جاپان کا انتباہ، خوراک دینے والی کھاد کا بے دریغ استعمال فضائی و آبی آلودگی، تیزابی بارش اور عالمی حدت بڑھانے لگا، صحت خطرے میں
فروزاں رپورٹ
جاپانی سائنس دان کینٹارو ہایاشی کا کہنا ہے کہ نائٹروجن کا ضرورت سے زیادہ استعمال ماحول اور انسانی صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نائٹروجن کے پائیدار استعمال اور اس کے قدرتی چکر کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
کینٹارو ہایاشی نے اپنے سائنسی کیریئر کا آغاز جانداروں میں دلچسپی کے باعث کیا تھا۔ تاہم، اب ان کی توجہ ان ماحولیات پر مرکوز ہے جہاں یہ جاندار رہتے ہیں۔ وہ خصوصاً کیمیائی مادوں کے عالمی چکر اور نائٹروجن کے اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔
ہایاشی جاپان کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ہیومینٹی اینڈ نیچر میں پروفیسر ہیں۔ وہ نائٹروجن کے قدرتی چکر اور اس کے پائیدار انتظام سے متعلق تحقیق کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ شعبہ اس وقت خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے جب دنیا بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز میں ہیبر بوش عمل کی ایجاد نے زراعت کا شعبہ تبدیل کر دیا۔ اس عمل کے ذریعے نائٹروجن گیس اور ہائیڈروجن گیس سے صنعتی پیمانے پر امونیا تیار کرنا ممکن ہوا۔ امونیا کیمیائی کھاد کا بنیادی جزو ہے، جس نے خوراک کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کیا۔
سن 1900 سے اب تک دنیا کی آبادی تقریباً پانچ گنا بڑھ چکی ہے۔ اس دوران خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے میں کیمیائی کھادوں نے اہم کردار ادا کیا۔
فضا میں موجود نائٹروجن بے ضرر ہے اور ہماری سانس کی ہوا کا تقریباً 78 فیصد حصہ ہے۔ تاہم، انسانی سرگرمیوں نے نائٹروجن کی مختلف فعال اقسام کی پیداوار اور ماحول میں اخراج میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ یہ کیمیائی مرکبات انسانی صحت پر کئی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
نائٹروجن کی اضافی مقدار فضائی اور آبی آلودگی، تیزابی بارش اور آبی ذخائر میں غذائی اجزا کی زیادتی کا سبب بنتی ہے۔ اس کیفیت کو سائنسی زبان میں یوٹروفیکیشن کہا جاتا ہے۔
جاپانی سائنس دان کینٹارو ہایاشی کیوٹو میں پیر سے شروع ہونے والی دسویں بین الاقوامی نائٹروجن کانفرنس کی صدارت بھی کریں گے۔ یہ کانفرنس تقریباً ہر تین سال بعد منعقد ہوتی ہے، جس میں محققین اپنی تحقیقات پیش کرتے ہیں اور انہیں پالیسی سازی کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جاپانی اخبار دی جاپان ٹائمز نے اس موقع پر کینٹارو ہایاشی سے گفتگو کی، جس میں انہوں نے نائٹروجن کی اہمیت، اس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالی۔

نائٹروجن کی تحقیق میں دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟
کینٹارو ہایاشی کے مطابق انہیں جانداروں سے گہری دلچسپی تھی، اسی لیے انہوں نے قدرتی علوم کے شعبے سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔
تاہم، بعد میں انہیں احساس ہوا کہ جانداروں کے لیے ان کے اردگرد کا ماحول بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر ماحول خراب ہو جائے تو اس کے اثرات قدرتی طور پر ان جانداروں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی سرگرمیاں ماحول کی خرابی میں بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہیں۔ عالمی حدت اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔
تقریباً 10 سال پہلے انہوں نے جاپان کی انٹارکٹک تحقیقی مہم میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس سے پہلے وہ آرکٹک کے ایک جزیرے پر تحقیق کر چکے تھے۔
