عالمی سطح پر شدید گرمی: ہیٹ ویوز، جنگلات کی آگ، خشک سالی اور سیلاب سے انسانی حقوق کو بڑھتے سنگین اور جان لیوا خطرات
فروزاں رپورٹ
دنیا بھر میں شدید گرمی کے باعث پیدا ہونے والے موسمیاتی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی آگ، خشک سالی اور سیلاب شامل ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل میں موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی و سماجی انصاف اور کارپوریٹ احتساب کی پروگرام ڈائریکٹر مارٹا شاف نے ان حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شدید گرمی انسانی حقوق کا بحران
مارٹا شاف کے مطابق شدید گرمی محض ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ لالچ اور سیاسی ناکامی سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی لوگوں کے حقوق، زندگیوں اور روزگار سے ٹکرا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدید گرمی انسانی حقوق کا ہنگامی بحران بن چکی ہے۔ یہ زندگی، صحت، رہائش، پانی و صفائی، خوراک، تعلیم اور صحت مند ماحول کے حق کے لیے خطرہ ہے۔
ان کے مطابق شدید گرمی کوئی الگ تھلگ قدرتی آفت نہیں۔ یہ انسانی حقوق کو پہنچنے والے نقصانات میں کئی گنا اضافہ کرنے والا عنصر ہے۔ دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث اپنی زندگیوں کو بدل دینے والے، اور کئی صورتوں میں جان لیوا، شدید موسمی واقعات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ہیٹ ویوز سے جنگلات کی آگ اور سیلاب تک
مارٹا شاف نے کہا کہ ہیٹ ویوز براہِ راست اموات کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ جنگلات کی آگ کو بھی ہوا دیتی ہیں اور فضائی آلودگی کو مزید خراب کرتی ہیں۔
شدید گرمی زمین کو خشک کرنے کے ساتھ بارشوں کے نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں خشک سالی شدت اختیار کرتی ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں سیلاب مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ نقصانات ایسے آمرانہ اقدامات سے مزید بڑھ رہے ہیں جو موسمیاتی سائنس کو نشانہ بناتے ہیں، احتجاج کو محدود کرتے ہیں، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق غلط معلومات پھیلاتے ہیں اور طاقتور فوسل فیول مفادات کو احتساب سے بچاتے ہیں۔
حکومتوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ
مارٹا شاف نے کہا کہ حکومتوں کو فوری طور پر موافقت اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط عوامی خدمات کے ذریعے لوگوں کا تحفظ کرنا چاہیے۔
ان اقدامات میں ابتدائی انتباہی نظام، محفوظ رہائش، پانی تک رسائی اور شدید گرمی سے تحفظ شامل ہونا چاہیے۔ تاہم، حکومتوں کو اس بڑھتے ہوئے بحران کی بنیادی وجوہات کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی سبسڈی اور سیاسی حمایت کی بدولت فوسل فیول کمپنیاں مسلسل منافع کما رہی ہیں، جبکہ ان سے پیدا ہونے والے نقصانات کی قیمت عوام اور مقامی برادریاں ادا کر رہی ہیں۔
مارٹا شاف کے مطابق ریاستوں کو آلودگی پھیلانے والوں سے نقصانات کی قیمت وصول کرنی چاہیے۔ انہیں موسمیاتی سائنس اور شہری آزادیوں کا دفاع بھی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوسل فیول کے استعمال میں تیز، مکمل اور منصفانہ کمی لانا ضروری ہے۔ اس عمل کے لیے مناسب مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔
شدید گرمی سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کے تمام خطوں میں شدید گرمی کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں اوسط درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ انتہائی درجہ حرارت، ہیٹ ویوز، جنگلات کی آگ اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی: ’کلائمیٹ ہشنگ‘ کیوں خطرناک حکمتِ عملی بن گئی؟
موسمیاتی تبدیلی: گرمی امیروں کو ٹھنڈک، غریبوں کو موت دے گی
رواں ماہ امریکا، تیونس، مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور بنگلہ دیش میں شدید گرمی کی لہریں رپورٹ ہوئی ہیں۔ دوسری جانب انگلینڈ کے نصف سے زیادہ علاقے کو باضابطہ طور پر خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔
رواں سال دنیا بھر میں شدید گرمی سے ہونے والی بڑی تعداد میں اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ یورپ، شمالی افریقہ اور کینیڈا کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی آگ بھڑک رہی ہے۔

