Environmental Reports

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی اور تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے ‘‘ایس ایم ای گرین ٹرانزیشن ٹول کٹ’’ متعارف کرا دی۔ اس کا مقصد مالیاتی اداروں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ ٹیکسٹائل کے کاروباروں کو کم آلودگی والے اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی طریقے اپنانے میں مدد فراہم کر سکیں۔

پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ مجموعی ملکی پیداوار میں تقریباً 8.5 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور ملک کی مجموعی افرادی قوت کے تقریباً 40 فیصد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ مالی سال 2025 میں اس شعبے نے برآمدات سے 17.88 ارب امریکی ڈالر کمائے۔ عالمی منڈیوں میں، بالخصوص برآمدی صنعتوں کے لیے، ماحولیاتی تقاضوں میں مسلسل تبدیلی کے باعث ٹیکسٹائل کے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے تکنیکی معاونت اور موزوں مالی وسائل تک رسائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت ہے۔

مالیاتی ادارے اس ٹول کٹ کے ذریعے کاربن کے اخراج کی شدت کی وزنی اوسط اور فی یونٹ پیداوار میں توانائی کی کھپت کا جائزہ لے سکیں گے۔

اسٹیٹ بینک کے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں، ہاؤسنگ اور پائیدار مالیات کے شعبے اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے مشترکہ طور پر یہ ٹول کٹ تیار کی ہے۔ یہ ٹول کٹ پاکستان میں ماحول دوست معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کو ایک ایسے عملی طریقۂ کار میں ڈھالتی ہے، جسے بینک ٹیکسٹائل کے کاروباری صارفین کے ساتھ کام کرتے ہوئے استعمال کر سکتے ہیں۔

مالیاتی ادارے اس ٹول کٹ کے ذریعے کاربن کے اخراج کی شدت کی وزنی اوسط اور فی یونٹ پیداوار میں توانائی کی کھپت کا جائزہ لے سکیں گے۔
اس سے شمسی توانائی کے استعمال، ضائع ہونے والی حرارت کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے اور ایندھن کی تبدیلی جیسے موزوں ماحول دوست اقدامات کی نشاندہی میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ، اس کے ساتھ فراہم کردہ مائیکروسافٹ ایکسل پر مبنی حسابی نظام کے ذریعے قابلِ عمل مالی منصوبے بھی تیار کیے جا سکیں گے۔

پائیداری کے معیارات پورے کرنے کی ان کی صلاحیت اس شعبے کی مسابقت کا تعین کرے گی۔

ٹیکسٹائل پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے، جس میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار براہِ راست اور بڑے کاروباروں کی رسدی زنجیروں کے ذریعے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

پائیداری کے معیارات پورے کرنے کی ان کی صلاحیت اس شعبے کی مسابقت کا تعین کرے گی۔ توانائی کے مؤثر استعمال، پانی کی کھپت میں کمی اور کم آلودگی والے پیداواری طریقے اپنانے سے یہ کاروبار اپنے اخراجات کم کر سکتے ہیں، منڈیوں تک رسائی برقرار رکھ سکتے ہیں اور مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ بینکوں کے شعبہ وار قرضوں میں ٹیکسٹائل کا حصہ سب سے زیادہ ہے، اس لیے اس شعبے کی ماحول دوست تبدیلی ان کے قرضوں کے معیار کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی اہم ہے۔ ایس ایم ای گرین ٹرانزیشن ٹول کٹ ان ماحولیاتی بہتریوں کو کاروباری مسابقت اور قابلِ عمل مالی معاونت کے مواقع سے جوڑنے کے لیے ایک عملینقطہآغاز فراہم کرتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ ایس ایم ای گرین ٹرانزیشن ٹول کٹ کا اجرا ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان بہترین اشتراک کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک ضابطہ ساز ادارہ اور تحفظِ ماحول کی تنظیم مل کر کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارا اگلا قدم اس طریقہکار کو مالی معاونت کی عملی شکل دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک، بینکوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہم ٹیکسٹائل کی ماحول دوست تبدیلی کے لیے ایک مالی سہولت کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔ اس میں رعایتی قرضوں اور مالی خطرات میں شراکت کے ذریعے پاکستان گرین ٹیکسانومی کو ٹیکسٹائل کے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے حقیقی قرضوں میں تبدیل کرنے اور اس کا دائرہ کپاس کی پائیدار کاشت تک بڑھانے پر کام کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

یہ ٹول کٹ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ایک مشترکہ طریقہکار فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ ٹیکسٹائل کے شعبے کو قرض دیتے وقت گرین ٹیکسانومی کے مطابق جانچ کو اپنے فیصلوں کا حصہ بنا سکیں۔ ماحولیاتی کارکردگی کو مالی معاونت کے عملی راستوں سے جوڑ کر اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی منڈیوں میں ٹیکسٹائل کے شعبے کی مسابقت کو فروغ دینا اور پاکستان کے وسیع تر موسمیاتی اور پائیدار مالیات کے اہداف میں حصہ ڈالنا ہے۔

افتتاحی تقریب میں حکومت، مالیاتی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ٹول کٹ کے استعمال کا عملی اور تکنیکی طریقہ بھی پیش کیا گیا۔ اجرا کے بعد توقع ہے کہ بینک ٹیکسٹائل کے کاروباری صارفین کے ساتھ اس کا آزمائشی استعمال شروع کریں گے، جبکہ پورے شعبے میں اسے وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے مزید رہنمائی اور تربیت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔

admin

Recent Posts

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

7 hours ago

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

2 days ago

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…

2 days ago

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…

3 days ago

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…

3 days ago

پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات

پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…

4 days ago

This website uses cookies.