موسمیاتی تبدیلی سے شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلاتی آگ کے خطرات، اسٹوربریج میں 19 گھر تباہ، 18 کو نقصان، وزیرِاعظم کا زور۔
فروزاں رپورٹ
اسٹوربریج (برطانیہ):برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ برطانیہ کو بدلتی ہوئی آب و ہوا کا سامنا کرنا ہوگا۔ صاف توانائی کی جانب منتقلی کا عمل بھی تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات اسٹوربریج کے دورے کے دوران کہی، جہاں جنگلاتی آگ نے متعدد گھروں کو تباہ کردیا۔
برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم کے قریب واقع اسٹوربریج میں جمعہ کو تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے دھواں اٹھتا رہا۔ کئی مکانات کی چھتیں مکمل طور پر جل چکی تھیں۔ فائر فائٹرز ملبے پر پانی چھڑک کر آگ کے باقی ماندہ شعلوں اور گرم مقامات پر قابو پانے میں مصروف رہے۔
ویسٹ مڈلینڈز فائر سروس کے مطابق شہر میں 19 گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ 18 دیگر مکانات کو نقصان پہنچا۔

آگ سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لینے کے بعد اینڈی برنہم نے فائر فائٹرز سے ملاقات کی۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو ’’انتہائی آتش گیر‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے صاف توانائی کی جانب تیز رفتار منتقلی کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
اینڈی برنہم نے کہا، ’’میں نے برطانیہ میں اس طرح کے مناظر کبھی نہیں دیکھے، جہاں ایک پورا گھر مکمل طور پر جل کر تباہ اور سلگتا ہوا نظر آئے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمیں بدلتی ہوئی آب و ہوا کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس حقیقت سے انکار کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا اور مزید صاف توانائی کی ضرورت ہے۔‘‘
اینڈی برنہم نے گزشتہ ماہ اقتدار سنبھالا تھا۔ تاہم انہیں اس بات پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ برطانیہ میں کئی ہفتوں سے خشک سالی، شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے باوجود انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست حوالہ پہلے نہیں دیا۔

’’بارود کے ڈھیر‘‘ جیسی صورتحال
برطانیہ نے 2030 تک صفر کاربن بجلی حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 2050 تک گرین ہاؤس گیسوں کے خالص اخراج کو صفر تک لانے کا ہدف بھی ہے۔
وزیرِاعظم نے جمعہ کو ملک بھر میں 37 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات کے درمیان برطانیہ کو ’’بارود کے ڈھیر‘‘ جیسی صورتحال قرار دیا۔ انہوں نے لوگوں کو کھلے مقامات پر آگ جلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
حکومت نے ڈسپوزایبل باربی کیو آلات کی فروخت پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔
انگلینڈ اور ویلز کے شہریوں کو شام 7 بجے سے موبائل فون پر ایک غیر معمولی ہنگامی الرٹ موصول ہونا شروع ہوا۔ اس میں لوگوں کو ایسی کوئی بھی چیز جلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی جو آگ بھڑکا سکتی ہو۔ ان میں باربی کیو، کیمپ فائر اور آتش بازی بھی شامل ہیں۔
اسٹوربریج کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ بعض افراد کو دھواں سانس میں جانے کے باعث طبی امداد بھی دی گئی۔ یہ آگ جمعرات کو اس وقت پھیلی جب برطانیہ میں رواں سال کا اب تک کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔
فائر سروس کے مطابق ایک فائر فائٹر کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ پانچ دیگر معمولی زخمی ہوئے۔ امدادی ٹیمیں کھلے گھاس کے میدانوں، ریلوے لائن اور باغات میں موجود آگ کے باقی ماندہ گرم مقامات کو بجھانے میں مصروف رہیں۔

فائر فائٹرز بھی متاثر
اسٹافورڈ شائر میں مزید شمال کی جانب اسی نوعیت کی آگ پر قابو پانے کے دوران چھ فائر فائٹرز کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہیں دھوئیں کے باعث سانس لینے میں دشواری اور شدید گرمی سے تھکن کا سامنا تھا۔
ویسٹ مڈلینڈز کی ایمبولینس سروس کے مطابق، جس خطے میں اسٹوربریج اور اسٹافورڈ شائر بھی شامل ہیں، جمعرات کو 68 افراد کو دھواں سانس میں جانے سمیت مختلف علامات کے باعث طبی امداد دی گئی۔ ان میں سے 25 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

’’بڑے پیمانے پر تباہی‘‘
ایمرجنسی سروسز کے مطابق اسٹوربریج کے گردونواح میں بعض آگ گھاس کے میدانوں میں جان بوجھ کر لگائی گئی، جو بعد میں پھیل گئی۔
ویسٹ مڈلینڈز فائر سروس کے چیف فائر آفیسر سائمن ٹوہل نے جمعرات کی رات پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ان کی سروس کی جانب سے نمٹائے جانے والے ’’اب تک کے سب سے اہم واقعات میں سے ایک‘‘ہے۔
انہوں نے آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ ’’انتہائی خشک‘‘حالات کو قرار دیا اور کہا کہ تباہی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے۔
رواں موسمِ گرما میں فائر فائٹرز کو ملک بھر کے دیہی علاقوں اور خشک چراگاہوں میں لگنے والی جنگلاتی آگ سے زیادہ تر نمٹنا پڑا ہے۔
اینڈی برنہم نے فائر سروسز کے ساتھ ایک اجلاس بلانے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت نے جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے کافی وسائل فراہم نہیں کیے۔
انہوں نے یورپ اور امریکا میں آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں کی طرز پر فائر فائٹنگ طیارے حاصل کرنے کے منصوبے کا بھی انکشاف کیا۔
نیشنل فائر چیفس کونسل کے فل گیریگن نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائر فائٹرز کئی برسوں سے موسمیاتی تبدیلی کے محاذ پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائر فائٹرز اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ شہریوں اور ان کی املاک کو محفوظ رکھا جاسکے۔
نیشنل فائر چیفس کونسل نے خبردار کیا ہے کہ جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری ضرورت سے کم ہے۔ کونسل نے حکومت سے مزید تعاون بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔کونسل کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی کے طویل ادوار اور زمین کے استعمال میں تبدیلیاں زیادہ تواتر سے لگنے والی، بڑے پیمانے پر پھیلنے والی اور زیادہ پیچیدہ جنگلاتی آگ کا سبب بن رہی ہیں۔

