Environmental Reports

پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات

پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر پر، غذائی کمی اور موسمیاتی خطرات میں اضافہ

پاکستان میں بھوک اب صرف روٹی کی کمی کا نام نہیں رہی۔ یہ بچوں کی کمزور نشوونما، خاندانوں کی گھٹتی قوتِ خرید اور روزمرہ زندگی کی مشکلات کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ بہت سے خاندانوں کو کھانے، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

عالمی بھوک اشاریہ 2026 (گلوبل ہنگر انڈیکس 2026) کے مطابق پاکستان کا اسکور 25.5 ہے، جو بھوک کی سنگین سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ 122 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان 106ویں نمبر پر ہے۔ یہ صورتِ حال ملک میں خوراک، صحت اور سماجی تحفظ کے نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔

خوراک کے عالمی دن سے قبل جاری کی گئی اس رپورٹ کا مرکزی پیغام تھا کہ خوراک کے تحفظ کے بغیر سلامتی ممکن نہیں۔

عالمی بھوک اشاریہ 2026 کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

عالمی بھوک اشاریہ 2026 کی رپورٹ 14 اکتوبر 2026 کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں رابرٹ بوش فاؤنڈیشن کے مرکزی دفتر میں پیش کی گئی۔ تقریب میں آن لائن شرکت کی سہولت بھی موجود تھی۔ خوراک کے عالمی دن سے قبل جاری کی گئی اس رپورٹ کا مرکزی پیغام تھا کہ خوراک کے تحفظ کے بغیر سلامتی ممکن نہیں۔

یہ رپورٹ جرمنی کی تنظیم ویلٹ ہنگر ہلفے، انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل لا آف پیس اینڈ آرمڈ کانفلکٹ اور سوئٹزرلینڈ کی تنظیم ہیلویٹاس نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ اس کی تیاری میں اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں سمیت بین الاقوامی ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار استعمال یے جاتے ہیں۔

پاکستان کی موجودہ پوزیشن خطے میں سب سے نچلی نہیں، لیکن یہ اطمینان کی کوئی گنجائش بھی نہیں چھوڑتی۔

جنوبی ایشیا میں پاکستان کی پوزیشن

جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں بھوک اور غذائی کمی کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔ تاہم خطے میں پاکستان کی صورتِ حال سب سے خراب نہیں ہے۔

افغانستان کا اسکور 28.6 ہے اور وہ 108ویں نمبر پر ہے۔ بھارت 24.1 اسکور کے ساتھ 100ویں، بنگلہ دیش 19.2 کے ساتھ 84ویں، نیپال 14.5 کے ساتھ 72ویں اور سری لنکا 10.2 اسکور کے ساتھ 53ویں نمبر پر ہے۔

اس اشاریے میں زیادہ اسکور بھوک کی زیادہ شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ پوزیشن خطے میں سب سے نچلی نہیں، لیکن یہ اطمینان کی کوئی گنجائش بھی نہیں چھوڑتی۔

ان میں آبادی کا وہ تناسب شامل ہے جو ضرورت کے مطابق غذائی توانائی حاصل نہیں کر پاتا۔

بھوک جانچنے کے چار اہم پیمانے

بھوک کی شدت سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کسی گھر میں کھانا پکتا ہے یا نہیں۔ عالمی بھوک اشاریہ چار بنیادی پیمانوں کو یکجا کرتا ہے۔

ان میں آبادی کا وہ تناسب شامل ہے جو ضرورت کے مطابق غذائی توانائی حاصل نہیں کر پاتا۔ دوسرا پیمانہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کا عمر کے لحاظ سے پست قد ہے۔ تیسرا قد کے لحاظ سے کم وزن اور چوتھا پانچویں سالگرہ سے پہلے بچوں کی اموات کی شرح ہے۔

اس طرح یہ اشاریہ خوراک کی دستیابی کے ساتھ غذائی کمی اور صحت کے مسائل کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔ تاہم بچوں کی تمام اموات کو صرف بھوک کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ بیماریاں اور غیر صحت مند ماحول بھی ان اموات میں کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کی غذائی کمی کے تشویش ناک اعداد و شمار

