Farozaan

رومانیہ کا پاکستان سے تعاون بڑھانے کا عزم، سفیر کا نیشنل پریس کلب کا دورہ

رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹونیسکو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے عہدیداران اور صحافیوں کے ہمراہ گروپ فوٹو بنوا رہے ہیں۔

رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹونیسکو؛ پاکستان اور رومانیہ کی دوستی کو مضبوط اقتصادی، دفاعی اور تعلیمی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔

اسلام آباد (فرحین العاص بیورو چیف) پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹونیسکو نے پاکستان اور رومانیہ کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، زراعت، تعلیم، تجارت، دفاع اور ثقافتی تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر دیرینہ دوستانہ تعلقات کو ایک مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

رومانیہ کے سفیر نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ کیا ۔اور میٹ دی پریس پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے پریس کلب کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔ نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرازق سیال، سیکریٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکریٹری عابد عباسی اور سینئر صحافیوں نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔

پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات میں تعاون کے وسیع امکانات

نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرازق سیال نے رومانیہ کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ صحافت، تعلیم، تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

نیشنل پریس کلب کے سیکریٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد صحافیوں کی فلاح و بہبود، آزادیٔ صحافت، ذمہ دارانہ صحافت اور بین الاقوامی میڈیا تعلقات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رومانیہ کے سفیر کا دورہ دونوں ممالک کی صحافتی برادریوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے کا اہم موقع ہے۔

پاکستان اور رومانیہ کے سفارتی تعلقات کے 62 سال

میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ڈین سٹونیسکو نے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان 15 اکتوبر 1964 کو سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط یہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور تعمیری تعاون کی بنیاد پر استوار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں رومانیہ نے پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً تیل، سیمنٹ اور کھاد کی صنعتوں میں تکنیکی مہارت اور تعاون فراہم کیا۔ اب قابلِ تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعتی جدت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مشترکہ منصوبوں کے نئے مواقع موجود ہیں۔

سفیر کے مطابق 2024 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 60ویں سالگرہ نے دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے بتایا کہ رومانیہ کی وزیر خارجہ اؤانا سلویا توئیو اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے درمیان 14 اپریل اور 15 جون 2026 کو ٹیلی فونک گفتگو بھی دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کی عکاس ہے۔ ان رابطوں میں سفارت کاری، مذاکرات، تنازعات کے پُرامن حل اور تعاون کے فروغ کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مشاورت کے اگلے دور کی تیاریاں جاری ہیں، جو 2027 میں متوقع ہے۔

دوطرفہ تجارت 156 ملین ڈالر تک پہنچ گئی

ڈاکٹر ڈین سٹونیسکو نے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 156 ملین امریکی ڈالر ہے۔ تاہم یہ دونوں ممالک کی حقیقی اقتصادی صلاحیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن اور وسطی و مشرقی یورپ کے اہم صنعتی و تجارتی مرکز کی حیثیت سے رومانیہ پاکستانی کاروباری اداروں کو یورپی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی صنعتی صلاحیت، کاروباری شعبے اور ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی مہارت رومانیہ کی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے امکانات پیدا کرتی ہے۔

سفیر نے بتایا کہ مارچ 2026 میں پورٹ آف کانسٹانسا اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ جو بحری رابطوں کو مضبوط بنانے، نئی تجارتی راہداریوں کی ترقی
اور جنوبی ایشیا و یورپ کے درمیان تجارت کو آسان بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ڈنمارک کی ماحول دوست ترقی سے پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟

پاکستان کے ساتھ معاشی روابط مزید بہتر ہوسکتے ہیں،ملائیشین ہائی کمشنر

اسی طرح اکتوبر 2025 میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور بخارسٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان مفاہمت کی یادداشت بھی کاروباری تعاون کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے اکتوبر 2026 میں پاکستانی کاروباری وفد کے رومانیہ کے دورے اور بخارسٹ میں پاکستان۔رومانیہ بزنس فورم کے انعقاد کا بھی ذکر کیا۔ اس فورم میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، جہاز رانی، لاجسٹکس، تعلیم اور ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی، جس سے مشترکہ منصوبوں اور طویل مدتی تجارتی شراکت داری کے امکانات پیدا ہوئے۔

پاکستانی ہنرمندوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع

سفیر نے کہا کہ رومانیہ میں پاکستانی شہریوں کی ملازمت اور تعلیمی مواقع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی دونوں معاشروں کے درمیان عوامی روابط کو فروغ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رومانیہ اپنے قومی قوانین اور یورپی یونین کے معیارات کے مطابق قانونی اور منظم نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ پاکستانی ہنرمند پیشہ ور افراد رومانیہ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تعلیم، سائنسی تحقیق اور تکنیکی جدت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپی پروگرامز ایراسمس پلس اور ہورائزن یورپ پاکستانی اور رومانیہ کی جامعات، تحقیقی مراکز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعلیمی شراکت داری، تحقیق اور ادارہ جاتی تبادلوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، قابلِ تجدید توانائی اور پائیدار زراعت مشترکہ تحقیق اور ترقی کے لیے اہم شعبے ہیں۔

پاکستان و رومانیہ کے درمیان آئی ٹی تعاون میں پیش رفت

ڈاکٹر ڈین سٹونیسکو نے بتایا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان پہلا آئی ٹی فورم 20 نومبر 2025 کو آن لائن منعقد ہوا تھا۔ یہ فورم رومانیہ کے سفارت خانے اسلام آباد نے پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) اور رومانیہ کی سافٹ ویئر انڈسٹری ایسوسی ایشن (این آئی ایس) کے اشتراک سے منعقد کیا۔

فورم میں دونوں ممالک کی 100 سے زائد آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، مالیاتی ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور آئی ٹی خدمات کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

سفیر نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فورم کے ذریعے قائم ہونے والے روابط کو مشترکہ منصوبوں، تجارتی معاہدوں اور طویل مدتی کاروباری شراکت داریوں میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے ٹیکنالوجی کے شعبے ایک دوسرے کی مہارت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط کا فروغ

رومانیہ کے سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے جاری اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل 2026 میں پاکستان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ تصویری نمائش میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کی تاریخ کے اہم لمحات پیش کیے گئے۔

میڈیا، نوجوانوں اور سائنسی تحقیق میں تعاون کی تجاویز

ڈاکٹر سٹونیسکو نے کہا کہ دونوں ممالک تعلیم، سائنس، ثقافت، میڈیا، نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون کے لیے مزید اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

مجوزہ اقدامات میں رومانیہ کے ڈپلومیٹک انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی، ریڈیو رومانیہ اور ریڈیو پاکستان، نیز دونوں ممالک کی قومی لائبریریوں کے درمیان تعاون شامل ہے۔

انہوں نے پاکستان میں رومانیہ کے اعزازی قونصل خانوں کے کردار کو بھی سراہا۔ جو علاقائی سطح پر اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور تعلیمی روابط کے فروغ میں معاون ہیں۔ رومانیہ کے پشاور میں اعزازی قونصل موجود ہیں۔ کراچی میں اعزازی قونصل نامزد کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ لاہور میں نئے اعزازی قونصل کی منظوری کا انتظار ہے۔

پاکستان رومانیہ کے لیے جنوبی ایشیا میں اہم شراکت دار

اپنے خطاب کے اختتام پر رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ رومانیہ پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے شعبوں میں ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سفارتی تعلقات کے دوران قائم ہونے والا باہمی اعتماد، تجربہ اور خیرسگالی دونوں ممالک کے درمیان زیادہ متحرک اور نتیجہ خیز شراکت داری کی مضبوط بنیاد ثابت ہوں گے۔ جو دونوں ممالک کی خوشحالی، امن اور استحکام میں معاون ہو سکتی ہے۔

نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرازق سیال اور سیکریٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے امید ظاہر کی کہ رومانیہ کے سفیر کا دورہ پاکستان اور رومانیہ کے صحافیوں کے درمیان پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کی میڈیا برادریوں کے درمیان تعاون کے نئے راستے کھولنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں