Environmental Reports

ایل نینو کیا ہے؟گرمی، خشک سالی اور سیلاب کا خطرناک راز

ایل نینو بحرالکاہل کے گرم پانی کا قدرتی موسمی مظہر ہے، جو بارش، گرمی، خشک سالی اور سیلاب کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایل نینو دنیا کے اہم قدرتی موسمی مظاہر میں سے ایک ہے۔ یہ بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر اور فضا کے باہمی نظام میں پیدا ہونے والی غیر معمولی گرم کیفیت ہے۔

اس دوران وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کی سطح کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے عالمی نمونے متاثر ہوتے ہیں۔

ایل نینو کسی طوفان یا ایک دن کے موسمی واقعے کا نام نہیں۔ یہ ایک وسیع موسمی کیفیت ہے، جو کئی مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

جنوبی امریکا کے ساحلی ماہی گیروں نے پیرو اور ایکواڈور کے قریب سمندری پانی کو کرسمس کے زمانے میں غیر معمولی طور پر گرم ہوتے دیکھا تو اسے ایل نینو کا نام دیا۔

لفظ ایل نینو کے معنی

’’ایل نینو‘‘ ہسپانوی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’’چھوٹا لڑکا‘‘ ہیں۔

جنوبی امریکا کے ساحلی ماہی گیروں نے پیرو اور ایکواڈور کے قریب سمندری پانی کو کرسمس کے زمانے میں غیر معمولی طور پر گرم ہوتے دیکھا تو اسے ایل نینو کا نام دیا۔

اگرچہ پیرو کے ماہی گیر یہ نام پہلے سے استعمال کرتے تھے، لیکن ’’ایل نینو‘‘ کی اصطلاح پہلی مرتبہ 1892 میں پیرو کے بحری کپتان کامیلو کاریلو کی ایک سائنسی تحریر میں باقاعدہ طور پر درج ہوئی۔

یہ نام حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش اور کرسمس کے زمانے کی مناسبت سے رکھا گیا تھا، کیونکہ یہ گرم سمندری پانی عموماً دسمبر کے آخر میں نمایاں ہوتا تھا۔

جدید موسمیات میں ایل نینو کو ’’ایل نینو۔سدرن آسلیشن‘‘ یعنی ای این ایس او کے گرم مرحلے کو کہا جاتا ہے۔ اس نظام کا سرد مرحلہ لا نینا کہلاتا ہے، جبکہ درمیانی حالت کو نیوٹرل حالت کہا جاتا ہے۔

پیرو کے ساحل کے قریب ٹھنڈے پانی کے اوپر آنے کا عمل بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

ایل نینو کیسے بنتا ہے؟

عام حالات میں بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب مشرق سے مغرب کی طرف مسلسل چلنے والی ہوائیں گرم سطحی پانی کو آسٹریلیا اور انڈونیشیا کی طرف دھکیلتی ہیں۔

اس کے بدلے میں جنوبی امریکا کے مغربی ساحل کے قریب سمندر کی گہرائی سے ٹھنڈا اور غذائی اجزا سے بھرپور پانی اوپر آتا ہے۔ اس عمل کو ’’اپ ویلنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔

ایل نینو کے دوران مشرقی ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اس وجہ سے گرم پانی وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کی طرف پھیلنے لگتا ہے۔

پیرو کے ساحل کے قریب ٹھنڈے پانی کے اوپر آنے کا عمل بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

گرم سمندر فضا میں زیادہ حرارت اور نمی منتقل کرتا ہے۔ اس سے بادلوں، بارش، فضائی دباؤ اور بلند فضائی ہواؤں کی جگہ تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہی تبدیلیاں دنیا کے مختلف علاقوں کے موسم کو متاثر کرتی ہیں۔

ان تبدیلیوں کا کئی مہینوں تک برقرار رہنا بھی ایل نینو کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ایل نینو کی شناخت

سائنس دان صرف سمندری پانی کے گرم ہونے کی بنیاد پر ایل نینو کا اعلان نہیں کرتے۔ اس کی شناخت کے لیے سمندر اور فضا، دونوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس کی اہم علامات میں وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کی سطح کا معمول سے زیادہ گرم ہونا، مشرقی ہواؤں کا کمزور پڑنا، پیرو کے ساحل کے قریب اپ ویلنگ میں کمی، فضائی دباؤ کے فرق میں تبدیلی اور بارش و بادلوں کے مراکز کا مشرق کی طرف منتقل ہونا شامل ہیں۔