عالمی بھوک اشاریہ 2026 میں پاکستان کے لیے پیش کیے گئے اعداد و شمار تشویش ناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی 16.1 فیصد آبادی ضرورت سے کم غذائی توانائی حاصل کرتی ہے۔

پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 33.6 فیصد کا قد عمر کے لحاظ سے کم ہے، جبکہ 9.8 فیصد بچوں کا وزن ان کے قد کے تناسب سے کم ہے۔ اسی عمر کے بچوں میں شرحِ اموات 5.6 فیصد ہے۔

تقریباً ہر تین میں سے ایک بچے کا قد عمر کے مطابق نہ بڑھنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ملک میں غذائی محرومی کتنی گہری ہے۔ یہ اعداد و شمار متعلقہ اشاریوں کے لیے دستیاب تازہ شواہد اور مختلف ادوار کے اعداد پر مبنی ہیں۔

ان اعداد کا انسانی پہلو کہیں زیادہ سنگین ہے۔ بچپن میں مناسب خوراک نہ ملنے سے نقصان صرف جسمانی کمزوری تک محدود نہیں رہتا۔ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت، ذہنی نشوونما اور صحت مند زندگی گزارنے کے امکانات بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس لیے غذائی کمی کا شکار بچے کو محض ایک طبی مریض سمجھنا کافی نہیں۔ اس کی حالت ایسے گھر، محلے اور نظام کی بھی نشان دہی کرتی ہے جہاں متوازن خوراک، صاف پانی، مناسب دیکھ بھال یا علاج تک رسائی میں رکاوٹیں موجود ہیں۔

2018 کے بعد پاکستان میں صورتِ حال کیوں بگڑی؟

پاکستان کے لیے ایک اہم تشویش یہ ہے کہ طویل مدت میں بہتری کے باوجود حالیہ برسوں میں پیش رفت برقرار نہیں رہ سکی۔

موجودہ رپورٹ میں دوبارہ حساب کیے گئے تاریخی اسکور کے مطابق پاکستان کا عالمی بھوک اشاریہ 2000 میں 36.2، 2018 میں 24.0 اور 2026 میں 25.5 رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی عرصے میں بہتری آئی، لیکن 2018 کے بعد صورتِ حال دوبارہ خراب ہوئی۔

جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان، دونوں ممالک کی حالت اس تقابلی عرصے میں بگڑی ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ غذائی تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مسلسل اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

75 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا

پاکستان کے کمزور علاقوں کی صورتِ حال ایک الگ جائزے سے بھی سامنے آتی ہے۔ غذائی بحران کی شدت جانچنے والے نظام آئی پی سی (انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن) کے مطابق دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران زیرِ جائزہ آبادی میں تقریباً 75 لاکھ افراد کو بحران یا اس سے بدتر درجے کے شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا تھا۔ ان میں تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار افراد ہنگامی درجے میں شامل تھے۔

تاہم یہ پورے پاکستان کی صورتِ حال کا تخمینہ نہیں تھا۔ اس تجزیے میں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے 45 کمزور دیہی اضلاع اور تقریباً 3 کروڑ 56 لاکھ افراد پر مشتمل آبادی کو شامل کیا گیا تھا۔

اسی جائزے میں اپریل سے ستمبر 2026 کے دوران تقریباً 67 لاکھ افراد کے بحران یا اس سے بدتر حالت میں رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اس تعداد کو اکتوبر 2026 کی موجودہ صورتِ حال کے اعداد و شمار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

رپورٹ میں یہ احتیاط بھی واضح کی گئی کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں متاثرہ افراد کی کم تعداد کو لازماً بہتری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تجزیے کا دائرہ 68 اضلاع سے کم ہو کر 45 اضلاع تک محدود ہو گیا تھا۔ اعداد و شمار کی درست تشریح ضروری ہے، ورنہ محدود جائزہ غلط اطمینان پیدا کر سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور خشک سالی سے بھوک میں اضافہ

بھوک کے بحران میں موسم اور ماحول کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آئی پی سی کے مطابق 2025 کے مون سون کی بارشوں اور سیلاب کے باقی اثرات، طویل خشک سالی، بارشوں کے وقفوں اور بعض علاقوں میں بدامنی نے غذائی عدم تحفظ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

سیلاب کسان کی فصل، ذخیرہ شدہ اناج اور آمدنی کو بیک وقت متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری طرف خشک سالی فصلوں کے ساتھ جانوروں کے چارے اور پانی کی دستیابی پر بھی دباؤ ڈالتی ہے۔

اس طرح قدرتی آفت گزر جانے کے بعد بھی متاثرہ خاندانوں کو خوراک تک رسائی بحال کرنے میں وقت لگتا ہے۔ فصلوں کی تباہی، روزگار کا نقصان اور بنیادی سہولتوں میں رکاوٹیں طویل عرصے تک غذائی بحران کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔

موسمیاتی خطرات کے تناظر میں خوراک کے تحفظ کو صرف زرعی پیداوار تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی آمدنی اور خوراک تک رسائی محفوظ بنائی جائے۔

خوراک کی پیداوار کے ساتھ قوتِ خرید بھی ضروری

خوراک کا تحفظ صرف زیادہ گندم پیدا کرنے سے ممکن نہیں۔ خاندانوں کے پاس خوراک خریدنے کے لیے پیسے، منڈیوں تک رسائی اور روزگار کے مواقع بھی ہونے چاہییں۔

اگر کسی علاقے میں اناج دستیاب ہو، لیکن مزدور کی آمدنی ناکافی ہو تو اس کے گھر میں بھوک برقرار رہ سکتی ہے۔ اسی طرح پیٹ بھرنے والی خوراک ہمیشہ متوازن اور غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتی۔

اس لیے غذائی پالیسی کی کامیابی کا جائزہ اس بنیاد پر بھی لیا جانا چاہیے کہ کم آمدنی والے خاندانوں میں بچوں اور ماؤں کو باقاعدگی سے مناسب غذا مل رہی ہے یا نہیں۔ خوراک کی دستیابی کے ساتھ اس کا معیار اور اسے خریدنے کی استطاعت بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

پاکستان میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے عملی ترجیحات واضح ہیں۔ آئی پی سی نے ضرورت مند خاندانوں کے لیے نقد امداد، خوراک کے واؤچر اور براہِ راست غذائی مدد بڑھانے کی سفارش کی ہے۔

چھوٹے کسانوں کو معیاری بیج اور ضروری زرعی سامان فراہم کرنا بھی اہم ہے۔ اسی طرح مویشیوں کو بیماریوں سے بچانے، پانی محفوظ کرنے اور آبپاشی کے نظام کی بحالی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ ان اقدامات کا مقصد صرف فوری طور پر بھوک مٹانا نہیں، بلکہ خاندانوں کی آمدنی اور مستقبل میں خوراک حاصل کرنے کی صلاحیت کو بھی مضبوط بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل منصوبہ شروع

برطانیہ میں آکٹوپس کا راج، سمندر میں کیا بدل گیا؟

پاکستان کے مستقبل کے لیے غذائی تحفظ ناگزیر

پاکستان کے لیے اصل سوال عالمی فہرست میں چند درجے اوپر آنے سے کہیں بڑا ہے۔ ملک کو ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں بچوں کی غذا، ماؤں کی صحت، صاف پانی، کسانوں کی آمدنی اور موسمیاتی تحفظ کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔

حکومتی کارکردگی کا پیمانہ صرف فصلوں کی پیداوار یا امداد کی تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ خاندانوں کو مناسب خوراک میسر ہے یا نہیں اور بچے صحت مند نشوونما پا رہے ہیں یا نہیں۔

بھوک کو ہر آفت کے بعد عارضی امداد کا معاملہ بنائے رکھنا بحران کو طول دے سکتا ہے۔ خالی پیٹ اور کمزور بچپن کسی ایک خاندان کا ذاتی مسئلہ نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔

admin

Recent Posts

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

7 hours ago

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…

14 hours ago

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…

1 day ago

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…

2 days ago

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل منصوبہ شروع

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…

3 days ago

برطانیہ میں آکٹوپس کا راج، سمندر میں کیا بدل گیا؟

برطانیہ میں آکٹوپس کی افزائش، درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری حیات متاثر، ماہی گیروں…

4 days ago

This website uses cookies.