Environmental Reports Farozaan

خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ، موسمیاتی نگرانی بھی خطرے میں؟

Space Arms Race: Is Climate Monitoring Also at Risk?

خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ پر چین کی مخالفت، بڑھتی عسکری کشیدگی سے موسمیاتی مشاہدے اور سیٹلائٹ نظام پر سوال اٹھنے لگے۔

چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ خلا میں ’’جنگ کی تیاری‘‘ ترک کرے۔ یہ بیان امریکی خلائی فوج کی جانب سے مدار میں پہلی بار خلائی کنٹرول کے ہتھیار تعینات کرنے کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے۔

بیجنگ اور واشنگٹن طویل عرصے سے خلا میں اپنی اسٹریٹیجک اور عسکری موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک خلا کو مستقبل کی ٹیکنالوجی، سلامتی اور زمین کے مشاہدے کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔

سیٹلائٹس کے ذریعے سمندر کی سطح میں تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، جنگلات میں کمی،

موسمیاتی نگرانی میں سیٹلائٹس کا کردار

ماہرین کے مطابق خلا میں موجود سیٹلائٹس صرف عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ زمین کے ماحول اور موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سیٹلائٹس کے ذریعے سمندر کی سطح میں تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، جنگلات میں کمی، خشک سالی، فضائی آلودگی اور شدید موسمی واقعات سے متعلق اہم معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

یہ معلومات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لینے، قدرتی آفات کی نگرانی اور شدید موسم کی پیشگی اطلاع دینے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

تاہم، فوج نے ان ہتھیاروں سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکا اور چین میں خلائی کشیدگی

امریکی خلائی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے مدار میں ایسے خلائی کنٹرول کے ہتھیار تعینات کیے ہیں جو دشمن کی معاندانہ کارروائیوں کے خلاف دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، فوج نے ان ہتھیاروں سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

چینی وزارت خارجہ نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خلا کو ہتھیاروں کی آماج گاہ بنانے، اسے میدان جنگ میں تبدیل کرنے اور وہاں اسلحے کی دوڑ شروع کرنے سے گریز کیا جائے۔

امریکی خلائی فوج نے چین کو ایک اہم خطرے کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اپنی عسکری جدت کاری کی حکمت عملی کے تحت خلائی صلاحیتیں تیار اور استعمال کر رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی: آنے والی تباہ کاریوں کے لیے دنیا کتنی تیار ہے؟

ایئر کنڈیشننگ: گرمی سے نجات یا زمین کو مزید گرم کرنے کا خطرہ؟

امریکی حکام نے روس کو بھی ایک جغرافیائی و سیاسی حریف قرار دیا۔ ان کے مطابق ماسکو خلا میں بالادستی کو مستقبل کے تنازعات میں فیصلہ کن عنصر سمجھتا ہے۔

خلا میں بڑھتی عسکری سرگرمیوں کے تناظر میں زمین کے موسمیاتی مشاہدے کے نظام کا تحفظ بھی اہم ہوتا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے اور شدید موسمی حالات کی نگرانی کے لیے دنیا کا انحصار خلائی مشاہداتی نظام پر بڑھ رہا ہے۔




اپنا تبصرہ لکھیں