ان کے مطابق سمندری برف تیزی سے پگھل رہی ہے اور خشکی پر مستقل جمی ہوئی برف بھی پگھلنے لگی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہاں رہنے والے جانداروں کو تیزی سے تبدیل ہوتے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔
ہایاشی کا کہنا تھا کہ وہ سوچتے رہے کہ اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے وہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق عالمی حدت پر گفتگو کرتے ہوئے عموماً بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر توجہ دی جاتی ہے، لیکن اس کا تعلق کاربن اور نائٹروجن کے قدرتی چکروں سے بھی ہے۔
نائٹروجن پروٹین کی تیاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جانداروں کو زندہ رہنے کے لیے پروٹین اور جینیاتی معلومات محفوظ رکھنے کے لیے ڈی این اے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دونوں نائٹروجن کے بغیر تیار نہیں ہو سکتے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم ابتدائی جماعتوں میں پڑھتے ہیں کہ ہوا کا تقریباً 80 فیصد حصہ نائٹروجن پر مشتمل ہے۔ تاہم، فضا میں موجود نائٹروجن کے دو ایٹم ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں۔
اس لیے انسان جتنی بھی نائٹروجن سانس کے ذریعے اندر لے، جسم اسے استعمال نہیں کر سکتا اور وہ دوبارہ باہر نکل جاتی ہے۔
انسان اور دیگر جاندار اپنی ضرورت کی نائٹروجن خوراک کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ ہم پودوں اور جانوروں کو کھاتے ہیں، ان میں موجود پروٹین اور امینو ایسڈ کو توڑتے ہیں اور پھر انہیں اپنے جسم کی ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔
ہایاشی کے مطابق تمام جانور، بشمول انسان، اسی قدرتی چکر کا حصہ ہیں۔ اسی احساس نے انہیں نائٹروجن کی اہمیت اور انسانی سرگرمیوں سے اس کے قدرتی بہاؤ میں آنے والی تبدیلیوں پر تحقیق کی طرف راغب کیا۔

ہیبر بوش عمل نے خوراک کی پیداوار کیسے بڑھائی؟
کینٹارو ہایاشی کے مطابق ہیبر بوش عمل کی تیاری سے پہلے، تقریباً 1900 میں دنیا کی آبادی 1 ارب 60 کروڑ تھی۔ آج، تقریباً 125 سال بعد، یہ بڑھ کر 8 ارب ہو چکی ہے۔
اس اضافے کے باعث دنیا کو تقریباً پانچ گنا زیادہ خوراک درکار ہے، جس کی پیداوار میں کیمیائی کھادوں کا اہم کردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا بھر میں انسان جو خوراک استعمال کرتے ہیں، اس میں موجود تقریباً نصف نائٹروجن ہیبر بوش عمل کے ذریعے تیار کردہ کھادوں سے حاصل ہوتی ہے۔
اگر یہ عمل موجود نہ ہوتا تو دنیا موجودہ آبادی کے تقریباً نصف کو ہی خوراک فراہم کر سکتی تھی۔
نائٹروجن کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نقصانات
ہایاشی کے مطابق نائٹروجن اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کسی مفید چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
آج دنیا میں اتنی خوراک پیدا ہو رہی ہے کہ انسان مویشیوں کے لیے بھی بڑی مقدار میں خوراک اگا رہے ہیں۔ ماضی میں گائیں زیادہ تر گھاس کھاتی تھیں، لیکن اب انہیں مکئی جیسی فصلیں بھی کھلائی جاتی ہیں، جو انسانوں کی خوراک کا حصہ ہیں۔
ان کے مطابق زرعی زمینوں پر ڈالی جانے والی نائٹروجن کھاد کا صرف تقریباً نصف حصہ فصلیں جذب کرتی ہیں۔ باقی مقدار ہوا اور پانی میں شامل ہو کر آلودگی پیدا کرتی ہے۔
مویشی پالنے کے لیے بھی بڑی مقدار میں چارہ اگانا پڑتا ہے۔ فصلوں میں موجود نائٹروجن کا تقریباً 50 فیصد حصہ پودوں میں منتقل ہوتا ہے، لیکن گائے کے گوشت کی صورت میں اس نائٹروجن کا صرف 10 فیصد حصہ گوشت میں تبدیل ہوتا ہے۔
