قتلِ خاموش: لسبیلہ کی عدالت میں درخت، گرمی، پانی اور پرندے گواہ بنے، ماحول نے اپنے تحفظ اور انصاف کی دہائی دے دی۔
خلیل رونجھو
لسبیلہ کی ضلعی عدالت میں آج غیر معمولی گہماگہمی تھی۔ عدالت کے دروازے کھلنے سے پہلے ہی لوگوں کا ہجوم جمع ہو چکا تھا۔
وکیل فائلیں سنبھالے تیزی سے اندر جا رہے تھے۔ صحافی کیمرے اور نوٹ بکس اٹھائے مقدمے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہے تھے۔
ضلعی انتظامیہ، محکمہ جنگلات، محکمہ ماحولیات اور دیگر سرکاری اداروں کے افسران بھی بڑی تعداد میں عدالت پہنچے ہوئے تھے۔ کمرہ عدالت لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔
گرمی شدید تھی۔ بجلی غائب تھی اور پنکھے خاموش تھے۔ جج صاحب بار بار رومال سے ماتھے کا پسینہ صاف کر رہے تھے۔ وکیل اپنے کوٹ اتار چکے تھے جبکہ لوگ ہاتھوں سے ہوا کر رہے تھے۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی بڑے سیاسی رہنما یا اہم مقدمے کی سماعت ہونے والی ہو۔ مگر حیرت یہ تھی کہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ مدعی کون ہے۔
عدالت میں سرگوشیاں جاری تھیں۔ “کیا یہ کرپشن کا مقدمہ ہے”؟
“کیا کسی بڑے افسر کے خلاف کیس ہے؟”
“کوئی اہم حکومتی فیصلہ عدالت میں چیلنج ہوا ہے؟”
اسی دوران عدالت کے دروازے کھلے۔
جج صاحب اپنی نشست پر بیٹھے۔ عدالتی عملے نے خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا۔ پھر ایک آواز گونجی جس نے پورے کمرہ عدالت کو ساکت کر دیا۔
“مقدمہ نمبر 5 جون 2025، مدعی: ایک درخت۔”
چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔ صحافی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ افسران حیران رہ گئے۔
وکیلوں نے اپنی عینکیں درست کیں جبکہ جج صاحب نے فائل کا پہلا صفحہ کھولا۔
یہ کوئی عام مقدمہ نہیں تھا۔ یہ لسبیلہ کے ماحول، درختوں، پانی، پرندوں اور آنے والی نسلوں کا مقدمہ تھا۔
اتفاق سے آج پانچ جون، عالمی یومِ ماحولیات بھی تھا۔ دنیا بھر میں ماحول اور درختوں کے تحفظ کی بات ہو رہی تھی، مگر لسبیلہ میں ماحول خود انصاف مانگنے عدالت پہنچ گیا تھا۔

درخت کی گواہی
درخت کو گواہی کے لیے بلایا گیا۔
وہ آہستہ آہستہ کٹہرے میں آیا اور بوجھل آواز میں بولا
میں نے انسان کو سایہ دیا، ہوا کو صاف کیا، زمین کو ٹھنڈا رکھا اور بارشوں کو سہارا دیا۔ میں نے کبھی بدلہ نہیں مانگا، مگر آج مجھے بے رحمی سے کاٹا جا رہا ہے۔ آخر میرا جرم کیا ہے؟
عدالت میں پھر خاموشی چھا گئی۔
درخت نے جج کی طرف دیکھ کر دوسرا سوال کیا؟
“اگر میرے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے، اگر ادارے موجود ہیں، تو پھر میں روز کیوں کٹ رہا ہوں؟”
پر سوال صرف ایک درخت کا نہیں تھا۔ یہ سوال پورے لسبیلہ کا تھا۔ یہ سوال بیلہ کی پچاس ڈگری گرمی، تباہ کن سیلابوں اور تیزی سے نیچے جاتے زیرِ زمین پانی کا تھا۔
سوال ان شہد کی مکھیوں کا بھی تھا جو تقریباً غائب ہو چکی ہیں۔ ان طوطوں اور کوؤں کا تھا جن کی آوازیں کبھی بیلہ کی پہچان تھیں۔ اور ان پلاسٹک تھیلوں کا تھا جو زمین کا دم گھونٹ رہے ہیں۔

عدالت میں گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی گواہی
عدالت نے پہلا گواہ طلب کیا۔ اس کا نام تھا “شدید گرمی“۔
گرمی کٹہرے میں آئی اور بولی
“میں کبھی لسبیلہ کی پہچان نہیں تھی۔ آج خوف کی علامت بن چکی ہوں۔ درجہ حرارت پچاس ڈگری تک پہنچ رہا ہے۔ مزدور دوپہر میں کام نہیں کر سکتے۔ جانور اور پرندے سایہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور لوگ گھروں میں قید ہو جاتے ہیں۔”
اس نے ایک لمحہ رک کر کہا۔۔۔۔
“جب درخت کم ہوں گے تو میں ہی بڑھوں گی۔”
اگلا گواہ موسمیاتی تبدیلی تھی۔
اس نے عدالت کو بتای:
انسان سمجھتا ہے کہ وہ فطرت سے کھیل سکتا ہے، مگر فطرت ہر عمل کا جواب دیتی ہے۔ “کبھی بارشیں کم ہوتی ہیں اور کبھی اتنی زیادہ کہ بستیاں بہا لے جاتی ہیں”۔
