Environmental Reports Farozaan

موسمیاتی تبدیلی: آنے والی تباہ کاریوں کے لیے دنیا کتنی تیار ہے؟

Climate Change: How Prepared Is the World for Disasters to Come?

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات، شدید سیلاب، گرمی کی لہروں اور خوراک کے بحران کے باوجود دنیا قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔

امریکہ میں ووٹرز کے لیے موسمیاتی تبدیلی اہم ترین مسائل میں شامل ہے۔ پیرس معاہدے سے امریکہ کا انخلا 4 نومبر 2020 سے پہلے ممکن نہیں تھا۔ اس لیے 2020 کے صدارتی انتخابات معاہدے کے حامیوں اور مخالفین، دونوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے تھے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں ایک ’’حکمت عملی کے تحت پسپائی‘‘ کا اعلان کیا۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کو روکنے اور زمین کو اس کی قدرتی اور صحت مند حالت میں بحال کرنے کی کوششوں میں ناکام رہے ہیں۔

اب ہمیں اپنی زندگیوں کو درپیش شدید خطرات کا سامنا ہے۔ یہ خطرات اس بات سے قطع نظر موجود ہیں کہ ہم کون ہیں یا دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔

دنیا میں کوئی بھی خطہ ایسا نہیں جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ ہو، چاہے لوگ کہیں بھی رہتے ہوں۔

موسمیاتی تبدیلی سب کو متاثر کرتی ہے

دنیا میں کوئی بھی خطہ ایسا نہیں جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ ہو، چاہے لوگ کہیں بھی رہتے ہوں۔ یہی حقیقت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی ناکافی کوششوں کو مزید حیران کن بناتی ہے۔

مقامی سطح پر جنگ یا بیماری کے حوالے سے سیاسی رویوں کو تبدیل کرنے میں ناکامی کو لاعلمی یا خود غرضی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے معاملے میں اس طرح کے رویے کا کوئی جواز نہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سے ہم سب متاثر ہوں گے۔ ایشیا کا کوئی ساحلی گاؤں جس طرح زیرِ آب آ سکتا ہے، اسی طرح وال اسٹریٹ بھی پانی میں ڈوب سکتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن اور بعض اوقات غصہ دلانے والی حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کسی دور کے مستقبل یا ممکنہ تباہ کن انجام کی کہانی نہیں ہیں۔ دنیا کے جس بھی خطے پر نظر ڈالیں، اس کے اثرات واضح دکھائی دیتے ہیں۔

تباہ کن اچانک سیلاب کا حالیہ واقعہ، جس میں نیپال میں ایک ہزار سے زائد افراد جان سے گئے، کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔

نیپال کے سیلاب اور بڑھتے موسمی خطرات

تباہ کن اچانک سیلاب کا حالیہ واقعہ، جس میں نیپال میں ایک ہزار سے زائد افراد جان سے گئے، کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔ یہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مسلسل ناکامی اور ناقص انتظام کاری کے نتائج میں سے ایک ہیں۔

بڑھتے درجہ حرارت نے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے امکانات بڑھائے ہیں، جس سے کئی شہروں اور دیہات کو سیلاب جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی صرف درجہ حرارت میں اضافے کا نام نہیں۔ یہ دنیا بھر کے موسمی نظام میں غیر متوقع، بے مثال اور تیز رفتار تبدیلیوں کا مجموعہ ہے۔

آئیووا کے لوگوں کے لیے حالیہ عرصے میں اس کا ایک نمایاں اثر شدید بارشوں کے باعث اچانک سیلاب کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

بعض ناقدین کا کہنا ہو سکتا ہے کہ بارشوں کے یہ انداز معمول کے مطابق اور متوقع ہیں۔ لیکن اس صورت میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ بارشیں معمول کے مطابق ہیں تو پھر آئیووا میں اچانک سیلاب سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ کیوں موجود نہیں؟

ہماری خوراک کی فراہمی مستحکم موسمی حالات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

دنیا قدرتی آفات کے لیے کتنی تیار ہے؟

یہ ہمیں ایک اہم نکتے تک لے آتا ہے۔ اجتماعی طور پر، چاہے ہم کسی بھی ملک یا براعظم میں رہتے ہوں، ہم بڑی قدرتی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔

ہماری خوراک کی فراہمی مستحکم موسمی حالات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ یا بہت کم بارشیں دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔

ہمارے شہر بھی شدید اور تیزی سے بدلتے موسمی اثرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔ بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کا نظام طوفانوں یا شدید گرمی کی لہروں جیسے حالات کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔

نیویارک جیسے شہروں اور یورپ کے مختلف ممالک میں ان اثرات کے نتائج پہلے ہی سامنے آ رہے ہیں۔

موسمیاتی پالیسیوں پر بھی سوالات

بدقسمتی سے مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری حکومتیں بعض اوقات موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے بجائے اسے مزید تیز کرنے والی پالیسیوں پر توجہ دے رہی ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی نے بجلی گھروں سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق اپنی پالیسیوں میں نرمی کی ہے تاکہ بجلی کی لاگت کم کی جا سکے۔

بظاہر یہ اچھی خبر لگ سکتی ہے، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بجلی کی طلب میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اس لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ ان پالیسی تبدیلیوں کا فائدہ عام لوگوں کو پہنچے گا یا مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو۔

ہمیں اس کی قیمت صرف اپنی زندگیوں اور خراب فضائی معیار کی صورت میں نہیں بلکہ اپنی جیب سے بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

یورپ نے بھی ایران اور یوکرین کی جنگوں کے باعث بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کا دوبارہ استعمال شروع کر دیا ہے۔ کوئلہ توانائی پیدا کرنے والے سب سے زیادہ نقصان دہ اور آلودگی پھیلانے والے فوسل ایندھن میں شمار ہوتا ہے۔

ایئر کنڈیشننگ: گرمی سے نجات یا زمین کو مزید گرم کرنے کا خطرہ؟

اقوام متحدہ کا انتباہ، سیاسی تقسیم سے معیشت کو خطرہ

مایوسی نہیں، تیاری اور علم ضروری ہے

تاہم، اس مضمون کا مقصد مایوسی پھیلانا یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ ہم بحیثیت طلبہ شاید ایسی طاقت نہیں رکھتے کہ ان پالیسیوں کا فیصلہ کر سکیں جو مستقبل میں ہماری زندگیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوں گی۔

تاہم، ہمارے پاس تیاری اور علم کی طاقت ضرور موجود ہے۔

پسند ہو یا نہ ہو، یہی وہ دنیا ہے جس میں ہمیں زندگی گزارنی ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم معلومات اور شعور سے خود کو اس طرح مضبوط کریں کہ بحیثیت انسان اپنی زمین اور اس کے ساتھ خود اپنی حفاظت کر سکیں۔

آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی نظام کے حوالے سے بہترین وسائل اور ماہرین موجود ہیں۔ ذمہ دار طلبہ کی حیثیت سے ہمیں ان کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور ان سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔

ساتھ ہی ہمیں اپنی کوششوں کی رہنمائی بھی خود کرنی ہوگی تاکہ اپنے اور اپنے ساتھی طلبہ کے لیے ایک بہتر مستقبل تعمیر کیا جا سکے۔


اپنا تبصرہ لکھیں