اس طرح گوشت کے استعمال اور پیداوار سے نائٹروجن کا اخراج نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے، لیکن عام طور پر لوگ اس نقصان سے آگاہ نہیں ہوتے۔
نائٹروجن ماحول کے لیے مسئلہ کیوں بن رہی ہے؟
ہایاشی کے مطابق نائٹروجن کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں، مستحکم نائٹروجن اور فعال نائٹروجن۔
فضا میں موجود زیادہ تر نائٹروجن غیر فعال ہوتی ہے۔ تاہم، اس کا ایک چھوٹا حصہ مختلف فعال مرکبات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان میں امونیا اور نائٹرک ایسڈ جیسے غیر نامیاتی مادے، جبکہ امینو ایسڈ اور پروٹین جیسے نامیاتی مرکبات شامل ہیں۔
قدرتی ماحول میں موجود خردبینی جاندار بھی نائٹروجن کے مرکبات تیار کرتے ہیں۔ وہ یہ عمل عام درجہ حرارت اور معمول کے فضائی دباؤ میں انجام دیتے ہیں۔
اس کے برعکس صنعتی ہیبر بوش عمل میں امونیا تیار کرنے کے لیے تقریباً 400 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور فضائی دباؤ سے 100 گنا زیادہ دباؤ درکار ہوتا ہے۔ اس عمل میں توانائی کی بھی بہت زیادہ مقدار استعمال ہوتی ہے۔
امونیا کی تیاری کے لیے ہائیڈروجن بھی ضروری ہے۔ ہیبر بوش عمل میں ہائیڈروجن قدرتی گیس سے حاصل کی جاتی ہے، جو ایک فوسل ایندھن ہے۔ اس کے بعد اسے زیادہ درجہ حرارت پر نائٹروجن کے ساتھ ملا کر امونیا تیار کیا جاتا ہے۔

نائٹروجن کا استعمال کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
کینٹارو ہایاشی کا کہنا ہے کہ نائٹروجن کا استعمال جاری رکھنا ضروری ہے، لیکن اسے سمجھ داری سے استعمال کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق جب فعال نائٹروجن ماحول میں خارج ہوتی ہے تو یہ عالمی حدت، فضائی اور آبی آلودگی اور آبی ذخائر میں غذائی اجزا کی زیادتی کا سبب بنتی ہے۔
مویشی پالنے کے شعبے میں جانوروں کے فضلے کے ذریعے نائٹروجن کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ اس مسئلے کا بہتر حل یہ ہے کہ جانوروں کے فضلے سے نامیاتی کھاد تیار کی جائے اور اسے دوبارہ زرعی زمینوں میں استعمال کیا جائے۔
خوراک کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خوراک کی پیداوار کے لیے نائٹروجن اور کھادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب خوراک ضائع ہوتی ہے تو اسے تیار کرنے میں استعمال ہونے والی نائٹروجن بھی ضائع ہو جاتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ کھانا بھی نقصان دہ ہے۔ انسان ایک جاندار ہے اور جسم کی ضرورت سے زیادہ خوراک فضلے کی صورت میں خارج ہو جاتی ہے۔
اس لیے بہتر ہے کہ اضافی خوراک دوسروں کو دے دی جائے یا اسے اگلے کھانے کے لیے محفوظ کر لیا جائے۔
نائٹروجن کی آلودگی انسانی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
ہایاشی کے مطابق نائٹروجن کی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ فضائی آلودگی ہے۔
نائٹروجن آکسائیڈز خود فضائی آلودگی کا سبب ہیں۔ یہ زمین کے قریب اوزون سمیت مختلف فوٹوکیمیکل آکسیڈنٹس کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرتی ہیں، جو سانس کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
جاپان میں امونیم اور نائٹریٹ جیسے مرکبات میں موجود نائٹروجن، پی ایم 2.5 کے مجموعی وزن کا تقریباً 10 سے 20 فیصد حصہ بنتی ہے۔
یہ باریک ذرات پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور سانس و دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد کی قبل از وقت اموات میں بھی فضائی آلودگی کا کردار ہے۔
اقتصادی لحاظ سے بھی نائٹروجن کی آلودگی بھاری نقصان کا سبب بن رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2010 میں اس آلودگی سے عالمی سطح پر 1.2 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔
