فروزاں رپورٹ
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کے روز کراچی کے جام چاکرو میں سندھ کے پہلے سینیٹری انجینئرڈ لینڈ فل منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح کردیا۔ اس منصوبے کا مقصد کراچی میں کچرے کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانا، ماحولیاتی آلودگی کم کرنا اور ٹھوس کچرے کے انتظامی نظام کو جدید بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے فیتہ کاٹ کر منصوبے کا افتتاح کیا اور کچرا ٹھکانے لگانے کا عمل شروع کرایا۔ اس موقع پر وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔
دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے لینڈ فل سائٹ کا معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر عثمان معظم نے انہیں منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی۔
ورلڈ بینک کی مالی اور تکنیکی معاونت سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے پر مجموعی طور پر 105 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ اس میں ورلڈ بینک کے 100 ملین ڈالر اور سندھ حکومت کے 5 ملین ڈالر شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق منصوبے کی لاگت تقریباً 14 ارب روپے ہے۔
منصوبے کا مقصد کچرا جمع کرنے، منتقل کرنے اور سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے جدید نظام قائم کرنا ہے۔ اس سے روایتی طریقوں سے کچرا پھینکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی میں کچرے کے انتظامی نظام کو جدید بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ حکومت کچرا جمع کرنے اور اسے ٹھکانے لگانے کے پورے عمل کو زیادہ مؤثر اور منظم بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی طریقوں سے کچرا پھینکنے سے اردگرد کا ماحول آلودہ ہوسکتا ہے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ انجینئرڈ لینڈ فل میں خصوصی مواد اور حفاظتی تہوں کا استعمال کیا گیا ہے، تاکہ ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو کم کیا جاسکے۔
تقریباً 150 ایکڑ رقبے پر مشتمل اس مقام کو انجینئرڈ لائننگ سسٹم کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس میں جیو ٹیکسٹائل مواد شامل ہے، جو زمین کی نچلی سطح کو آلودگی سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے علاوہ لیچیٹ، یعنی کچرے سے پانی گزرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آلودہ مائع کو جمع کرنے اور محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے مخصوص نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔
لینڈ فل سائٹ پر کچرے کو سائنسی طریقے سے دبانے اور ٹھکانے لگانے کا انتظام ہوگا۔ کچرے کا وزن کرنے کے لیے وی برج اور ماحولیاتی نگرانی کے نظام سے ریکارڈ رکھنے، انتظامی کنٹرول اور جوابدہی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ لینڈ فل سائٹ پر کچرا گلنے سڑنے سے پیدا ہونے والی میتھین گیس کو جمع کرکے توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس جدید نظام کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ معاشی فوائد حاصل کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔
مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک کی مالی اور تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر رائج بہترین طریقوں سے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور محکمہ بلدیات کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ لینڈ فل کے تین انجینئرڈ سیلز مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ تعمیراتی پیکیج پر مجموعی پیش رفت 61.67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
باقی تعمیراتی کام 30 نومبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے مرحلے کے افتتاح کے ساتھ ہی اس سہولت پر کام شروع ہوگیا ہے اور انہیں توقع ہے کہ باقی سیلز بھی مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل ہوجائیں گے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وی برج درست طریقے سے چلائے جائیں اور لینڈ فل سائٹ پر آنے والے کچرے کا روزانہ درست ریکارڈ مرتب کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے باقاعدہ رپورٹنگ اور نگرانی کا نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کچرا صرف مقررہ انجینئرڈ سیلز میں ہی ڈالا جائے۔
یہ بھی پڑھیں
برطانیہ میں آکٹوپس کا راج، سمندر میں کیا بدل گیا؟
موسمیاتی بحران، پفن پرندوں کی بقا خطرے میں، ٹیکنالوجی سے امید
منصوبے کے ماحولیاتی اور مالی فوائد کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ورلڈ بینک کی تکنیکی ٹیم کے اندازے کے مطابق لینڈ فل منصوبے سے تقریباً 20 ملین ڈالر مالیت کے کاربن کریڈٹس حاصل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاربن کریڈٹس کے حصول کے لیے منصوبے کی رجسٹریشن سمیت ضروری پیش رفت کی جاچکی ہے۔ اس سے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ مالی فوائد حاصل کرنے کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت ماحول دوست اور پائیدار طریقے اختیار کرکے کراچی کے لیے طویل مدتی فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…
تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…
گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…
پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…
برطانیہ میں آکٹوپس کی افزائش، درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری حیات متاثر، ماہی گیروں…
This website uses cookies.