحت اور پیداواری صلاحیت متاثر کی،…
عالمی سطح پر شدید گرمی: ہیٹ ویوز، جنگلات کی آگ، خشک سالی اور سیلاب سے…
موسمیاتی تبدیلی پر نئی تحقیق نے "کلائمیٹ ہشنگ" کو غلط حکمتِ عملی قرار دیا، عوام…
موسمیاتی تبدیلی: 2050 تک ہر سال 4 لاکھ 30 ہزار اضافی اموات کا خدشہ، پاکستان…
کلائمیٹ برج فنڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری آبادی کے لیے جدید موافقتی منصوبوں…
نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…
This website uses cookies.