Environmental Reports Farozaan

پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو سبز توانائی اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت

Pakistan’s Textile Industry Needs Green Energy and Shared Responsibility

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو ماحول دوست بنانے اور بجلی کے نظام میں بہتری کے اقدامات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے ماحولیاتی تقاضوں، شفافیت، قابلِ تجدید توانائی اور بجلی کی مسابقتی قیمت جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی پوری مالی اور عملی ذمہ داری صرف صنعت کاروں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ عالمی برانڈز، حکومت، مالیاتی اداروں، توانائی کے شعبے اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ نکات آلٹرنیٹ ڈیولپمنٹ سروسز، یعنی اے ڈی ایس، کے زیرِ اہتمام لاہور میں منعقدہ قومی کانفرنس ’’کرنٹس آف چینج: ٹیکسٹائل کمپلائنس، شیئرڈ ریسپانسبلٹی اینڈ پاکستانز پاور مارکیٹ ٹرانزیشن‘‘ میں سامنے آئے۔

کانفرنس میں ٹیکسٹائل صنعت، عالمی برانڈز، حکومتی اور ریگولیٹری اداروں، جامعات، سول سوسائٹی اور توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔

کانفرنس کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش ماحولیاتی اور تجارتی تقاضوں پر گفتگو کی گئی۔

عالمی منڈی کے نئے ماحولیاتی تقاضے

کانفرنس کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش ماحولیاتی اور تجارتی تقاضوں پر گفتگو کی گئی۔

شرکا نے کہا کہ عالمی خریدار اب مصنوعات کی تیاری میں خارج ہونے والی کاربن، پانی اور توانائی کے استعمال، کیمیائی مادّوں، خام مال کے ذرائع اور کارکنوں کے حالات سے متعلق زیادہ تفصیلی معلومات طلب کر رہے ہیں۔

اس صورتِ حال میں پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے صرف کم قیمت مصنوعات تیار کرنا کافی نہیں رہا۔ انہیں ماحول دوست پیداوار اور مکمل معلومات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

اے ڈی ایس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امجد نذیر نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو ماحولیاتی اصولوں کی پابندی، کاربن اخراج میں کمی، نئی ٹیکنالوجی اور مالی وسائل کے حصول جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق صنعت کاروں کی ذمہ داری اپنی جگہ موجود ہے، لیکن وہ اس تبدیلی کا پورا مالی بوجھ تنہا برداشت نہیں کرسکتے۔

کئی مرتبہ ایک ہی معلومات مختلف برانڈز اور پلیٹ فارمز کو بار بار فراہم کرنا پڑتی ہیں۔

عالمی برانڈز کا کردار

کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی برانڈز کو صرف نئے ماحولیاتی تقاضے عائد کرنے کے بجائے ان پر عمل درآمد کے اخراجات میں بھی حصہ لینا چاہیے۔

اس مقصد کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری، آسان مالی سہولتوں، طویل مدتی خریداری کے معاہدوں اور ٹیکنالوجی کی فراہمی جیسے طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

اس سے کارخانوں کو ماحول دوست مشینری، توانائی کی بچت، پانی کی دوبارہ صفائی اور کاربن اخراج میں کمی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنے کا اعتماد ملے گا۔

سیفائر فنشنگ ملز کے رفاع بن رؤف نے بتایا کہ ٹیکسٹائل اداروں کو متعدد آڈٹ، رپورٹنگ نظام اور خریداروں کی مختلف ضروریات پوری کرنا پڑتی ہیں۔

کئی مرتبہ ایک ہی معلومات مختلف برانڈز اور پلیٹ فارمز کو بار بار فراہم کرنا پڑتی ہیں۔

ان کے مطابق صنعت سے پانچ یا دس سال میں لاگت پوری کرنے والے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جبکہ کاروباری آرڈر اکثر مختصر مدت کے لیے دیے جاتے ہیں۔

اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے خریداروں کی جانب سے طویل مدتی تجارتی یقین دہانی ضروری ہے۔

صنعتوں کو اپنے اخراج کی بنیادی سطح معلوم کرکے کمی کے واضح اور مقررہ مدت والے اہداف طے کرنا ہوں گے۔

