ڈاکٹر طارق ریاض
یوں تو ماحول کو آلودہ کرنے والی اشیا کی فہرست کافی طویل ہے، تاہم ٹیکسٹائل اور فیشن انڈسٹری سے خارج ہونے والا فضلہ بھی ماحولیاتی آلودگی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈاکٹر طارق ریاض کے مطابق دنیا بھر میں اڑنے والے ہوائی جہاز بھی اتنی آلودگی پیدا نہیں کر رہے جتنی فیشن انڈسٹری کے فضلے سے ماحول متاثر ہو رہا ہے۔
۸ ستمبر ۲۰۲۳ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۷۸ویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دنیا بھر میں ہر سال ۲۰ ستمبر کو ’’یوم صفائی‘‘ یعنی ’’ورلڈ کلین اپ ڈے‘‘ منایا جائے گا۔
اس فیصلے کی ایک اہم وجہ ماہرین کی جانب سے سامنے آنے والی یہ تشویش تھی کہ ٹیکسٹائل اور فیشن انڈسٹری سے خارج ہونے والا بے کار مواد بھی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر سیکنڈ میں ایک ٹرک کپڑوں اور دیگر اشیا کی صورت میں ماحول کو آلودہ کرنے والے فضلے کے برابر مواد پیدا کرتا ہے۔ ہر سال ٹیکسٹائل انڈسٹری سے نکلنے والے کروڑوں ٹن بے کار مادے زمین، مٹی اور پانی کی آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔
چنانچہ اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ بظاہر خطرناک دکھائی نہ دینے والی اشیا بھی درپردہ دنیا کو ماحولیاتی بحران سے دوچار کر رہی ہیں۔
تب سے ہر سال ۲۰ ستمبر کو عالمی یوم صفائی کسی نہ کسی مرکزی خیال کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس برس عالمی یوم صفائی کا مرکزی خیال ’’لوکل ایکشن ایز دی فاؤنڈیشن آف گلوبل چینج‘‘ یعنی ’’مقامی اقدامات عالمی تبدیلی کی بنیاد ہیں‘‘ رکھا گیا ہے۔
اسی وجہ سے قومی، علاقائی اور مقامی حکومتیں، ادارے اور افراد دنیا بھر میں صفائی کی مہم کو اہمیت دے رہے ہیں، تاکہ ماحول کو صحت مند بنانے کے ساتھ بے کار اشیا کی بہتر انداز میں تلفی اور انتظام کیا جا سکے۔
عام طور پر گاڑیوں اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والے دھوئیں، کیمیائی مادوں اور پلاسٹک کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ماحول کو آلودہ کرنے میں یہی اشیا پیش پیش ہیں۔
حالانکہ ٹیکسٹائل اور فیشن انڈسٹری بھی ماحول کو آلودہ کرنے میں کسی سے کم نہیں۔ اس صنعت کی تمام سرگرمیوں، بشمول دھاگہ بنانے سے کپڑے کی تیاری تک، ہر مرحلے پر مختلف قسم کے آلودہ مادے ماحول میں شامل ہوتے ہیں۔
آلودگی کا آغاز پانی کو متاثر کرنے سے ہوتا ہے اور پھر یہ زمین، ٹھوس فضلے، ہوا اور قدرتی وسائل تک پھیل جاتی ہے۔ مختلف کیمیائی مادے ماحولیاتی نظام اور اس کے توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
کپڑے کی صنعت میں دھاگے کو رنگنے یا ڈائی کرنے کا عمل خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پانی اور کیمیائی مادوں کی بڑی مقدار استعمال ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق پانی کی آلودگی میں اس عمل کا حصہ تقریباً ۲۰ سے ۲۵ فیصد تک ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پولی ایسٹر اور نائلون جیسے ریشے لاکھوں ٹن مائیکرو پلاسٹک کے ذرات پانی میں شامل کر رہے ہیں۔
جب یہ پانی آبی وسائل کا حصہ بنتا ہے تو ایک غیر محسوس ماحولیاتی تباہی جنم لیتی ہے۔ خاص طور پر آبی حیات، مچھلیاں اور آبی پودے بری طرح متاثر ہوتے ہیں، جو لاتعداد جانداروں کی خوراک اور غذائی زنجیر کا اہم حصہ ہیں۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سرگرمیوں کے نتیجے میں متعدد کیمیائی مادے، مثلاً بلیچ، بھاری دھاتیں اور کپڑے کی حتمی تیاری میں استعمال ہونے والے ’’فنشنگ ایجنٹس‘‘ دریاؤں اور آبی حیات کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔
