Environmental News Farozaan

یورپ کے بعد امریکا میں بھی گرمی کا ریڈ الرٹ

After Europe, the US Also Issues Red Heat Alert

امریکی محکمہ موسمیات نے کئی ریاستوں میں شدید گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کر دیا، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

امریکی قومی محکمہ موسمیات نے وسطی اور مشرقی ریاستوں میں رواں ہفتے درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق گرمی کی یہ لہر کئی روز تک برقرار رہے گی۔ آئندہ جمعہ کو، جب یومِ آزادی کی طویل تعطیلات کا آغاز ہوگا، گرمی اپنے عروج پر ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹس کے مطابق منگل سے ہفتے تک درجنوں شہروں میں روزانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں یا ان کی برابری ہو سکتی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں شدید گرمی کو سب سے جان لیوا موسمی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

شدید گرمی سب سے جان لیوا موسمی خطرہ

امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں شدید گرمی کو سب سے جان لیوا موسمی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال گرمی سے ہونے والی اموات کی اوسط تعداد بگولوں، سمندری طوفانوں اور آسمانی بجلی سے ہونے والی مجموعی اموات سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مغربی امریکا کے وسیع علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔

دوسری جانب یورپ میں ہیٹ ویو سے ایک ہفتے کے دوران 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

یورپ میں ہیٹ ویو برقرار، 1300 سے زائد اموات

دوسری جانب یورپ میں ہیٹ ویو سے ایک ہفتے کے دوران 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

فرانس میں تقریباً ایک ہزار جبکہ اسپین میں 325 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اٹلی میں آج شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت کئی یورپی ممالک میں ریلوے سروسز بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ یورپ بھر میں ہیٹ ویو مزید ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں

دیامر میں آسمانی بجلی کے بعد تباہ کن سیلاب

یومِ عاشورہ: گلگت میں گرین عاشورہ مہم، 500 پودے مفت تقسیم

عالمی ادارہ صحت کی تشویش

مطابق یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے اور اس وقت تقریباً 15 کروڑ افراد شدید گرمی کی زد میں ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ کا بنیادی ڈھانچہ اتنی شدید گرمی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔

ادارے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث وہ شدید گرمی کی لہریں، جو پہلے کئی دہائیوں میں ایک بار آتی تھیں، اب تقریباً ہر سال آنے لگی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں