Environmental Reports

معیاری اعلیٰ تعلیم کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، مصدق ملک

معیاری اعلیٰ تعلیم اور جدید مہارتیں نوجوانوں کو عالمی معیشت کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر ہیں، مصدق ملک

اسلام آباد: وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو معیاری اعلیٰ تعلیم اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کیے بغیر پاکستان ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

وہ جمعرات کو اسلام آباد میں نٹ شیل گروپ کے زیر اہتمام ’’لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ‘‘ کے نویں ایڈیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ ’’دی نیکسٹ موو‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سمٹ میں وفاقی وزرا، عالمی اداروں کے نمائندگان اور بڑی پاکستانی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔

سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ باوقار زندگی کے لیے ہر شہری کو تعلیم، معیاری طبی سہولتوں، صاف پینے کے پانی اور بنیادی انفرااسٹرکچر تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

ان کے بقول ترقی کے مواقع صرف غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ عام شہری کو بھی عزت، تحفظ اور مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ غریب طبقے کی اکثریت کے پاس جدید معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے درکار اعلیٰ اور جدید مہارتیں موجود نہیں۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ نئی نسل کو دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیم اور ضروری ہنر فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی لاگت، ٹیکسوں اور ملکی مسابقتی صلاحیت جیسے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

معاشی چیلنجز پر توجہ ضروری

مصدق ملک نے کہا کہ نئی وبائیں اور جنگیں مستقبل میں بھی سامنے آتی رہیں گی۔ تاہم پالیسی سازوں کو فوری نوعیت کے معاشی چیلنجز پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی لاگت، ٹیکسوں اور ملکی مسابقتی صلاحیت جیسے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پالیسیوں کے تسلسل پر زور

وفاقی وزیر نے پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ محدود مفادات اور اشرافیائی غلبے کے باعث پالیسیوں میں تبدیلی یا ان کی منسوخی کا عمل ملکی ترقی کو متاثر کرتا ہے۔

ان کے مطابق باہمی مشاورت اور تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کا مؤثر راستہ ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ ملکی پالیسیاں کسی مخصوص گروہ کے مفادات کے بجائے قومی مفاد، صحت مند مسابقت اور وسیع تر معاشی ترقی کے اصولوں کے مطابق تشکیل دی جانی چاہئیں۔

عالمی یوم صفائی

پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو سبز توانائی اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت

پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد ضروری

انہوں نے وزرا اور وفاقی سیکریٹریز پر زور دیا کہ وہ پالیسیوں کے نفاذ میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرافیائی غلبے کے خاتمے، ادارہ جاتی شفافیت اور پائیدار پالیسیوں کے لیے حکومتی عہدیداروں کا مؤثر اور ذاتی احتساب ناگزیر ہے۔

admin

Recent Posts

گوادر میں 30 فٹ طویل نیلی وہیل مردہ حالت میں ساحل پر آ لگی

گوادر میں نیلی وہیل کی ہلاکت، ڈبلیو ڈبلیو ایف کی تحقیقات شروع، سمندری حیاتیاتی تنوع…

6 hours ago

عالمی یومِ آگاہی برائے سونامی، تباہی سے پہلے تیاری ضروری

عالمی یومِ آگاہی برائے سونامی، ساحلی تحفظ، پیشگی اطلاع کے نظام اور انسانی جانیں بچانے…

1 day ago

موسمیاتی بحران، کینیڈا میں معروف کارکن سیٹھ کلین کا اہم خطاب

موسمیاتی بحران، نیوی ویسٹ منسٹر میں 15 نومبر کو تقریب، ہنگامی صورتحال، اخراج میں کمی…

2 days ago

کراچی میں موسمیاتی تبدیلی اور چائے، فائدہ مند مشروب یا صحت کے لیے نقصان دہ؟

موسمیاتی تبدیلی اور چائے، بعض مطالعات کے مطابق بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور قلبی صحت میں…

3 days ago

انڈونیشیا کا ماحولیاتی بحران، کاپ 31 سے پہلے خطرے کی گھنٹی

انڈونیشیا کا ماحولیاتی بحران، موسمیاتی اقدامات ناکافی قرار، جنگلات کی آگ اور آلودگی پر قابل…

4 days ago

جاپان کا انتباہ، خوراک دینے والی کھاد اب ماحول دشمن

جاپان کا انتباہ، خوراک دینے والی کھاد کا بے دریغ استعمال فضائی و آبی آلودگی،…

5 days ago

This website uses cookies.