Farozaan

لسبیلہ میں کلائمیٹ ایکشن مہمات، شجرکاری اور آگاہی تقریبات کا بھرپور انعقاد

لسبیلہ میں عالمی یومِ ماحولیات پر سیمینارز، شجرکاری مہمات اور آگاہی تقریبات، کلائمیٹ ایکشن اور ماحولیاتی تحفظ پر زور دیا گیا

عالمی یومِ ماحولیات صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک عالمی احساس اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ دن ہر سال 5 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد زمین، قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

آج کے دور میں ماحولیاتی مسائل ایک سنگین حقیقت بن چکے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیاں، سیلاب، خشک سالی اور جنگلات کی کمی انسانی زندگی کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ اسی لیے کلائمیٹ ایکشن (موسمیاتی اقدام) کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان اور خاص طور پر ضلع لسبیلہ میں بھی عالمی یومِ ماحولیات بھرپور انداز میں منایا گیا۔

پاکستان اور لسبیلہ میں تقریبات

دنیا بھر کی طرح پاکستان اور خاص طور پر ضلع لسبیلہ میں بھی عالمی یومِ ماحولیات بھرپور انداز میں منایا گیا۔ مختلف سرکاری، سماجی اور غیر سرکاری اداروں نے آگاہی تقریبات، سیمینارز اور شجرکاری مہمات کا انعقاد کیا۔

ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنا اور کلائمیٹ ایکشن کو عملی تحریک کے طور پر فروغ دینا تھا۔

سیمینار میں ماہرینِ ماحولیات، سرکاری افسران، اساتذہ، نوجوانوں اور سماجی کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تاریخی شہر بیلہ میں مرکزی سیمینار

تاریخی شہر بیلہ میں سماجی تنظیم “وانگ” کے زیرِ اہتمام کاکاز گارڈن میں ایک پروقار سیمینار منعقد ہوا۔ یہ مقام لسبیلہ میں ماحولیاتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔

سیمینار میں ماہرینِ ماحولیات، سرکاری افسران، اساتذہ، نوجوانوں اور سماجی کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مقررین میں ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر سید شاہ نادر علی شاہ، پروفیسر ڈاکٹر عبدالحکیم بندیچہ، اسسٹنٹ کنزرویٹر وائلڈ لائف زاہد رونجھو، عبدالقادر رونجھو، خلیل رونجھو، عتیق بلوچ، ایم عیسیٰ رونجھو، ایم بی کھوسہ، کامران عمر، منیر احمد اور دیگر شامل تھے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے اثرات واضح ہو رہے ہیں۔

ماحولیاتی بحران پر تشویش

مقررین نے کہا کہ ماحولیاتی بحران آج کا سب سے بڑا عالمی چیلنج ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے اثرات واضح ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر متوقع بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور زرعی زمینوں کی تباہی اس بحران کی بڑی مثالیں ہیں۔ کلائمیٹ ایکشن اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔

اس تنظیم کے بانی محمد عظیم رونجھو مرحوم نے شجرکاری کے فروغ اور جنگلات کی کٹائی کے خلاف اہم جدوجہد کی، جس نے ایک مضبوط ماحولیاتی تحریک کی بنیاد رکھی۔

وانگ تنظیم کا کردار

وانگ لسبیلہ کی ایک معروف سماجی تنظیم ہے جو تین دہائیوں سے سماجی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔

اس تنظیم کے بانی محمد عظیم رونجھو مرحوم نے شجرکاری کے فروغ اور جنگلات کی کٹائی کے خلاف اہم جدوجہد کی، جس نے ایک مضبوط ماحولیاتی تحریک کی بنیاد رکھی۔

2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد تنظیم مزید فعال ہوئی۔ برٹش کونسل اور کینیڈین فنڈز کے تعاون سے کئی ماحول دوست منصوبے مکمل کیے گئے۔

اس موقع پر ماحولیاتی تبدیلیوں، آلودگی اور کمیونٹی شمولیت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

کاکاز گارڈن: عملی ماحولیاتی ماڈل

کاکاز گارڈن کو لسبیلہ میں ایک زندہ ماحولیاتی ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ انجینئر عبدالقادر رونجھو کی نگرانی میں ترقی پا رہا ہے۔

یہ گارڈن نہ صرف ایک خوبصورت سبز مقام ہے بلکہ یہ نوجوانوں میں درخت لگانے اور ماحول دوستی کا عملی شعور بھی پیدا کرتا ہے۔

یہاں آنے والے افراد سیکھتے ہیں کہ کلائمیٹ ایکشن صرف باتوں تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے۔

دیگر اداروں کی سرگرمیاں

نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (این آر ایس پی) نے وانگ لیب آف انوویشن بیلہ میں آگاہی سیمینار منعقد کیا۔ اس موقع پر ماحولیاتی تبدیلیوں، آلودگی اور کمیونٹی شمولیت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

مقررین نے کہا کہ شجرکاری اور ماحول دوست سرگرمیوں سے موسمیاتی اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ این آر ایس پی نے مختلف منصوبوں پر بریفنگ بھی دی۔

گرین لسبیلہ منصوبہ

جام محمد فاؤنڈیشن کے تحت ریسٹ ہاؤس بیلہ میں گرین لسبیلہ منصوبے پر تقریب منعقد ہوئی۔

مقررین نے ضلع کو سرسبز بنانے، شجرکاری بڑھانے اور پودوں کی بہتر دیکھ بھال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بہتری کے لیے اجتماعی کردار ضروری ہے۔

اوتھل میں کلائمیٹ سیمینار

اوتھل میں بی آر ایس پی کے زیر اہتمام اور پی پی اے ایف کے تعاون سے سرکٹ ہاؤس میں اہم سیمینار منعقد ہوا۔

مقررین نے خواتین، بچوں اور عام شہریوں کو درپیش ماحولیاتی مسائل پر روشنی ڈالی۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی اور فوری کلائمیٹ ایکشن کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

تقریب کے اختتام پر شجرکاری مہم کا آغاز بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

بارش الرٹ: کن شہروں میں طوفانی بارش ہوگی؟
قتلِ خاموش: لسبیلہ کی عدالت میں ماحول نے انصاف مانگ لیا

نتیجہ

مجموعی طور پر لسبیلہ میں عالمی یومِ ماحولیات کی سرگرمیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ ماحولیاتی شعور اب ایک اجتماعی تحریک بن چکا ہے۔

وانگ اور دیگر اداروں کی کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ اگر عزم مضبوط ہو تو مقامی سطح پر بھی بڑا ماحولیاتی اثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔

شجرکاری اور آگاہی مہمات مستقبل کے لیے ایک سرسبز اور محفوظ ماحول کی ضمانت ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو لسبیلہ کلائمیٹ ایکشن کا ایک عملی ماڈل بن سکتا ہے۔

admin

Recent Posts

پاکستان میں فضائی آلودگی، زندگی کے 3.9 سال کم

پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…

10 hours ago

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…

1 day ago

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…

2 days ago

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…

3 days ago

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…

4 days ago

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

4 days ago

This website uses cookies.