Articles • Environmental Reports • Farozaan

سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس 2026، 3 اور 4 نومبر کو کراچی میں ہوگی

سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس 2026، کراچی میں صاف توانائی، موسمیاتی انصاف اور سولر پینلز کی قیمتوں پر اہم گفتگو ہوگی۔

پاکستان میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ایسا نظام اپنانا بھی ضروری ہے جو فضائی آلودگی کم کرے، ماحول کو تحفظ دے اور عام لوگوں کی استطاعت میں ہو۔ سورج اور ہوا جیسے مقامی وسائل سے حاصل ہونے والی صاف توانائی اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم اس تبدیلی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے فوائد بجلی سے محروم دیہات، کم آمدنی والے گھرانوں اور موسمیاتی اثرات سے متاثرہ آبادیوں تک بھی پہنچیں۔

انہی ضروریات پر مشترکہ لاءئحہ عمل کی تیاری کے لیے ”سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس“ 3 اور 4 نومبر 2026 کو منعقد ہوگی۔ سات اداروں کے اشتراک سے ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس میں حکومتی نمائندوں، ماہرین، صنعت، محققین، صحافیوں اور متاثرہ برادریوں کو یکجا کیا جائے گا تاکہ سندھ کے توانائی اور موسمیاتی مستقبل کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس 2026 میں صاف توانائی اور موسمیاتی انصاف

کراچی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کلائمیٹ ایکشن سینٹر کراچی کے ڈائریکٹر یاسر دریا، سینئر صحافی آفاق بھٹی، دی نالج فورم کی زینیا شوکت اور پاکستان ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اینڈ ڈیولپمنٹ (PRIED) کی مہوش لغاری نے کانفرنس کی تفصیلات بیان کیں۔کانفرنس کا اہتمام ساتھ، جس کا سابق نام سی ایس آئی ڈی سی تھا، کلائمیٹ ایکشن سینٹر کراچی، سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام، پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، دی نالج فورم، انڈس کنسورشیم اور پرائیڈ مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔

منتظمین کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دوسرے روز کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ توانائی، موسمیاتی تبدیلی اور محنت سمیت متعلقہ شعبوں کے حکومتی نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ سندھ کے مختلف علاقوں، خصوصاً بجلی سے محروم آبادیوں کے نمائندوں کو بھی گفتگو میں شامل کیا جائے گا۔

سندھ کی ضروریات کے مطابق توانائی کی منصوبہ بندی

سی اے سی کے ڈائریکٹر اور معروف ماہر ماحولیات یاسر دریا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے توانائی اور موسمیاتی مستقبل پر صوبے کی اپنی ضروریات اور مقامی آبادی کے نقطہ نظر سے گفتگو ہونی چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ توانائی سے متعلق ذمہ داریاں مختلف وزارتوں اور دفاتر میں تقسیم ہیں، لیکن صوبے کی مجموعی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے مربوط کوششوں کی کمی ہے۔

سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس 2026 میں صاف توانائی اور موسمیاتی انصاف
سندھ میں صاف توانائی، موسمیاتی انصاف اور مقامی آبادیوں کو توانائی کی سہولتوں کی فراہمی پر دو روزہ کانفرنس۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی توانائی کی ضروریات بڑھیں گی، اس لیے حکومت کو آئندہ 20 سے 25 برس کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

کانفرنس میں اس سوال پر بھی غور کیا جائے گا کہ صوبے کی توانائی پالیسی کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں اور ان پر عمل درآمد کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس ترقی کے فوائد مقامی آبادیوں تک کیوں نہیں پہنچ رہے۔

انہوں نے زور دیا کہ توانائی کی منصوبہ بندی میں مقامی برادریوں کو شریک کیا جائے تاکہ کوئی طبقہ پیچھے نہ رہ جائے۔

موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل کے حوالے سے ماہر ماحولیات یاسر دریا نے کہا کہ یہ شکایت موجود ہے کہ صوبائی حکومت کو دستیاب وسائل کراچی سمیت سندھ کے دوسرے شہروں میں مقامی سطح تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچتے۔ کانفرنس میں ان وسائل کی مقامی سطح تک رسائی اور استعمال پر بھی گفتگو ہوگی۔

چھ اہم موضوعات پر گفتگو

منتظمین کے مطابق کانفرنس کے چھ اہم موضوعات توانائی تک رسائی اور موسمیاتی انصاف، توانائی کے انتظام میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، فوسل ایندھن پر انحصار میں کمی، ہوا اور سورج سے توانائی کا حصول، اخراج سے پاک ٹرانسپورٹ اور موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل درکار ہوں گے۔

دو روز کے دوران 10 نشستیں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر توانائی کے ضابطہ کار اداروں کے تعلق، مقامی ضروریات کے مطابق فیصلوں اور صاف توانائی کی جانب منتقلی میں حائل رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر سی اے سی یاسر دریا کے مطابق کانفرنس میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے شعبے کو وسعت دینے میں حائل مشکلات کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ موسمِ گرما کے لیے شدید گرمی سے بچاؤ کا منصوبہ بھی پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا کے امیر ترین افراد کا کاربن اخراج، نصف انسانیت سے بھی زیادہ

پاکستان میں فضائی آلودگی، زندگی کے 3.9 سال کم

دیہی آبادی کے لیے سولر پینلز کی قیمت کا مسئلہ

پرائیڈ کی مہوش لغاری نے کہا کہ دیہات میں بعض گھرانوں کو قسطوں پر سولر پینلز عام قیمت سے تقریباً تین گنا تک مہنگے خریدنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بجلی کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے دیہی آبادی کو ایسے مہنگے انتظامات پر انحصار کیوں کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ایک یا دو سولر پینلز خریدنے کے لیے اپنے زیورات فروخت کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے رعایتی نرخوں پر سولر پینلز کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کانفرنس میں یہ مسئلہ بھی اٹھایا جائے گا۔

کوئلے پر انحصار اور مالی وسائل کی مقامی سطح تک رسائی

دی نالج فورم کی زینیا شوکت نے کوئلے پر انحصار کو پاکستان میں صاف توانائی کی جانب منتقلی کی ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے سے توانائی پیدا کرنے میں سندھ کی اہم حیثیت کے باعث صوبے کے فیصلے ملک کے مستقبل کے توانائی نظام پر نمایاں اثر ڈالیں گے۔

کانفرنس میں ثقافت اور موسمیاتی مسائل کے تعلق کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ پہلے روز کے اختتام کے قریب سندھی ادب اور موسمیاتی موضوعات پر نشست ہوگی، جبکہ دوسرے روز تھرپارکر کے موسیقار اپنے فن کے ذریعے موسمیاتی مشکلات کا سامنا کرنے سے متعلق سندھ کے ثقافتی تجربات پیش کریں گے۔

منتظمین نے ذرائع ابلاغ کو کانفرنس میں شرکت اور رپورٹنگ کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع کا مقصد سندھ کے توانائی اور موسمیاتی مستقبل کے لیے مشترکہ ترجیحات اور عملی راستہ طے کرنا ہے۔

سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس 2026 میں صاف توانائی اور موسمیاتی انصاف
صاف توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مؤثر پالیسی اور مقامی سطح پر وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں