فروزاں رپورٹ
حیدرآباد: سندھ وائلڈ لائف کی درخواست پر سجاول، بدین اور ٹھٹھہ کی ضلعی انتظامیہ نے مہاجر اور مقامی پرندوں کے غیر قانونی شکار اور انہیں پکڑنے کے لیے جال لگانے کے خلاف دفعہ 144 نافذ کردی۔
حکم نامے کے مطابق پابندی 13 ستمبر سے 11 دسمبر 2026 تک 90 روز کے لیے نافذ رہے گی۔ اس دوران پرندوں کو پکڑنے کے لیے جال لگانے، ڈیکوائے نصب کرنے اور دیگر غیر قانونی شکار کی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔
سندھ وائلڈ لائف کے حکام کے مطابق موسم سرما میں ساحلی، آبی اور دیگر قدرتی مساکن میں بڑی تعداد میں مہاجر پرندے پہنچتے ہیں۔ ان میں مرغابیاں، بٹیر، باز اور دیگر مقامی و مہاجر پرندے شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی شکار اور جال کے ذریعے پرندوں کو پکڑنے کی سرگرمیوں سے جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسی سرگرمیاں متعلقہ جنگلی حیات کے قوانین کی خلاف ورزی بھی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں متعلقہ پولیس حکام کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکم نامے کے تحت خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ متعلقہ حکام کو اس مقصد کے لیے قانونی اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
سندھ وائلڈ لائف نے خبردار کیا ہے کہ پرندوں کو جال کے ذریعے پکڑنے یا ان کی غیر قانونی خرید و فروخت کے لیے جعلی اجازت ناموں اور لائسنسز کا استعمال بھی قابلِ سزا جرم ہے۔
محکمے کے مطابق ستمبر کے آغاز کے ساتھ ہی بعض شکاری سندھ کے ساحلی اور میدانی علاقوں میں غیر قانونی شکار کے لیے کیمپ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سجاول، ٹھٹھہ اور بدین کے علاقے غیر قانونی شکار کی ایسی سرگرمیوں کے اہم مقامات کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں۔
محکمے کے مطابق بعض شکاری پرندوں، خصوصاً مرغابیوں، بٹیروں اور بازوں کو پکڑ کر ان کی غیر قانونی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ جال کے ذریعے جنگلی حیات کو پکڑنے کی اجازت ملکی قوانین کے تحت نہیں ہے۔
سندھ وائلڈ لائف کے مطابق بعض شکاری جعلی لائسنس یا اجازت ناموں کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ پرندوں کے ساتھ سڑکوں پر سفر کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چیک پوسٹوں پر اہلکاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
محکمے نے کہا ہے کہ بعض عناصر مبینہ طور پر ایسے غیر قانونی شکاریوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے خلاف ذمہ دار اداروں کی جانب سے قانونی کارروائی ضروری ہے۔
سندھ وائلڈ لائف نے واضح کیا ہے کہ بازوں، مرغابیوں، بٹیروں اور دیگر پرندوں کو جال کے ذریعے پکڑنا اور ان کی غیر قانونی تجارت نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کی جانب سے تسلیم کیے گئے بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز سے بھی متصادم ہے۔
محکمے کے مطابق جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار سے ماحول اور قدرتی نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے اس عمل کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ، موسمیاتی نگرانی بھی خطرے میں؟
موسمیاتی تبدیلی: آنے والی تباہ کاریوں کے لیے دنیا کتنی تیار ہے؟
سندھ وائلڈ لائف نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی شکار کے لیے قائم کیے گئے کیمپوں، جال لگانے یا پرندوں کو پکڑنے کی سرگرمیوں کی نشاندہی کریں اور متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
محکمے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اطلاع دینے والے شہری کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ پر چین کی مخالفت، بڑھتی عسکری کشیدگی سے موسمیاتی مشاہدے…
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات، شدید سیلاب، گرمی کی لہروں اور خوراک کے بحران کے…
ایئر کنڈیشننگ کا استعمال 2050 تک 5.6 ارب یونٹس، بجلی کی طلب اور گرین ہاؤس…
اقوام متحدہ کا موسمیاتی انتباہ، یورپ میں شدید موسم سے معاشی و سلامتی کے خطرات،…
گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ پروگرام میں استور مارخور کا لائسنس ریکارڈ 3 لاکھ 56 ہزار…
ڈیجیٹل میڈیا میں ذمہ دارانہ صحافت اور مستند معلومات کی فراہمی ضروری ہے،وزیر مملکت و…
This website uses cookies.