فروزاں رپورٹ
اس ہفتے کی عالمی ماحولیاتی اور معاشی رپورٹ میں کئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ برازیل نے اسٹاک مارکیٹ میں درج کمپنیوں کے لیے لازمی سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ (پائیداری رپورٹنگ) کے قواعد واپس لے لیے ہیں۔ دوسری جانب یورپ کا روس اور امریکا سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پر بڑھتا ہوا انحصار عالمی توانائی سلامتی کے لیے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اندرونی رپورٹ میں ماحولیاتی پالیسیوں سے متعلق نمایاں خامیاں بھی سامنے آئی ہیں۔
برازیل کی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (سی وی ایم) نے وہ قوانین واپس لے لیے ہیں جن کے تحت کمپنیوں کے لیے ماحولیاتی رپورٹنگ لازمی تھی۔
اب جو کمپنیاں ماحولیاتی مالی معلومات ظاہر کریں گی، انہیں انٹرنیشنل سسٹین ایبلٹی اسٹینڈرڈز بورڈ (آئی ایس ایس بی) کے معیار پر عمل کرنا ہوگا۔ جبکہ جو کمپنیاں رپورٹ نہیں کریں گی، انہیں “کمپلی یا وضاحت کرو” کے اصول کے تحت مارکیٹ کو آگاہ کرنا ہوگا۔
حکام کے مطابق یہ اقدام رضاکارانہ نظام کو فروغ دینے اور شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ماحولیاتی خطرات کے ڈیٹا میں خلا مزید بڑھ سکتا ہے۔
برطانیہ کے کنفیڈریشن آف برٹش انڈسٹری (سی بی آئی) کے مطابق ملک کی نٹ زیرو معیشت سالانہ 100 ارب پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہے اور 10 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صاف توانائی، ونڈ انرجی، سولر سسٹمز اور برقی گاڑیاں معیشت کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ اوسط آمدن 43 ہزار پاؤنڈ سالانہ سے زیادہ ہے، جو قومی اوسط سے بلند ہے۔
ماہرین کے مطابق برطانیہ میں توانائی کی تبدیلی اب معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن چکی ہے، نہ کہ محض ایک اخراجاتی بوجھ۔
ایران میں جاری جنگ نے یورپ کی توانائی انحصار کی کمزوری کو واضح کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپ اب بھی بنیادی طور پر امریکا اور روسی ایل این جی پر انحصار کر رہا ہے۔
یورپی یونین کی ایل این جی درآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم امریکا کا حصہ 60 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ روس سے درآمدات میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف سپلائی کے ذرائع تبدیل کرنا توانائی تحفظ کے لیے کافی نہیں، بلکہ مجموعی گیس طلب میں کمی بھی ضروری ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق جب بینک آف انگلینڈ نے بانڈ خریداری پروگرام میں ماحولیاتی معیار کو ترجیح دی تو اس سے ان کمپنیوں کے قرضے سستے ہو گئے جن کے پاس واضح ماحولیاتی اہداف موجود تھے۔
مطالعے میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ نے قابلِ تصدیق ماحولیاتی اقدامات پر مثبت ردعمل دیا، جس سے فنانسنگ لاگت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
آئی ایم ایف کی اندرونی جائزہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ادارے کی ماحولیاتی پالیسی میں نمایاں خلا موجود ہیں، خصوصاً قرضوں اور پیرس معاہدے کے درمیان ہم آہنگی کی کمی۔
رپورٹ کے مطابق بعض مالیاتی پروگرام ایسے ممالک کی مدد کر رہے ہیں جو اب بھی فوسل فیولز پر انحصار کرتے ہیں، جس پر ماہرین نے سخت تنقید کی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو سخت مالیاتی پالیسی کے بجائے ماحولیاتی لچک پر مبنی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
افریقی ترقیاتی بینک (اے ایف ڈی بی) نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نئی اصلاحاتی حکمت عملی منظور کی ہے۔
اس اجلاس میں 3 ارب ڈالر سے زائد کے منصوبے منظور کیے گئے جن میں کانگو بیسن بلیو فنڈ اور توانائی تک رسائی کے منصوبے شامل ہیں۔
اس اجلاس میں 3 ارب ڈالر سے زائد کے منصوبے منظور کیے گئے جن میں کانگو بیسن بلیو فنڈ اور توانائی تک رسائی کے منصوبے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
لسبیلہ میں کلائمیٹ ایکشن مہمات، شجرکاری اور آگاہی تقریبات کا بھرپور انعقاد
موسمیاتی تعاون پر پاکستان اور اسپین کی اہم ملاقات
بارش الرٹ: کن شہروں میں طوفانی بارش ہوگی؟
تحقیقی رپورٹس کے مطابق موسمیاتی تبدیلی 2050 تک عالمی جی ڈی پی کو 3 سے 15 فیصد تک کم کر سکتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے ممالک پہلے ہی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ماحولیاتی موافقت (ایڈاپٹیشن) پر خرچ کیا گیا ہر 1 ڈالر اوسطاً 4 ڈالر کا معاشی فائدہ دیتا ہے۔
بارش تباہی: پی ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور فلیش فلڈ کے خدشے…
لسبیلہ میں عالمی یومِ ماحولیات پر سیمینارز، شجرکاری مہمات اور آگاہی تقریبات، کلائمیٹ ایکشن اور…
پاکستا اور اسپین کے درمیان موسمیاتی تبدیلی، سندھ طاس معاہدہ، قابلِ تجدید توانائی اور گرین…
بارش الرٹ: پنجاب، کے پی، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہوائیں، موسلا دھار بارش…
بجٹ 2026-27 کو صرف مالی اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار اور…
قتلِ خاموش: لسبیلہ کی عدالت میں درخت، گرمی، پانی اور پرندے گواہ بنے، ماحول نے…
This website uses cookies.