ان تبدیلیوں کا کئی مہینوں تک برقرار رہنا بھی ایل نینو کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ایل نینو عموماً ہر دو سے سات سال کے درمیان ظاہر ہوتا ہے۔ ایک واقعہ اکثر نو سے بارہ ماہ تک جاری رہتا ہے، اگرچہ بعض اوقات اس کی مدت زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

ایل نینو اور لا نینا میں فرق

ایل نینو کے دوران وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہوتا ہے اور مشرقی ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔

اس کے برعکس لا نینا کے دوران یہی پانی معمول سے زیادہ سرد ہو جاتا ہے اور مشرقی ہوائیں زیادہ مضبوط ہو جاتی ہیں۔

لا نینا کے موسمی اثرات اکثر ایل نینو کے مخالف ہوتے ہیں، لیکن اسے ایل نینو کا مکمل عکس نہیں سمجھنا چاہیے۔

دونوں مظاہر کی شدت اور علاقائی اثرات ہر مرتبہ مختلف ہو سکتے ہیں۔

دنیا پر ایل نینو کے اثرات

ایل نینو بحرالکاہل میں پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات دنیا کے کئی حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان دور دراز اثرات کو سائنسی زبان میں ’’ٹیلی کنیکشنز‘‘ کہا جاتا ہے۔

ایل نینو عموماً عالمی اوسط درجہ حرارت میں عارضی اضافہ کرتا ہے۔ جب یہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ملتا ہے تو شدید گرمی اور گرم سمندری لہروں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

اس مظہر کے دوران پیرو، ایکواڈور، مشرقی افریقہ اور جنوبی امریکا کے بعض علاقوں میں معمول سے زیادہ بارش ہو سکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں سیلاب، مٹی کا کٹاؤ، فصلوں کے نقصان اور عمارتوں کی تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں بارش کم ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

کم بارش کی وجہ سے خشک سالی، پانی کی قلت اور جنگلاتی آگ کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ایل نینو کے دوران پیرو کے ساحل کے قریب اپ ویلنگ کمزور ہو جاتی ہے۔ اس سے سطحی پانی میں غذائی اجزا کم ہو جاتے ہیں۔

نتیجتاً پلینکٹن اور مچھلیوں کی تعداد متاثر ہوتی ہے اور ماہی گیری کی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

گرم سمندری پانی مرجان کی بلیچنگ کا سبب بھی بن سکتا ہے، جس سے سمندری ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔

زراعت اور معیشت پر اثرات

بارش اور درجہ حرارت میں تبدیلی فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔

بعض علاقوں میں خشک سالی، جبکہ بعض میں شدید بارش فصلیں تباہ کر سکتی ہے۔ اس سے خوراک کی قیمتوں، روزگار، پانی، توانائی اور تجارت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

ایل نینو کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہتے۔ زرعی پیداوار میں کمی اور پانی کی قلت معیشت کے مختلف شعبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

انسانی صحت پر اثرات

غیر معمولی گرمی، سیلاب اور خشک سالی انسانی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

بعض علاقوں میں ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

شدید گرمی سے جسم میں پانی کی کمی، ہیٹ اسٹروک اور اموات بھی ہو سکتی ہیں۔

پاکستان اور جنوبی ایشیا پر اثرات

جنوبی ایشیا میں ایل نینو کو اکثر مون سون کی کمزور بارشوں کے بڑھتے ہوئے امکان سے جوڑا جاتا ہے۔

پاکستان میں اس کے ممکنہ اثرات میں:مون سون کی بارشوں میں کمی

گرمی کی شدید لہریں

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی کمی

گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی فصلوں کو نقصان

آبپاشی اور پینے کے پانی کے مسائل

پن بجلی کی پیداوار میں کمی

خوراک کی قیمتوں میں اضافہ

شامل ہو سکتے ہیں۔

تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر ایل نینو کے دوران پاکستان میں لازماً خشک سالی ہو۔

بحرِ ہند کا درجہ حرارت، انڈین اوشن ڈائپول، مغربی ہوائیں، مقامی حالات اور موسمیاتی تبدیلی بھی پاکستان کے موسم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس لیے ہر سال کی علاقائی موسمی پیش گوئی کو الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔

ایل نینو کی پیش گوئی کیسے کی جاتی ہے؟

ایل نینو کی نگرانی اور پیش گوئی کے لیے سائنس دان مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں۔

