فروزاں رپورٹ
موسمیاتی تبدیلی اب صرف شدید گرمی کا مسئلہ نہیں رہی۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق سیلاب، خشک سالی، طوفان اور فضائی آلودگی بھی کارکنوں کی صحت، ذہنی و جسمانی فلاح و بہبود اور پیداواری صلاحیت کو سال بھر متاثر کر رہے ہیں۔
“ورکرز اینڈ کلائمیٹ ایڈاپٹیشن ایٹ ورک” کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ برطانیہ کی پہلی تحقیق ہے، جس میں گرمی کے علاوہ مختلف موسمی خطرات کے کارکنوں پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ پروفیسر ویرا ٹریپ مین، ڈاکٹر سوزین لورینز، ڈاکٹر کیشِن گینگ، جینا مورن، ڈاکٹر اینڈریا ٹیلر اور پروفیسر سوراجے ڈیسائی نے تیار کی ہے۔
تحقیق کے دوران زراعت، تعمیرات، ہنگامی خدمات، صحت و سماجی نگہداشت، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سمیت موسمیاتی خطرات سے متاثرہ سات شعبوں کے 1,288 کارکنوں کا سروے کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 56 فیصد کارکن دورانِ ملازمت کم از کم ایک شدید موسمی واقعے سے متاثر ہوئے۔ زیادہ تر افراد نے بتایا کہ اس کے باعث نہ صرف ان کی صحت اور فلاح و بہبود متاثر ہوئی بلکہ ان کی پیداواری صلاحیت بھی کم ہوئی۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موسم سے متعلق بیماری کے باعث چھٹی لینے والے کارکنوں میں 40 فیصد نے شدید گرمی (ہیٹ اسٹریس) کو اس کی اہم وجہ قرار دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید گرمی موسمیاتی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق زراعت، ہنگامی خدمات، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں کام کرنے والے افراد موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ کھلے ماحول میں کام کرنے والے اور جسمانی مشقت سے وابستہ پیشوں کے کارکن شدید موسمی اثرات کا نسبتاً زیادہ سامنا کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق موسمیاتی خطرات میں مسلسل اضافے کے باوجود بیشتر اداروں نے مؤثر تیاری نہیں کی۔
صرف 26 فیصد کارکنوں نے بتایا کہ ان کے ادارے میں موسمیاتی موافقت یا شدید موسمی حالات سے نمٹنے کا باقاعدہ منصوبہ موجود ہے، جبکہ صرف 30 فیصد افراد کو موسم سے متعلق خطرات سے نمٹنے کی تربیت فراہم کی گئی۔
تحقیق کی سربراہ پروفیسر ویرا ٹریپ مین نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شدید موسم کارکنوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے تاکہ مؤثر موافقتی منصوبے تیار کیے جا سکیں۔
ان کے مطابق آجروں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جبکہ حکومتوں کو محفوظ کام کے لیے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کی قانونی حد مقرر کرکے اس پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی معیشت اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس لیے موسمیاتی موافقت اور اخراج میں کمی کی حکمت عملیوں کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
یونیورسٹی آف لیڈز کی ڈاکٹر سوزین لورینز نے کہا کہ آجروں کو چاہیے کہ وہ کارکنوں کے ساتھ مل کر ایسے مؤثر اقدامات تیار کریں جو شدید موسمی حالات سے نمٹنے اور طویل مدت میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں
شدید گرمی کا قہر: موسمیاتی تبدیلی اور لالچ بے نقاب
موسمیاتی تبدیلی: ’کلائمیٹ ہشنگ‘ کیوں خطرناک حکمتِ عملی بن گئی؟
محققین کے مطابق اب تک موسمیاتی موافقت سے متعلق بحث زیادہ تر بنیادی ڈھانچے، عمارتوں اور کمیونٹیز تک محدود رہی ہے، جبکہ کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی موافقت کو صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ کارکنوں کی صحت، مزدوروں کے حقوق اور معاشی پیداواری صلاحیت سے جڑا اہم معاملہ بھی سمجھا جانا چاہیے۔
عالمی سطح پر شدید گرمی: ہیٹ ویوز، جنگلات کی آگ، خشک سالی اور سیلاب سے…
موسمیاتی تبدیلی پر نئی تحقیق نے "کلائمیٹ ہشنگ" کو غلط حکمتِ عملی قرار دیا، عوام…
موسمیاتی تبدیلی: 2050 تک ہر سال 4 لاکھ 30 ہزار اضافی اموات کا خدشہ، پاکستان…
کلائمیٹ برج فنڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری آبادی کے لیے جدید موافقتی منصوبوں…
نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
This website uses cookies.