Environmental Reports

پاکستان میں فضائی آلودگی، زندگی کے 3.9 سال کم

پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات سال تک کم، ٹرانسپورٹ اور صنعتیں بڑے ذرائع

اسلام آباد : پاکستان میں فضائی آلودگی انسانی صحت اور زندگی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ آلودہ ہوا کے باعث شہریوں کی اوسط متوقع عمر میں 3.9 سال تک کمی کا انکشاف ہوا ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار افراد فضائی آلودگی سے منسلک وجوہات کے باعث قبل از وقت موت کا شکار ہوتے ہیں۔

فضائی آلودگی کے اثرات صرف انسانی صحت تک محدود نہیں۔ اس کے باعث ملک کی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کو تقریباً 6.5 فیصد تک متاثر کر سکتی ہے۔

یہ اعداد و شمار شہر میں آلودگی کم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

لاہور میں شہریوں کی عمر سات سال تک کم ہونے کا خدشہ

پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ لاہور میں آلودہ ہوا کے باعث شہریوں کی متوقع عمر میں سات سال تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شہر میں ٹرانسپورٹ، صنعتی سرگرمیوں اور اینٹوں کے بھٹوں سے خارج ہونے والا دھواں فضائی آلودگی کے اہم ذرائع میں شامل ہے۔

رپورٹ میں لاہور کی فضائی آلودگی میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 35 فیصد، صنعتوں کا 28 فیصد اور اینٹوں کے بھٹوں کا 17 فیصد بتایا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار شہر میں آلودگی کم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

صنعتی اخراج، ایندھن کا استعمال اور شہری سرگرمیاں ہوا کے معیار کو متاثر کرتی ہیں۔

کراچی میں صنعتیں آلودگی کا بڑا ذریعہ

کراچی میں صنعتی سرگرمیاں فضائی آلودگی کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہر کی فضائی آلودگی میں صنعتوں کا حصہ 49 فیصد بتایا گیا ہے۔

صنعتی اخراج، ایندھن کا استعمال اور شہری سرگرمیاں ہوا کے معیار کو متاثر کرتی ہیں۔ اس صورتحال سے شہریوں کو سانس اور دیگر صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آلودگی پر قابو پانے کے لیے صنعتی اخراج کی نگرانی اور صاف ٹیکنالوجی کے استعمال کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور ایندھن کا استعمال شہری فضائی معیار کو متاثر کرتا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹرانسپورٹ کا دباؤ

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹرانسپورٹ فضائی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں شہروں میں آلودگی کے مجموعی ذرائع میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 53 فیصد ہے۔

گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور ایندھن کا استعمال شہری فضائی معیار کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے گاڑیوں کے اخراج کو کنٹرول کرنے، پبلک ٹرانسپورٹ بہتر بنانے اور ماحول دوست سفری ذرائع کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

پی ایم 2.5 کی خطرناک سطح

فضائی آلودگی میں پی ایم 2.5 کے ذرات انسانی صحت کے لیے خاص طور پر نقصان دہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ انتہائی باریک ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہو سکتے ہیں اور صحت کے سنگین مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان میں پی ایم 2.5 کی سطح تقریباً 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر بتائی گئی ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ سالانہ اوسط حد 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے۔ اس تقابل سے فضائی آلودگی کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔

بیماریوں کے علاج، کام کرنے کی صلاحیت میں کمی اور پیداواری سرگرمیوں کے متاثر ہونے سے معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

فضائی آلودگی سے معیشت اور انسانی صحت متاثر

فضائی آلودگی کے باعث قبل از وقت اموات میں اضافے کے ساتھ صحت کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے۔ بیماریوں کے علاج، کام کرنے کی صلاحیت میں کمی اور پیداواری سرگرمیوں کے متاثر ہونے سے معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی سے ہونے والا معاشی نقصان مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 6.5 فیصد کے برابر بتایا گیا ہے۔ اس لیے فضائی آلودگی پر قابو پانا صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ صحت عامہ اور معاشی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور

ماہرین کی جانب سے فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے جو ایک ہی وقت میں متعدد شہروں اور علاقوں میں آلودگی کے ذرائع کو کنٹرول کر سکیں۔

فضائی آلودگی میں کمی کے لیے ٹرانسپورٹ اور صنعتوں سے خارج ہونے والے دھویں پر قابو پانا، صاف ایندھن استعمال کرنا، اینٹوں کے بھٹوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا اور فضائی معیار کی مسلسل نگرانی اہم اقدامات ہیں۔

اس کے علاوہ فضائی آلودگی کو صرف شہر یا ضلع کی حدود تک محدود مسئلہ سمجھنے کے بجائے وسیع فضائی خطوں کی بنیاد پر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طریقے سے مختلف علاقوں میں آلودگی کے مشترکہ ذرائع کی نشاندہی اور ان پر مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسیوں، اداروں کے درمیان تعاون اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ شہریوں کی صحت کا تحفظ کیا جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا یقینی بنائی جا سکے۔

admin

Recent Posts

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…

1 day ago

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…

2 days ago

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…

3 days ago

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…

4 days ago

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

4 days ago

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

6 days ago

This website uses cookies.