ان میں سمندر میں نصب بوئیاں، موسمی مصنوعی سیارے، بحری جہاز، موسمی اسٹیشن، سمندری درجہ حرارت اور سطح کی پیمائش اور جدید کمپیوٹر ماڈل شامل ہیں۔

عالمی اور قومی موسمی ادارے ان معلومات کی بنیاد پر ایل نینو کے پیدا ہونے، اس کی شدت اور ممکنہ اثرات کے بارے میں پیش گوئیاں جاری کرتے ہیں۔

تاہم موسمی پیش گوئیاں امکانات ظاہر کرتی ہیں، یقینی نتائج نہیں۔

خطرات کم کرنے کے طریقے

ایل نینو کے نقصانات کم کرنے کے لیے موسمی اداروں کی پیش گوئیوں پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔

پانی کے ذخائر اور آبپاشی کی پیشگی منصوبہ بندی کی جائے۔ خشک سالی برداشت کرنے والی فصلیں کاشت کی جائیں۔

کاشت کاروں کو بروقت موسمی اور زرعی معلومات فراہم کی جائیں۔

گرمی کی لہروں کے دوران صاف پانی، سایہ اور طبی امداد کا انتظام کیا جائے۔

سیلابی علاقوں میں نکاسی آب اور ہنگامی راستے بہتر بنائے جائیں۔

ڈینگی اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی نگرانی کی جائے۔

اس کے ساتھ متاثرہ کسانوں اور ماہی گیروں کے لیے مالی مدد اور بیمہ فراہم کیا جائے۔

ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی

موسمیاتی تبدیلی اور ایل نینو ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

ایل نینو زمین کے قدرتی موسمی نظام کا عارضی حصہ ہے، جبکہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ایک طویل مدتی عالمی رجحان ہے۔

ایل نینو چند مہینوں یا ایک دو سال تک اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کئی دہائیوں سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کر رہی ہے۔

جب دونوں ایک ساتھ واقع ہوں تو شدید گرمی، خشک سالی، جنگلاتی آگ اور بعض انتہائی موسمی واقعات کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

ایل نینو سمندر اور فضا کے درمیان پیدا ہونے والا ایک قدرتی مگر طاقتور موسمی مظہر ہے۔

اس کی ابتدا بحرالکاہل کے استوائی حصے میں ہوتی ہے، لیکن اس کے اثرات پوری دنیا کے موسم، زراعت، معیشت، سمندری حیات اور انسانی صحت تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایل نینو کے اثرات ہر ملک اور ہر واقعے میں یکساں نہیں ہوتے۔ اس لیے درست سائنسی مشاہدے، علاقائی موسمی پیش گوئی، عوامی آگاہی اور بروقت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ مناسب تیاری کے ذریعے خشک سالی، سیلاب، گرمی اور خوراک کی کمی جیسے خطرات سے ہونے والے نقصانات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔




admin

Recent Posts

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: دنیا بھر میں 56 کروڑ بچے خطرناک گرمی کی زد میں

موسمیاتی تبدیلی کے باعث 43 فیصد بچے ہر سال اضافی ایک ماہ خطرناک گرمی کا…

3 hours ago

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: شدید موسم کیوں بن رہے ہیں زیادہ تباہ کن؟

موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہریں، سیلاب، طوفان اور خشک سالی شدید ہو رہے…

1 day ago

پی سی ایف بلوچستان کی شاندار ڈبل کامیابی، فلم فیسٹیول میں پھر پہلی پوزیشن

پی سی ایف بلوچستان ٹیم نے مسلسل دوسری بار پہلی پوزیشن حاصل کرکے تخلیقی صلاحیتوں…

2 days ago

خواتین، فطرت اور سبز انقلاب: ترقی کے ماڈل پر ازسرِنو غور

خواتین، خصوصاً دیہی اور مقامی خواتین کی آواز، روایتی علم اور کردار کو تسلیم کرنا…

3 days ago

موسمیاتی بحران: سویڈن میں انتخابات سے قبل 10 ہزار افراد کا احتجاج

موسمیاتی بحران پر مؤثر اقدامات کے لیے اسٹاک ہوم میں 10 ہزار افراد نکل آئے،…

3 days ago

مٹی، کسان اور بیج کا رشتہ تباہی اور بربادی کے دھانے پر

بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری…

4 days ago

This website uses cookies.