فروزاں رپورٹ
مٹھی: صحرائے تھر میں مون سون کی کم اور بے وقت بارشوں کے باعث خشک سالی کی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔ بارشیں نہ ہونے سے تھر کے مکین اپنے مال مویشیوں سمیت سندھ کے بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال بارشوں کی کمی نے نہ صرف فصلوں کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ مویشیوں کے لیے قدرتی چارہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کے باعث مقامی آبادی کو خوراک اور روزگار کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ تین ماہ قبل اچھی بارشوں کی امید پر بیراجی علاقوں سے اپنے گھروں کو واپس لوٹے تھے۔ تاہم، بارشیں نہ ہونے کے باعث اب بچوں کے لیے خوراک اور مویشیوں کے لیے چارے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ایسے حالات میں انہیں ایک بار پھر اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرنا پڑ رہی ہے۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق رواں سال تھرپارکر میں سب سے زیادہ 280 ملی میٹر بارش چھاچھرو میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ ڈاہلی میں سب سے کم 180 ملی میٹر بارش ہوئی۔ یہ مقدار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہے۔
ضلع بھر میں اس وقت 80 لاکھ سے زائد مویشی موجود ہیں۔ قدرتی چارے کی قلت کے باعث ان کی خوراک کا مسئلہ تشویشناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس سے مویشیوں کی بقا کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
دوسری جانب خشک سالی، غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی نے مقامی آبادی کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ بچوں کی اموات اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی علاقے کے لیے سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے منتخب نمائندوں اور سماجی حلقوں نے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے تھرپارکر کو آفت زدہ قرار دینے کے لیے کابینہ سے نوٹیفکیشن جاری کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس کے علاوہ رکن صوبائی اسمبلی قاسم سراج سومرو، فقیر شیر محمد بلالانی اور چیئرمین ضلع کونسل تھرپارکر غلام حیدر سمیجو نے بھی فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے اور مویشیوں کی ہلاکتیں روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں
پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات
سینیٹر پونجو مل بھیل نے تھر کول کی رائلٹی سے حاصل ہونے والی رقم علاقے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے پر زور دیا ہے۔
تھر کے مکین اب حکومتی یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متاثرہ علاقوں کا فوری سروے کرایا جائے اور ضرورت مند خاندانوں کو راشن، صاف پانی اور مویشیوں کے لیے چارہ فراہم کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…
گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…
پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…
سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…
برطانیہ میں آکٹوپس کی افزائش، درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری حیات متاثر، ماہی گیروں…
This website uses cookies.