ہایاشی کے مطابق جاپان میں ماضی کے آلودگی کے بحرانوں کے بعد سخت ماحولیاتی قوانین متعارف کرائے گئے، جس کے نتیجے میں آج وہاں ہوا اور پانی پہلے سے زیادہ صاف ہیں۔
تاہم، جاپان کی صاف فضا اور پانی کی ایک وجہ خوراک کی درآمدات پر اس کا زیادہ انحصار بھی ہے۔ دوسرے ممالک سے خوراک درآمد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی پیداوار سے پیدا ہونے والی نائٹروجن آلودگی کا بوجھ بھی ان ممالک پر منتقل ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں خوراک برآمد کرنے والے ممالک اس کی پیداوار سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی بنیاد پر قیمتیں بڑھا سکتے ہیں یا ماحولیاتی ٹیکس عائد کر سکتے ہیں۔ اس صورت حال سے جاپان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اسی لیے وہ توانائی اور غذائی تحفظ کے نقطہ نظر سے جاپان میں خوراک کی مقامی پیداوار بڑھانے کے حامی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائٹرس آکسائیڈ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین کے بعد تیسرا بڑا کردار ادا کرتی ہے۔
نائٹروجن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی کوششیں
ہایاشی کے مطابق بین الاقوامی نائٹروجن کانفرنس کا آغاز 1998 میں ہوا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد تیزابی بارش اور سرحد پار فضائی آلودگی پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
محققین نے محسوس کیا کہ نائٹروجن کے مسائل صرف مقامی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
تاہم، نائٹروجن کے مسئلے کو سمجھنا آسان نہیں کیونکہ اس کے اثرات فوری طور پر نظر نہیں آتے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی حدت پر تحقیق 1970 کی دہائی میں شروع ہوئی، لیکن اسے وسیع پیمانے پر توجہ حاصل کرنے میں 1990 کی دہائی تک وقت لگا۔
اسی طرح کرہ ہوائی میں اوزون کی تہہ کے کمزور ہونے کا مسئلہ اس لیے نمایاں ہوا کیونکہ اس سے زمین تک پہنچنے والی بالائے بنفشی شعاعوں میں اضافہ ہوا، جس سے جلد کے سرطان اور آنکھوں میں موتیا ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔
اس کے برعکس نائٹروجن کے مسائل کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی کم ہے۔ زیادہ تر لوگ کیمیائی کھادوں کے فوائد سے واقف ہیں، لیکن ان کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نقصانات کو کم لوگ سمجھتے ہیں۔

کیوٹو کانفرنس کے بنیادی مقاصد کیا ہیں؟
کینٹارو ہایاشی کے مطابق کیوٹو میں ہونے والی دسویں بین الاقوامی نائٹروجن کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’آئندہ نسلوں کے لیے نائٹروجن کا پائیدار انتظام‘‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کیے جانے والے اقدامات اور فیصلے مستقبل کی نسلوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
اس لیے ہر فیصلہ کرتے وقت صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھنے کے بجائے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ مستقبل کے لوگ ان اقدامات پر شکر گزار ہوں گے یا انہیں ان فیصلوں پر افسوس ہوگا۔
کانفرنس کا مقصد سائنسی تحقیق اور پالیسی سازی کے درمیان رابطہ مضبوط بنانا ہے تاکہ نائٹروجن کے استعمال کے فوائد برقرار رکھتے ہوئے فضائی اور آبی آلودگی جیسے خطرات کم کیے جا سکیں۔
کیا نائٹروجن کے لیے عالمی معاہدہ ضروری ہے؟
ہایاشی کے مطابق نائٹروجن کا مسئلہ کئی مختلف شعبوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدے، حیاتیاتی تنوع کے عالمی معاہدے، سرحد پار فضائی آلودگی کے معاہدوں اور مقامی سطح پر پانی کے انتظام کے قوانین سے بھی ہے۔