اس نے لسبیلہ کے سیلابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ:
“کبھی لوگ پانی کے ایک قطرے کو ترستے ہیں اور کبھی پانی ان کے گھر اور فصلیں بہا لے جاتا ہے۔”
پھر عدالت نے زیرِ زمین پانی کو طلب کیا۔
وہ کمزور آواز میں بولا
میں صدیوں سے زمین کے اندر محفوظ تھا، مگر اب ہر طرف سولر بورنگ اور گہرے ٹیوب ویلز لگ رہے ہیں۔ پانی نکالا جا رہا ہے مگر واپس زمین میں نہیں پہنچ رہا۔
اس نے آہ بھری اور کہا
میں ہر سال مزید نیچے جا رہا ہوں۔ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے جب بورنگ مشینیں چلتی رہیں گی مگر پانی نہیں نکلے گا۔
شہد کی مکھی، پرندے اور پلاسٹک تھیلا بھی عدالت پہنچ گئے
عدالت میں بے چینی بڑھ گئی۔
پھر ایک شہد کی مکھی گواہی کے لیے آئی۔ وہ کمزور دکھائی دے رہی تھی۔
اس نے کہا
کبھی لسبیلہ کے پہاڑ، جنگلی پھول اور درخت ہماری دنیا تھے۔ ہم پھولوں سے رس جمع کرتے تھے اور خالص شہد بنتا تھا جس کی شہرت دور دور تک تھی۔
اس کی آواز لرز گئی۔
پھر زہریلے اسپرے بڑھ گئے، جنگلی پودے کم ہو گئے اور درخت کاٹے جانے لگے۔ آج ہماری بستیاں اجڑ رہی ہیں اور لسبیلہ کا مشہور شہد نایاب ہوتا جا رہا ہے۔
اس کے بعد ایک طوطا اور ایک کوا کٹہرے میں آئے۔
طوطے نے کہا
“ہم کبھی اس شہر کی پہچان تھے۔”
کوّا بولا
“صبحیں ہماری آوازوں سے جاگتی تھیں۔”
طوطے نے افسردگی سے کہا
“اب درخت کم ہیں، خوراک کم ہے اور ماحول بدل چکا ہے۔”
کوّا بولا
“اسی لیے ہم بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔”
پھر عدالت نے ایک اور گواہ کو بلایا۔ وہ تھا “پلاسٹک کا تھیلا”۔
وہ فخر سے بولا
“میں ہر بازار، ہر دکان اور ہر گھر میں ہوں۔”
اتنے میں زمین چیخ اٹھی
“مگر تم نے میرا دم گھونٹ دیا ہے!”
نالے بول اٹھے:
“تم نے ہمیں بند کر دیا ہے!”
جانوروں نے شکایت کی
“تمہیں کھا کر ہم بیمار ہوتے ہیں!”
کھیتوں نے کہا
“تم نے ہماری زرخیزی کم کر دی ہے۔”
عدالت کا فیصلہ
اب عدالت کو سمجھ آ چکی تھی کہ مسئلہ صرف ایک درخت کا نہیں، پورے ماحول کا مقدمہ ہے۔
ہوا، پانی، زمین، جنگلات، پرندے، جانور اور انسان سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
درخت ایک بار پھر کھڑا ہوا اور بولا
“جب میں کٹتا ہوں تو صرف ایک تنا نہیں گرتا، ایک سایہ گرتا ہے، ایک گھونسلا گرتا ہے، ایک شہد کی مکھی کا گھر گرتا ہے، زمین کی نمی گرتی ہے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل گرتا ہے۔ کیا کسی نے اس نقصان کا حساب رکھا ہے؟”
کمرہ عدالت خاموش تھا۔
پھر ایک بزرگ اٹھے اور بولے
درختوں کے دشمن صرف وہ نہیں جو انہیں کاٹتے ہیں، بلکہ وہ بھی ہیں جو انہیں بچانے کی کوشش نہیں کرتے۔
جج صاحب نے فیصلہ لکھنا شروع کیا۔
چند لمحوں بعد انہوں نے فیصلہ سنایا
یہ مقدمہ کسی ایک شخص یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کے خلاف ہے۔ اگر درخت ختم ہوں گے تو گرمی بڑھے گی، پانی کم ہوگا، سیلاب شدید ہوں گے، شہد کی مکھیاں غائب ہوں گی، پرندے خاموش ہو جائیں گے اور زندگی مشکل ہوتی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں
کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کب سے شروع ہوگی؟
عالمی یومِ بحر 2026: سمندروں کا تحفظ، انسانیت کا تحفظ
پھر جج صاحب نے آخری جملہ لکھا
“درخت کاٹنے سے پہلے یاد رکھو، تم صرف لکڑی نہیں کاٹ رہے بلکہ اپنے بچوں کا مستقبل کاٹ رہے ہو۔”
عدالت برخاست ہو گئی۔ لوگ باہر نکلنے لگے۔ گرمی ویسی ہی تھی۔ سورج ویسا ہی تھا۔
مگر شاید پہلی مرتبہ عدالت سے نکلنے والوں کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہو چکا تھا
اگر لسبیلہ کا آخری درخت بھی کٹ گیا تو اگلا مقدمہ کون لڑے گا؟” اور اس سوال کا جواب کسی فائل، کسی قانون یا کسی عدالت کے پاس نہیں ہوگا۔ وہ جواب صرف ہمارے اعمال میں ہوگا۔