آبی ذخائر کی بڑھتی ہوئی آلودگی نے خطرناک حدیں عبور کر لی ہیں۔ کیمیائی مادے اپنے زہریلے پن کے باعث کئی انواع کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
کئی طرح کی الجی اور فائٹوپلانکٹنز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ قدرت نے ان تمام جانداروں کو غذائی زنجیروں سے جوڑ رکھا ہے۔ ان کی تعداد میں کمی یا ان کا خاتمہ ان پر انحصار کرنے والی دیگر حیاتیاتی انواع کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اندازہ لگایا گیا ہے کہ ۹۰ ملین ٹن سے زیادہ ’’ٹیکسٹائل ویسٹ‘‘ ہر سال ماحول میں شامل ہو رہا ہے۔
کپڑے کئی مراحل میں استعمال ہونے کے بعد ردی قرار دے دیے جاتے ہیں۔ پھٹے پرانے لباس اور کپڑوں کی دیگر اشیا کوڑے کی نذر کر دی جاتی ہیں یا انہیں جلا دیا جاتا ہے۔
کپڑوں کو جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں ماحول کو بری طرح آلودہ کرتا ہے۔ دوسری جانب کاٹن اور پولی ایسٹر کے ریشے چند ہفتوں سے لے کر کئی صدیوں تک مختلف رفتار سے ٹوٹ پھوٹ کر مٹی میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔
ان میں سے بعض ریشے مٹی میں میتھین کے اخراج کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ دھاگے، کپڑے یا لباس جنہیں جلایا یا دفن کیا جاتا ہے، ماحول پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
جلانے کا عمل اس لیے بھی خطرناک ہے کہ اس سے ایک طرف فضا آلودہ ہوتی ہے تو دوسری جانب کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر طارق ریاض کے مطابق دنیا بھر میں اڑنے والے ہوائی جہاز بھی اتنی آلودگی پیدا نہیں کر رہے جتنی کپڑے جلانے سے فضا آلودہ ہو رہی ہے۔
دھاگے سے کپڑے تک اور ریشوں سے پولی ایسٹر کی تیاری تک پیٹرولیم اور توانائی کی بڑی مقدار استعمال ہونے سے بھی ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
قارئین کے لیے یہ امر حیران کن ہو سکتا ہے کہ ایک ٹی شرٹ کی تیاری کے لیے سینکڑوں لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ کیڑے مار ادویات، کھادیں اور رنگ جیسے کیمیائی مادے بھی مٹی کو آلودہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی مٹی میں ہمارے پودے، درخت اور فصلیں اگتی ہیں۔
آلودہ مٹی میں پیدا ہونے والا چارہ اور نباتاتی اشیا جانوروں اور انسانوں کی غذائی زنجیر کا حصہ بنتی ہیں۔ اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب فیشن کے تیزی سے بدلتے رجحانات، نئی مصنوعات میں مسلسل اضافہ اور کپڑوں کے خراب یا پرانے ہونے کے نتیجے میں دنیا بھر میں بڑی مقدار میں ٹیکسٹائل ویسٹ پیدا ہو رہا ہے۔
اس فضلے کو پھینکنے اور جلانے کے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تباہی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔ اس پر پوری دنیا کو صرف سوچنے کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی یوم صفائی کے موقع پر اس مسئلے کو مقامی سطح پر بھی اہمیت دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ کئی علاقوں میں ٹیکسٹائل اور فیشن انڈسٹری آلودگی کے اہم ذرائع میں شامل ہے۔
اس سنگین صورت حال کا تقاضا ہے کہ متعدد اہم اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔
ری سائیکل ہونے والے مواد کو دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جائے۔ کاغذ، شیشہ اور پلاسٹک سمیت دیگر قابلِ ری سائیکل اشیا کو الگ کیا جائے۔
طلبہ، اساتذہ، عوام اور خاندان کے افراد مل کر اپنے آس پاس کے علاقوں، گلیوں، محلوں، پارکوں، نہروں اور دریاؤں سے آلودگی پیدا کرنے والی اشیا جمع کر سکتے ہیں۔
ان اشیا کو ری سائیکل اور غیر ری سائیکل مواد میں تقسیم کیا جائے اور مناسب طریقے سے ان کا انتظام کیا جائے۔
فیشن کی تیز رفتار تبدیلی کے رجحان پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے، تاکہ عالمی سطح پر آلودگی پیدا کرنے والے مادوں کی مقدار کو قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
تعلیم، تربیت اور سماجی شعور کے ذریعے عوام کو ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے آگاہ کیا جائے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔
مقامی سطح پر صفائی کی مہمات کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ٹھوس فضلے کو سائنسی انداز میں تلف کیا جائے۔
بائیو ڈی گریڈیبل یعنی حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والے مواد کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ جہاں ممکن ہو، فضلے کو جلانے کے بجائے مناسب سائنسی طریقے سے تلف کیا جائے۔
پانی کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ پانی کا کم سے کم اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ آبی ذخائر آلودہ نہ ہوں۔
شہری ترقی اور منصوبہ بندی کو موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی توازن اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے جدید اور سائنسی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ آبی اور دیگر قدرتی وسائل کو متوقع موسمیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
دنیا اور بالخصوص مسلم ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے اور جہاں صفائی کو ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے، وہاں اس حوالے سے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
گندگی، آلودگی اور فضلہ پیدا کرنے والے عوامل سے حتی الامکان گریز کی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے۔
پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو سبز توانائی اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت
واش گورننس میں صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کی اہمیت
اقوام متحدہ کے زیر انتظام عالمی یوم صفائی کی اہمیت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل اور فیشن انڈسٹری کا بے کار مواد تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اپنے آبی وسائل، زمینی وسائل، گلی محلوں اور ساحلِ سمندر کو اس فضلے سے محفوظ رکھنے کے لیے اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
یہ بے کار مواد گلوبل وارمنگ، مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ، خطرناک گیسوں کے اخراج، سیلابوں، جنگلی حیات کو نقصان، گرین ہاؤس ایفیکٹ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل سے منسلک ماحولیاتی دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ان تمام مسائل کا براہِ راست تعلق انسانی سرگرمیوں سے ہے۔
اس لیے یہ صرف کسی ایک ملک، ادارے یا فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس کا حل بھی مشترکہ کوششوں، مقامی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کے ذریعے ہی تلاش کرنا ہوگا۔
معیاری اعلیٰ تعلیم اور جدید مہارتیں نوجوانوں کو عالمی معیشت کا مؤثر مقابلہ کرنے کے…
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو ماحول دوست بنانے اور بجلی کے نظام میں بہتری کے…
مؤثر واش نظام وہی ہے۔ جو معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھے۔…
عالمی یومِ اوزون 2026 پر ماہرین نے اوزون کے تحفظ، توانائی کی بچت اور ماحول…
سجاول، بدین اور ٹھٹھہ میں مہمان پرندوں کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ، جال…
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ پر چین کی مخالفت، بڑھتی عسکری کشیدگی سے موسمیاتی مشاہدے…
This website uses cookies.