پائیداری اور قابلِ پیمائش بہتری

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی نازیفہ بٹ نے کہا کہ پائیداری کو صرف کاغذی کارروائی نہیں بننا چاہیے بلکہ اس سے ماحول میں حقیقی اور قابلِ پیمائش بہتری آنی چاہیے۔

صنعتوں کو اپنے اخراج کی بنیادی سطح معلوم کرکے کمی کے واضح اور مقررہ مدت والے اہداف طے کرنا ہوں گے۔

انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے کم شرح پر قرض، مشترکہ مالی معاونت اور فنی مدد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ماہرین نے ٹیکسٹائل کے فضلے کو دوبارہ استعمال کرنے، نئی مصنوعات بنانے اور اسے معاشی وسیلے میں تبدیل کرنے کی اہمیت بھی بیان کی۔

مستقبل میں یورپی منڈیوں کو برآمد کی جانے والی مصنوعات کے لیے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ اہم ہوگا۔ اس میں کسی مصنوعات کے خام مال، تیاری، اجزا اور ماحولیاتی اثرات کی تفصیلات موجود ہوں گی۔

پاکستانی برآمد کنندگان کو اس نظام کے لیے ابھی سے اپنے معلوماتی اور ڈیجیٹل نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

بجلی کی منڈی میں تبدیلیاں

کانفرنس کا دوسرا اجلاس پاکستان کی بجلی کی منڈی میں آنے والی تبدیلیوں اور مسابقتی تجارتی دوطرفہ معاہدوں کی منڈی، یعنی سی ٹی بی سی ایم پر مرکوز تھا۔

اس نظام کے تحت اہل صنعتی صارفین روایتی سرکاری طریقہ کار سے ہٹ کر بجلی پیدا کرنے والے اداروں سے براہِ راست معاہدے کرسکیں گے۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ بجلی کی بظاہر کم قیمت کو دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔

صنعتوں کو بجلی کی ترسیل، نظام کے استعمال کے معاوضے، لائن لاسز، ٹیکس، طلب میں فرق اور دیگر اخراجات کو ملا کر اصل قیمت معلوم کرنا ہوگی۔

نیشنل گرڈ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر فیاض چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں تین دہائیوں سے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی کوشش کی جارہی ہے، مگر ادارہ جاتی کمزوری، میرٹ کی کمی اور ناقص فیصلہ سازی کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔

ان کے مطابق صرف اداروں کے نام بدلنے، نئے شعبے قائم کرنے یا قواعد جاری کرنے کو حقیقی اصلاحات نہیں کہا جاسکتا۔

بجلی کی منصوبہ بندی کو صارفین کی طلب، مختلف اوقات میں استعمال، شمسی توانائی، ذخیرہ کرنے کی سہولت اور بجلی کی بچت سے جوڑنا ہوگا۔

توانائی کے استعمال کا جائزہ ضروری

شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صنعتوں کو نئی بجلی خریدنے یا شمسی نظام نصب کرنے سے پہلے توانائی کا باقاعدہ جائزہ لینا چاہیے۔

کارخانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بجلی کہاں استعمال ہورہی ہے، کہاں ضائع ہورہی ہے اور کن مشینوں یا طریقوں میں بہتری سے فوری بچت ہوسکتی ہے۔

اس کے بعد شمسی اور ہوائی توانائی یا بیٹریوں میں سرمایہ کاری زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

واش گورننس میں صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کی اہمیت

عالمی یومِ اوزون، پائیدار ٹھنڈک کے لیے پاکستان کا بڑا قدم

مشترکہ ذمہ داری ہی آگے کا راستہ

کانفرنس کا مجموعی حاصل یہ تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو ماحول دوست بنانے اور بجلی کے نظام کو بہتر کرنے کے اقدامات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

صنعتوں کو شفاف معلومات، توانائی کی بچت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی، جبکہ عالمی خریداروں، حکومت، ریگولیٹری اداروں اور مالیاتی شعبے کو مناسب سرمایہ، مستقل پالیسیاں اور طویل مدتی تعاون فراہم کرنا ہوگا۔

یہی مشترکہ ذمہ داری پاکستان کی برآمدی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل رکھتے ہوئے اسے کم کاربن اور پائیدار پیداوار کی جانب لے جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں