خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے پر اہم غور، 20 ممالک کے 250 مندوبین کی اسلام آباد کانفرنس میں شرکت
فروزاں رپورٹ
اسلام آباد: پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس میں 20 ممالک کے تقریباً 250 قومی اور بین الاقوامی مندوبین شریک ہیں۔
یہ پانچ روزہ کانفرنس 27 سے 31 اکتوبر تک اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس کا اہتمام پاکستان خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن (سپارکو) نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے خلائی امور کے تعاون سے کیا ہے۔ بین الاسلامی خلائی سائنس و ٹیکنالوجی نیٹ ورک اور ایشیا بحرالکاہل خلائی تعاون تنظیم بھی اس میں شریک ہیں۔

کانفرنس کا مقصد خلائی ٹیکنالوجی اور مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات کو بروئے کار لا کر آفات کی پیشگی اطلاع، موسمیاتی اقدامات اور خطرات کا جائزہ لینے کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
کانفرنس میں سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، برفانی تودوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے سمیت دیگر قدرتی خطرات کی نگرانی کے لیے مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جغرافیائی معلوماتی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آفات کے ممکنہ اثرات کا بروقت اندازہ لگانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی اور مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ کمزور آبادیوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بروقت پیشگی اطلاع اور قابل اعتماد معلومات کے ذریعے سمندری طوفانوں، سیلاب اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان عالمی حدت پیدا کرنے والی گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا غیر متناسب بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے براہ راست ہونے والا نقصان ملکی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 2.2 فیصد کے برابر تھا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات کو قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔ سڑکوں، پلوں اور اسپتالوں سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں موسمیاتی خطرات اور آفات کے جائزے کو شامل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے، نوجوانوں اور بالخصوص خواتین کے لیے خلائی سائنس اور جغرافیائی ٹیکنالوجی میں مواقع بڑھانے اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
احسن اقبال نے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کے لیے قرضوں کے بجائے مالی امداد کی صورت میں گرانٹ فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی بات کی۔
یہ بھی پڑھیں
رومانیہ کا پاکستان سے تعاون بڑھانے کا عزم، سفیر کا نیشنل پریس کلب کا دورہ
دنیا کے امیر ترین افراد کا کاربن اخراج، نصف انسانیت سے بھی زیادہ
کانفرنس کے دوران ماہرین سیلاب اور خشک سالی کے خطرات کا جائزہ لینے، شدید گرمی کی پیش گوئی، گلیشیئرز اور آبی وسائل کی نگرانی، زرعی پیداوار کے نقصانات کا اندازہ لگانے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
کانفرنس کے اختتام پر سفارشات پیش کی جائیں گی، جبکہ 2 سے 6 نومبر تک اسلام آباد میں خلائی معلومات کے ذریعے آفات کے انتظام سے متعلق تربیتی کورس بھی منعقد ہوگا۔