اس لیے صرف نائٹروجن کے لیے ایک نیا عالمی معاہدہ بنانے کے بجائے موجودہ بین الاقوامی معاہدوں کے درمیان رابطے اور تعاون کا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوسل ایندھن کے متبادل کے طور پر امونیا کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
جاپان امونیا جلانے کی ٹیکنالوجی میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ امونیا نائٹروجن اور ہائیڈروجن سے مل کر بنتا ہے اور اسے جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج نہیں ہوتی۔ اس لیے یہ کاربن کے اخراج میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، امونیا کی پیداوار کے اپنے ماحولیاتی اثرات ہیں۔ اس کے علاوہ امونیا زہریلا مادہ ہے اور اگر یہ ماحول میں خارج ہو جائے تو نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس طرح ایک مسئلے کے حل کے لیے اختیار کی جانے والی ٹیکنالوجی دوسرے ماحولیاتی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
ہایاشی کے مطابق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کو مزید اختیارات دیے جائیں تو وہ موجودہ عالمی معاہدوں کے درمیان اختلافات اور مفادات کے ٹکراؤ کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے سائنس دانوں کو بھی پالیسی سازی کے عمل میں شامل کرنا ہوگا تاکہ مختلف معاہدوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔
جاپان کے قومی نائٹروجن منصوبے پر کیا تحفظات ہیں؟
جاپان نے 2024 میں نائٹروجن کے پائیدار انتظام کے لیے اپنا قومی عملی منصوبہ جاری کیا تھا۔
ہایاشی کے مطابق جاپان اس حوالے سے قومی عملی منصوبہ جاری کرنے والا دنیا کا پہلا اور واحد ملک ہے۔
تاہم، اس منصوبے میں واضح عددی اہداف مقرر نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ منصوبے پر نظرثانی کے دوران قابل پیمائش اہداف بھی شامل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں
رومانیہ کا پاکستان سے تعاون بڑھانے کا عزم، سفیر کا نیشنل پریس کلب کا دورہ
خلائی ٹیکنالوجی، موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی نئی امید
عام شہری نائٹروجن کی آلودگی کم کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
کینٹارو ہایاشی کے مطابق عام شہری نائٹروجن کی آلودگی کم کرنے کے لیے سب سے مؤثر قدم خوراک کی قدر کرنا اور اسے ضائع ہونے سے بچانا ہے۔
لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خوراک کہاں سے آتی ہے اور اسے تیار کرنے میں کتنے وسائل استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ضرورت سے زیادہ کھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوشت کا استعمال کم کرنے سے بھی نائٹروجن کے اخراج میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم لوگوں کے لیے اپنی غذائی عادات میں اچانک بڑی تبدیلی کرنا مشکل ہوتا ہے۔
ہایاشی نے بتایا کہ وہ خود بھی اپنی خوراک کے ذریعے نائٹروجن کے ماحولیاتی اثرات کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک خاص مواقع پر پسندیدہ کھانے سے لطف اندوز ہونا بھی ضروری ہے۔
جاپانی ثقافت میں اس تصور کو ’’ہاری‘‘ اور ’’کے‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا تعلق خاص مواقع اور روزمرہ زندگی سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ عام دنوں میں سادہ غذا کھاتے ہیں، لیکن جب گوشت کھانے کا دل چاہے تو اسے شکر گزاری اور لطف کے ساتھ کھاتے ہیں۔ اس طرح کبھی کبھار کھایا جانے والا گوشت بھی زیادہ لذیذ محسوس ہوتا ہے۔

