کلائمیٹ برج فنڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری آبادی کے لیے جدید موافقتی منصوبوں کی درخواستیں طلب کر لیں۔
فروزاں رپورٹ
بنگلہ دیش میں کلائمیٹ برج فنڈ نے رجسٹرڈ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) سے ایسے منصوبوں کی تجاویز طلب کی ہیں، جن کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے باعث بے گھر ہونے والے یا بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار افراد کی شہری علاقوں میں مدد اور موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ فنڈ نومبر 2019 میں بنگلہ دیشی ترقیاتی ادارے بریک نے جرمن حکومت کے تعاون اور کے ایف ڈبلیو ڈیولپمنٹ بینک کی مالی معاونت سے قائم کیا تھا۔ اس کے تحت رجسٹرڈ این جی اوز کو چھوٹے پیمانے کے منصوبوں کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ افراد کی بحالی اور معاونت کی جا سکے۔

منصوبوں کی مدت اور بجٹ
فنڈ کے مطابق مجوزہ منصوبوں کی مدت تین سال ہوگی، جبکہ ان کا بجٹ 50 لاکھ سے 3 کروڑ بنگلہ دیشی ٹکا کے درمیان ہونا چاہیے۔
بنگلہ دیش کے این جی او افیئرز بیورو میں رجسٹرڈ بین الاقوامی این جی اوز بھی درخواست دے سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ مقامی یا قومی این جی اوز کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کردار صرف تکنیکی اور مالی نگرانی تک محدود ہونا چاہیے۔
درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ
دلچسپی رکھنے والی تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پروجیکٹ کانسیپٹ نوٹ مقررہ انگریزی فارمیٹ میں مکمل کرکے 20 اگست 2026 کو رات 11 بج کر 59 منٹ (بی ایس ٹی) تک ای میل کے ذریعے جمع کرائیں۔

موسمیاتی نقل مکانی کا بڑھتا بحران
کلائمیٹ برج فنڈ کے مطابق ہر روز تقریباً 2 ہزار افراد دیہی علاقوں سے ڈھاکا ہجرت کرتے ہیں۔
فنڈ کا اندازہ ہے کہ 2050 تک بنگلہ دیش کے شہروں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ 33 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان میں سے بیشتر افراد غیر رسمی بستیوں میں رہائش اختیار کرتے ہیں، جہاں صحت، روزگار، صاف پانی اور نکاسیٔ آب جیسی بنیادی سہولیات محدود ہیں۔
فنڈ اب تک 26 منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر ایک ارب 38 کروڑ 18 لاکھ 60 ہزار بنگلہ دیشی ٹکا مختص کر چکا ہے۔
مقامی تنظیموں کے لیے فنڈنگ کی اہمیت
کلائمیٹ برج فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین آصف صالح نے کہا کہ مقامی تنظیموں کو اکثر فنڈنگ کے مسائل کا سامنا رہتا ہے، حالانکہ یہی ادارے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ برادریوں کے سب سے قریب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فنڈ مالی خلا کو پُر کرکے مقامی این جی اوز کو ایسے جدید منصوبے شروع کرنے میں مدد دے رہا ہے، جو مستقبل میں عالمی جنوب کے دیگر ممالک کے لیے بھی قابلِ عمل ماڈل بن سکتے ہیں۔
مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت
بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن ایم ڈی لیاقت علی نے کہا کہ بنگلہ دیش جیسے موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ملک میں مختلف اداروں کے مشترکہ تعاون پر مبنی جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق کلائمیٹ برج فنڈ مقامی حکومتوں اور این جی اوز کے درمیان رابطے کو مضبوط بنا رہا ہے۔
کلائمیٹ برج فنڈ کی مشاورتی کمیٹی کے اسپیکر ڈاکٹر عین النشات نے کہا کہ مقامی تنظیموں کی صلاحیت میں اضافہ، مؤثر نگرانی اور جائزے کے نظام کے ساتھ موسمیاتی موافقت کے منصوبوں پر عمل درآمد طویل المدتی لچک اور پائیدار تبدیلی کے لیے ضروری ہے۔
نیوزی لینڈ: حکومتی پالیسیاں موسمیاتی اہداف کے لیے خطرہ بن گئیں، رپورٹ
ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس
فنڈ کے دو مالیاتی پروگرام
فنڈ دو مالیاتی ونڈوز کے تحت کام کرتا ہے۔
کلائمیٹ چینج ونڈو باریشال، کھلنا، راج شاہی، ساتکھیرا اور سراج گنج میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ مہاجرین کی مدد کرتی ہے۔
دوسری جانب ایمرجنسی رسپانس ونڈو کووڈ-19 سے متاثرہ علاقوں میں موسمیاتی مہاجرین اور دیگر کمزور طبقات کی معاونت کرتی ہے۔
فنڈ کے مطابق تمام منصوبے مقامی حکومتوں، سٹی کارپوریشنز، بلدیاتی اداروں اور متاثرہ برادریوں سے مشاورت کے بعد تیار کیے جائیں گے، تاکہ قومی اور مقامی پالیسیوں سے ہم آہنگی، اختراعی موسمیاتی موافقت، صنفی شمولیت اور کمیونٹی کی ملکیت کو فروغ دیا جا سکے۔

