Environmental Reports

ساحلی روایتی علم: پاکستان کا موسمیاتی پالیسی میں نیا قدم

ساحلی روایتی علم: ماہی گیری، سمندری حیات کے تحفظ اور موسمیاتی لچک کے لیے مقامی تجربے کو پالیسی میں شامل کرنے پر زور

کراچی: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے زور دیا ہے کہ پاکستان کی ساحلی آبادیوں کے روایتی علم کو موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، سمندری حیات کے تحفظ اور ماہی گیری سے متعلق پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کو بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں مقامی آبادیوں کا نسل در نسل منتقل ہونے والا علم اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

محمد جنید انور چوہدری نے یہ بات عالمی یومِ مقامی اقوام کے موقع پر کہی

کراچی اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا سے لے کر گوادر اور جیوانی تک ساحلی برادریاں نسلوں سے سمندری لہروں، ماہی گیری کے مقامات، سمندری حیات، موسم کے انداز اور ساحلی ماحولیاتی نظام سے متعلق وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق یہ روایتی علم سائنسی تحقیق کی معاونت کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بہتر بنا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روایتی علم صرف ماضی کی میراث نہیں بلکہ ایک زندہ وسیلہ ہے، جو موسمیاتی لچک، پائیدار ماہی گیری اور سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

محمد جنید انور چوہدری نے یہ بات عالمی یومِ مقامی اقوام کے موقع پر کہی۔ یہ دن ہر سال 9 اگست کو دنیا بھر میں مقامی اور قدیم آبادیوں کے حقوق اور ضروریات کے بارے میں آگاہی کے لیے منایا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کی ماہی گیر برادریوں کو شہری پھیلاؤ، آلودگی اور قدرتی مساکن کی تباہی کے باعث بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

ساحلی آبادیوں کو بڑھتے ماحولیاتی دباؤ کا سامنا

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کی ماہی گیر برادریوں کو شہری پھیلاؤ، آلودگی اور قدرتی مساکن کی تباہی کے باعث بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی، سمندری پانی کے زمین میں داخل ہونے، ساحلی کٹاؤ اور ماہی گیری کے نظام میں تبدیلی جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق بلوچستان کے ساحل پر موجود روایتی ماہی گیر برادریاں بھی اسی طرح کے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ ان علاقوں میں سونمیانی، اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیوانی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید سائنس اور روایتی ماحولیاتی علم کو ایک دوسرے کا معاون بننا چاہیے۔ جو برادریاں نسلوں سے سمندر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، وہ اپنے ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کو ایسے انداز میں سمجھتی ہیں جو باضابطہ موسمیاتی اور سمندری پالیسیوں کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔

پاکستان کے ساحلی علاقے موسمیاتی تبدیلی اور سطح سمندر میں اضافے کے اثرات سے خاص طور پر متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

سندھ ڈیلٹا کو موسمیاتی خطرات

پاکستان کے ساحلی علاقے موسمیاتی تبدیلی اور سطح سمندر میں اضافے کے اثرات سے خاص طور پر متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو سمندری پانی کے زمین میں داخل ہونے، ساحلی سیلاب اور میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی جیسے بڑے خطرات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ماحولیاتی تبدیلی کی صحافت مضبوط بنانے کے لیے پی آئی ڈی کی تربیتی ورکشاپ

جھمپیر نیچر بچاؤ مہم: شکاریوں سے فطرت کے محافظ بننے کی منفرد داستان

وفاقی وزیر نے کمیونٹی کی بنیاد پر موسمیاتی موافقت کے اقدامات، مؤثر ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ماہی گیری کے انتظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں ساحلی آبادیوں کی شمولیت بڑھانے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی بلیو اکانومی کو ماحولیاتی تحفظ سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ صحت مند سمندر، مضبوط ساحلی ماحولیاتی نظام اور بااختیار ساحلی برادریاں پائیدار بحری ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

admin

Recent Posts

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

13 hours ago

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…

20 hours ago

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…

2 days ago

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…

2 days ago

پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات

پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…

3 days ago

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل منصوبہ شروع

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…

4 days ago

This website uses cookies.