Environmental Reports Farozaan

بجٹ 2026-27: ماحولیاتی تحفظ اور روزگار کے لیے بڑے اقدامات کی تجویز

Budget 2026-27: Major Steps Proposed for Jobs and Environmental Protection

بجٹ 2026-27 کو صرف مالی اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار اور ماحولیاتی تحفظ پر سرمایہ کاری بڑھانے کی سفارش۔

اسلام آباد: پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے معاشی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کو صرف مالیاتی اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے انسانی ترقی، روزگار کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کو مرکزی اہمیت دی جائے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کو بار بار درپیش معاشی اور موسمیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایسے پائیدار نظام کی ضرورت ہے جو غربت، عدم مساوات اور ماحولیاتی خطرات میں کمی لا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی موافقت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے بھی زیادہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے کی تجویز

ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ حکومت کو تعلیم، صحت، غذائیت اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی موافقت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے بھی زیادہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر شفقت منیر احمد کے مطابق پاکستان ہر سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کی لہر کے بعد صرف بحالی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا جائزہ اس کے غربت پر پڑنے والے اثرات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی موافقت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے بھی زیادہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

زراعت، ایس ایم ایز اور سبز معیشت میں روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور

ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے روزگار پیدا کرنے والے شعبوں، خصوصاً زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) اور سبز معیشت میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے کی سفارش کی۔

ان کے مطابق ان شعبوں کی معاونت سے پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس بوجھ نہ ڈالا جائے

ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ تنخواہ دار اور دستاویزی شعبے پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کے بجائے معیشت کے غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ اصلاحات کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق بالواسطہ ٹیکسوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کرتا ہے اور معاشی سرگرمیوں کی رفتار کو سست کر دیتا ہے۔

کلائمیٹ فنڈ اور ری سائیکلنگ انڈسٹری کے فروغ کی سفارش

ایس ڈی پی آئی کی ماہر برائے ماحولیاتی پائیداری اور سرکلر اکانومی زینب نعیم نے تجویز دی کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد اور کاربن لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 20 فیصد ایک علیحدہ کلائمیٹ فنڈ کے لیے مختص کیا جائے۔

انہوں نے ری سائیکلنگ انڈسٹری کے لیے خصوصی مالی مراعات دینے کی سفارش بھی کی۔

زینب نعیم کا کہنا تھا کہ اگر کچرے کو معاشی وسیلہ سمجھتے ہوئے مناسب پالیسی معاونت فراہم کی جائے تو سبز روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

بجٹ کو معاشی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بنانے کی ضرورت

ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ بجٹ کو محض آمدنی اور اخراجات کے توازن تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے معاشی تبدیلی اور ترقی کا مؤثر ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ مالیاتی فیصلوں کا مرکز روزگار کے مواقع، پیداواری سرمایہ کاری اور انسانی سرمائے کی ترقی ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر خالد ولید کے مطابق کلائمیٹ بجٹ ٹیگنگ کو رسمی کارروائی کے بجائے ایک جامع اور مؤثر عمل کی شکل دی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

عالمی یومِ بحر 2026: سمندروں کا تحفظ، انسانیت کا تحفظ

ہیٹ ویو الرٹس: خطرات بڑھ گئے

قابلِ تجدید توانائی اور پالیسی تسلسل پر زور

ڈاکٹر خالد ولید نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے مضبوط مراعات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان سرمایہ کاری کے لیے خطرات پیدا کرتا ہے۔ حکومت کو طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے واضح اور مستقل پالیسی فریم ورک اختیار کرنا چاہیے۔

ماہرین کا متفقہ مؤقف ایس ڈی پی آئی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 کو صرف مالیاتی نظم و ضبط کی دستاویز بنانے کے بجائے انسانی ترقی، روزگار کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے تاکہ ملک کو مستقبل کے معاشی اور موسمیاتی بحرانوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں